نوازشریف نے کہاہے کہ پاکستان سارک کو بڑی علاقائی تنظیم کے طورپر دیکھنے کا خواہاں ہے ۔

امن واستحکام کیلئےخطےاورخطےسےباہرکےملکوں میں رابطے ناگزیر ہیں: وزیراعظم
16 اپریل 2015 (14:41)
0

وزیراعظم نوازشریف نے کہا ہے کہ جنوبی ایشیاء کے امن ، استحکام اورخوشحالی کیلئے خطے اورخطے سے باہرکے ملکوں میں رابطے ناگزیر ہیں ۔آج اسلام آباد میں سارک کے کیبنٹ سیکرٹریوں کے وفد سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہاکہ خطہ قدرتی وسائل سے مالامال ہے جنھیں خطے کے لوگوں کا معیار زندگی بہتر بنانے کیلئے بروئے کار لایاجاسکتا ہے۔

انہوں نے کہاکہ پاکستان سارک کو علاقائی تعاون کیلئے اہم تنظیم تصور کرتاہے اور وہ سارک کو بڑی علاقائی تنظیم کے طورپر دیکھنے کا خواہاں ہے۔وزیراعظم نے کہا کہ جنوبی ایشیا جو ایک ارب ستر کروڑ صارفین کی منڈی ہے ، جہاں افرادی قوت موجود ہے، قدرتی وسائل موجود ہیں اورزیادہ تر آبادی نوجوانوں پر مشتمل ہے خطہ نہ صرف علاقائی بلکہ پوری دنیا کی اقتصادی ترقی میں بنیادی کردارادا کرسکتا ہے۔


انہوں نے امیدظاہر کی کہ سارک علاقائی ملکوں کو اپنی عوام کی امنگوں کوپورا کرنے اور خطے کو معاشی طاقت بنانے میں علاقائی ملکوں کی مدد کرے گی۔وزیراعظم نے کہاکہ پاکستان نے سارک کے ایجنڈے میں غربت کے خاتمے کوسرفہرست رکھا اور وہ اس بات پر یقین رکھتا ہے کہ جنوبی ایشیاء کے عوام کو تنظیم کے معاملات میں مرکزی حیثیت حاصل ہونی چاہیے۔شرکاء نے وزیراعظم کو بتایا کہ گزشتہ سال کھٹمنڈو میں سارک سربراہ اجلاس میں کئے گئے فیصلوں پرعملدرآمد کے حوالے سے رکن ممالک سرگرم عمل ہیں۔


انہوں نے کہاکہ رکن ملکوں کی حکومتیں، خطے میں تعاون کو وسعت دینے کیلئے پرعزم ہیں اوراس بات کی خواہش مند ہیں کہ عوام سے عوام کے رابطے اور کاروباری افراد میں مزید رابطے کو فروغ دیاجائے۔