file photo

اسلامی تعاون تنظیم کی مقبوضہ کشمیر میں پرامن مظاہرین پر تشدد کی سخت مذمت
16 جولائی 2016 (19:46)
0

مقبوضہ کشمیر میں جاری انتفادہ میں بھارتی فوج کے ہاتھوں مزید دو نوجوانوں کو شہید کئے جانے کے بعد وہاں اب تک تینتالیس افراد شہید کئے جاچکے ہیں ۔
انتفادہ آٹھ جولائی کو حزب االمجاہدین کے کمانڈر برہان وانی کی شہادت کے بعد شروع ہوا تھا ۔
مقبوضہ حکام نے مقبوضہ علاقے میں آج مسلسل آٹھویں روز بھی کرفیو اور دوسری پابندیاں نافذ کررکھی ہیں اور حریت رہنمائوں کو شہادتوں کے واقعات کے خلاف مظاہروں کی قیادت سے روکنے کیلئے گھروں میں نظر بند یا غیرقانونی طورپر قید کررکھا ہے ۔
انٹرنیٹ اور موبائل سروس معطل ہے جبکہ کیبل نیٹ ورکس کو جبری طورپر بند کرادیاگیا ہے ۔
بھارتی پولیس نے آج صبح سر ی نگر میں بڑے اخبارات کے دفاتر پرچھاپے مارے اور اخبارات کی ہزاروں کاپیاں قبضے میں لے لیں ان اقدامات کا مقصد دنیا کو مقبوضہ کشمیر کی تازہ ترین صورتحال سے بے خبررکھنا ہے ۔
کل جماعتی حریت کانفرنس کے چیئرمین سید علی گیلانی نے ایک پیغام میں مقبوضہ کشمیر میں ذرائع ابلاغ کو طاقت کے ذریعے خاموش کرادینے کی مذمت کی ۔
محمد یاسین ملک، آغاسید حسن الموسوی الصفوی اورآسیہ اندرابی نے اپنے پیغامات میں عالمی برادری سے اپیل کی ہے کہ وہ خاموشی توڑ دیں اور کشمیریوں کو بھارتی مظالم سے بچانے کیلئے آگے آئیں ۔
ادھر بھارتی فوج نے ضلع پونچھ کے علاقے SAUJIYAN میں آج تین نوجوانوں کو شہید کردیا۔

اسلامی تعاون تنظیم نے مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فوج اور پولیس کی فائرنگ سے پرامن مظاہرین کے قتل کی سخت مذمت کی ہے ۔
اسلامی تعاون تنظیم کے سیکرٹری جنرل ایادامین مدنی نے جدہ میںایک بیان میں قتل کے واقعات کی مکمل اور فوری تحقیقات کا مطالبہ کیا ۔
او آئی سی کے سیکرٹری جنرل نے کشمیریوں کی جدوجہد آزادی کو دہشت گردی قراردینے کی بھارتی کوششوں کی شدید مذمت کی ۔
او آئی سی کے آزاد مستقل انسانی حقوق کمیشن نے ایک بیان میں کہا کہ ماورائے عدالت قتل کے خلاف احتجاج کرنے والے معصوم شہریوں کے خلاف طاقت کا وحشیانہ استعمال قابل مذمت ہے اورلوگوں کے جینے کے حق کی کھلی خلاف ورزی ہے ۔
نئی دہلی میں قائم کمیٹی فارریلیز آف پولٹیکل پرپزز نے بھی ایک بیان میں مقبوضہ علاقے میں جاری قتل وغارت کی شدید مذمت کی ۔