ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ آپریشن شروع کرنے کا مقصد سرحد پر دہشت گردی کی کارروائیوں کی روک تھام ہے۔

راجگال سے دہشت گردوں کا صفایا کرنے کیلئے آپریشن خیبر فور شروع
16 جولائی 2017 (18:39)
0

پاک فوج نے آج پاک افغان سرحد پر خیبر ایجنسی کی وادی راجگال سے دہشتگردوں کا صفایا کرنے کیلئے آپریشن خیبر فور شروع کیا ۔
یہ اعلان اتوار کے روز راولپنڈی میں فوج کے شعبہ تعلقات عامہ کے ڈائریکٹر جنرل میجر جنرل آصف غفور نے ایک نیوز کانفرنس میں کیا۔
انہوں نے کہا کہ دولت اسلامیہ نے افغانستان میں اپنا اثر ورسوخ بڑھا لیا ہے اور آپریشن خیبر فور شروع کرنے کا مقصد ان کی جانب سے ہماری سرحد پر دہشتگردی کی کارروائیوں کی روک تھام ہے۔ انہوں نے کہا کہ افغانستان کے ساتھ بین الاقوامی سرحد مکمل طور پر محفوظ ہے اور ہمارے علاقے میں دہشتگردوں کے ٹھکانوں کو تباہ کردیا جائے گا۔
فوج کے شعبہ تعلقات عامہ کے سربراہ نے کہا کہ پاک فضائیہ کی مدد سے ایک ڈویژن فوج آپریشن میں حصہ لے رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ وادی راجگال فاٹا دشوار گزار علاقہ ہے۔
آصف غفور نے کہا کہ اس علاقے میں تقریباً پانچ سو خاندان رہائش پذیر تھے جو محفوظ مقامات پر منتقل ہوگئے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ قبائلی علاقوں میں سیکورٹی کی موثر کارروائیوں کی بدولت ملک میں دہشتگردی کے واقعات میں نمایاں کمی آئی ہے۔
آپریشن ردالفساد کا ذکر کرتے ہوئے فوج کے شعبہ تعلقات عامہ کے سربراہ نے کہا کہ پورے پاکستان میں 46 بڑے آپریشنز اور خفیہ معلومات پر مبنی نو ہزار سے زائد آپریشنز کئے گئے جبکہ پندرہ سو سے زائد مشترکہ فوجی چوکیاں قائم کی گئیں۔
کراچی میں سیکورٹی کی صورتحال پر تبصرہ کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ دہشتگردی کے واقعات میں 98 فیصد تک کمی آئی ہے۔

کنٹرول لائن کی صورتحال سے متعلق آصف غفور نے کہا کہ بھارت مقبوضہ کشمیر میں کشمیریوں کی مقامی جدوجہد اور انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں سے دنیا کی توجہ ہٹانے کیلئے کنٹرول لائن پر جنگ بندی کی سنگین خلاف ورزیاں کررہا ہے۔
ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ بری فوج کے سربراہ بھارتی جاسوس کلبھوشن یادیو کی درخواست پر جلد حتمی فیصلہ کریں گے۔
افغانستان کی صورتحال کے حوالے سے آصف غفور نے کہا کہ افغان فورسز حکومت کے زیر کنٹرول علاقوں پر اپنی گرفت کھو رہی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ افغان فوج کو دولت اسلامیہ جیسی دہشتگرد تنظیموں کے اثر ورسوخ کی روک تھام کیلئے اپنی سرزمین پر اپنے قدم مضبوط کرنے ہوں گے۔
فوج کے شعبہ تعلقات عامہ کے سربراہ نے کہا کہ پاکستان نے افغانستان کے ساتھ اپنی پوری سرحد پر باڑ لگانے کا فیصلہ کیا ہے اور باڑ لگانے کا پہلا مرحلہ جاری ہے۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے واضح کیا کہ پاکستان اپنی سرزمین پر غیر ملکی افواج کی موجودگی کی اجازت نہیں دیتا اور افغانستان کے ساتھ کسی بھی مربوط آپریشن کا مطلب دونوں ملکوں کی اپنی حدود میں کارروائی کرنا ہوگا۔
ایک سوال کے جواب میں ڈائریکٹر جنرل نے کہا کہ ریمنڈ ڈیوس نے کنٹریکٹر کی حیثیت سے اپنی کتاب لکھی ہے اور ایسی کتب کے اپنے ایجنڈے ہوتے ہیں جو بعد میں بے نقاب ہوجاتے ہیں۔
ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ چین پاکستان اقتصادی راہداری ملک کی ترقی کیلئے انتہائی اہم ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کی سیکورٹی فورسز اقتصادی راہداری کے خلاف دشمنوں کے عزائم ناکام بنانے کیلئے مکمل طور پر چوکس ہیں۔