Wednesday, 08 December 2021, 09:11:53 am
ترقیاتی چیلنجز کے حل میں عوام، قدرتی وسائل اور بنیادی ڈھانچے کے شعبوں میں پاکستان وسیع صلاحیت کا حامل ہے۔ یو این ڈی پی
October 16, 2021

اقوام متحدہ کے ترقیاتی پروگرام نے موسمیاتی تبدیلی کے منفی اثرات کم کرنے کیلئے تحریک انصاف حکومت کے ترقیاتی ایجنڈے اور ٹھوس اقدامات کو سراہا ہے۔

پاکستان میں یو این ڈی پی کے ریذیڈنٹ نمائندے KNUT OSTBY نے ریڈیو پاکستان کے حالات حاضرہ اور شعبہ خبر کو ایک خصوصی انٹرویو میں اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ حالیہ برسوں میں پاکستان نے عالمی ماحولیاتی تبدیلی کے ایجنڈے کو اٹھایا ہے اور کاربن اخراج کے منفی اثرات کو کم کرنے کے لئے متعدد منصوبوں پر کام کر رہا ہے۔انہوں نے کہا کہ دس ارب درخت لگانے کا سونامی منصوبہ ماحولیاتی تبدیلیوں کے اثرات کم کرنے میں اہم کردار ادا کرے گا۔ KNUT OSTBY نے کہا کہ یواین ڈی پی پاکستان میں کئی عشروں سے انسانی ترقی کے لئے کام کر رہا ہے لیکن 2015ء سے اُس کی ترجیح پائیدار ترقیاتی اہداف ہیں۔انہوں نے کہا کہ پاکستان اُن بانی ممالک میں شامل ہے جنہوں نے اِن سترہ عالمی اہداف کو اپنا قومی ہدف قرار دیا ہے۔انہوں نے کہا کہ ترقیاتی چیلنجز کے حل میں عوام، قدرتی وسائل اور بنیادی ڈھانچے کے شعبوں میں پاکستان وسیع صلاحیت کا حامل ہے۔ ریذیڈنٹ نمائندے نے کہا کہ پاکستان ترقی اور شرح نمو میں اضافے کیلئے کئی اچھے اقدامات کر رہا ہے۔انہوں نے کہا کہ شرح نمو میں اضافہ کسی بھی ملک کیلئے بہت ضروری ہوتا ہے جس سے روز گار کے مواقع پیدا ہوتے ہیں اور ماحولیاتی تبدیلیوں کے اثرات بھی کم ہوتے ہیں۔موجودہ حکومت کے کامیاب جوان پروگرام کی تعریف کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ہم نوجوانوں کو آگے لانے کیلئے اس پروگرام کی معاونت کر رہے ہیں تاکہ مستقبل کے چیلنجز سے نمٹ سکیں۔انہوں نے کہا کہ عوام کو اعلیٰ تعلیم اور روز گار فراہم کرنے کی ضرورت ہے۔انہوں نے کہا کہ اعلیٰ تعلیم سے نوجوانوں کو ترقی کرنے کا موقع ملتا ہے۔KNUT OSTBY نے کہا کہ پاکستان نئے مواقع سے فائدہ اٹھانے کیلئے پالیسیاں وضع کر سکتا ہے تاکہ وہ اپنی نوجوان افرادی قوت کی صلاحیت سے فائدہ اٹھا سکے۔انہوں نے کہا کہ یو این ڈی پی پہلے ہی نوجوانوں کی تربیت کیلئے پاکستان میں مختلف پروگراموں کی معاونت کر رہا ہے۔ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ اِن میں ایک بوٹ کیمپ پروگرام بھی شامل ہے جس میں نوجوانوں کو مختلف ہنر سکھائے جاتے ہیں۔یو این ڈی پی کا یوتھ اِمپاورمنٹ پروگرام ہمارا ذاتی ہے جس میں بعض ڈونرز بھی حصہ لیتے ہیں۔