صدر ممنون حسین ،وزیراعظم نوازشریف کی دھماکے کی شدید مذمت۔

File photo

 لال شہباز قلندر کے مزار پر دھماکہ،81افراد شہید
16 فروری 2017 (20:05)
0

سندھ میں جمعرات کی شام سیہون شریف میں حضرت لال شہباز قلندر کے مزار پر ایک بم دھماکے میں81 افراد شہید اور سو سے زیادہ زخمی ہوگئے۔زخمیوں کو قریبی ہسپتالوں میں منتقل کیا جارہا ہے۔صدر ممنون حسین اور وزیراعظم محمد نواز شریف نے جمعرات کی شام سہیون شریف دھماکے میں قیمتی انسانی جانوں کے ضیاع پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا ہے۔
صدر نے ایک بیان میں کہا کہ دہشتگرد ایسی بزدلانہ کارروائیوں سے دہشتگردی کے خاتمے کے ہمارے عزم کو کمزور نہیں کرسکتے۔وزیراعظم نے کہا کہ ایسے واقعات قوم کے مشترکہ دشمنوں کو شکست دینے کے عزم کو کمزور نہیں کر سکتے۔انہوں نے کہا کہ ایسے واقعات قوم کو تقسیم نہیں کر سکتے ۔
اس دھماکے کو پاکستان کی یکجہتی پر حملہ قرار دیتے ہوئے وزیراعظم نے اس عزم کا اظہار کیا کہ قوم کو دہشت گردی سے ہر صورت نجات دلائی جائے گی۔
وزیراعظم نے آواران میں بارودی سرنگ کے دھماکے میں سکیورٹی اہلکاروں کی شہادت پر بھی گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا۔
بری فوج کے سربراہ جنرل قمر جاوید باجوہ نے سیہون شریف دھماکے کے متاثرین کی فوری مدد کی ہدایت کی ہے۔فوج کے شعبہ تعلقات عامہ کے مطابق فوج اور رینجرز کے جوان طبی امداد کے ہمراہ موقع پر پہنچ گئے ہیں۔حیدرآباد میں سی ایم ایچ نے زخمیوں کے علاج معالجے کیلئے تمام ضروری انتظامات مکمل کر لئے ہیں۔

ادھر سیہون شریف میں خودکش دھماکے پر آج سے سندھ بھر میں تین روزہ سوگ منایا جا رہا ہے۔تمام سرکاری اور اہم عمارتوں پر قومی پرچم سرنگوں رہے گا۔نماز جمعہ کے بعد شہداء کے لئے فاتحہ خوانی اور زخمیوں کی جلد صحت یابی کے لئے دعائیں کی جائیں گی۔
 صوبے میں تمام مزاروں پر سیکورٹی بڑھا دی گئی ہے اور ان مقامات پر لوگوں کے جان ومال کا تحفظ یقینی بنانے کے لئے سخت اقدامات کئے جا رہے ہیں۔