نمائندے نے کہا کہ اگر ہم نوجوانوں کو بااختیار نہیں بنائیں گے اور اُن کی ضروریات پوری نہیں کریں گے تو ہمارے لئے مسائل پیدا ہوں گے اگر بڑی تعداد میں نوجوان بیروز گار ہونگے تو یہ ملک کیلئے خطرہ ہے۔ اِسی طرح خواتین پاکستان کی آبادی کا نصف حصہ ہیں اور وہ بھی قومی ترقی میں کردار ادا کرنے کی صلاحیت رکھتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ خواتین کو سیاسی عمل اور قومی ترقی میں برابر شریک کیا جانا چاہئے۔ اُنہیں قومی دھارے میں لانے کیلئے خصوصی پروگرام شروع کئے جانے چاہئیں۔ حکومت پاکستان دیہی خواتین کی بہتری کیلئے اچھے اقدامات کر رہی ہے۔KNUT OSTBY نے کہا کہ یو این ڈی پی نے ایک پروگرام شروع کیا ہے جس کے تحت انتخابات کے دوران زیادہ تعداد میں خواتین اپنا ووٹ ڈال سکیں گی۔ انتخابی عمل میں خواتین کی زیادہ شرکت ضروری ہے۔ خواتین کو قومی دھارے میں لانے کیلئے تعلیم بہت اہم ہے۔ اِس سلسلے میں یو این ڈی پی کے علاوہ اقوام متحدہ کے دیگر ادارے بھی پاکستان کی مدد کر سکتے ہیں۔ نادرا کے ذریعے شہریوں کی رجسٹریشن کو سراہتے ہوئے انہوں نے کہا کہ متعدد ممالک اِس عمل میں پیچھے ہیں اور اِس سے لڑکے اور لڑکیوں کیلئے مختلف شعبوں میں مساوی مواقع پیدا ہوتے ہیں۔پاکستان میں فعال این جی اوز کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ یہ ادارے انسانی حقوق، صحت، ماحولیاتی تبدیلی اور دیگر ترقیاتی سرگرمیوں میں حصہ لے سکتے ہیں۔ تاہم اُن پر پابندیاں نہیں ہونی چاہئیں۔ انہوں نے کہا کہ این جی اوز نچلی سطح پر عوام تک رسائی رکھتی ہیں اور ہم کئی این جی اوز کے ساتھ ملکر کام کرتے ہیں ہم ان کی کارکردگی کا جائزہ لیتے ہیں اور اُن کے اہداف متعین کرتے ہیں۔شعبہ صحت میں اشتراک کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ ہم کورونا وائرس کے خاتمے اور ضروری طبی سامان کی فراہمی کیلئے کام کر رہے ہیں اور کورونا وائرس کے بعد عوام کی ضروریات کو بھی مدنظر رکھ رہے ہیں اس کے علاوہ ہم ایچ آئی وی ایڈز کی روک تھام کیلئے بھی پاکستان کے ساتھ مل کر کام کر رہے ہیں۔ عالمی ادارہ صحت بھی اس کام میں پیش پیش ہے۔انسداد کورونا کے حوالے سے حکومت پاکستان کے اقدامات کی تعریف کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اِس سلسلے میں احساس پروگرام بہت متاثر کن ہے انہوں نے کہا کہ ہم احساس پروگرام کے ساتھ ملکر کام کر رہے ہیں اور وفاقی اور صوبائی سطح پر تعاون جاری ہے۔عوام کو پینے کا صاف پانی فراہم کرنے کے حوالے سے نمائندے نے کہا کہ ایک نجی سوفٹ ڈرنک کمپنی کے اشتراک سے ہم ایک پروگرام چلا رہے ہیں کیونکہ بغیر صاف پانی کے صحت ممکن نہیں ہے۔

Error
Whoops, looks like something went wrong.