Tuesday, 22 September 2020, 10:49:45 am
پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس، ایف اے ٹی ایف کے تقاضے پورے کرنے کیلئے تین بل منظور
September 16, 2020

بدھ کے روز پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میں ملک کو مالیاتی ایکشن ٹاسک فورس کی گرے لسٹ سے نکالنے کیلئے ایف اے ٹی ایف کے تقاضوں کو پورا کرنے کیلئے تین بلوں کی منظوری دی گئی۔
پارلیمانی امور کے بارے میں وزیراعظم کے مشیر بابر اعوان کی جانب سے پیش کئے گئے بلوں میں دارلحکومت اسلام آباد وقف املاک بل مجریہ 2020 اور انسداد منی لانڈرنگ کا دوسرا ترمیمی بل مجریہ 2020 جبکہ فہیم خان کی جانب سے پیش کیا گیا انسداد دہشتگردی کا تیسرا ترمیمی بل مجریہ 2020شامل ہیں۔
موضوعات اور وجوہات کے بیان کے تحت دارلحکومت اسلام آباد وقف املاک بل کا مقصد اسلام آباد کی علاقائی حدود میں وقف املاک کامناسب انتظام اور نگرانی کرنا ہے۔
انسداد منی لانڈرنگ کے دوسرے ترمیمی بل مجریہ 2020کا مقصد مالیاتی ایکشن ٹاسک فورس کے تحت عالمی معیارات کے مطابق انسداد منی لانڈرنگ کے موجودہ قانون کو قومی دھارے میں لانا ہے۔
اس اقدام سے انسداد منی لانڈرنگ کے قوانین کو مستحکم کرنے کے حکومتی عزم کا اظہار ہوتا ہے۔
انسداد دہشتگردی کا تیسرا ترمیمی بل مجریہ 2020 دہشتگردی میں مالی معاونت کی روک تھام کے لئے انتہائی ضروری ہے اس میں ملوث عناصر ناصرف ملک کی ترقی کو نقصان پہنچا رہے ہیں بلکہ مالی مدد دینے والے عناصر کو پھیلا بھی رہے ہیں جو ملک کے داخلی اور خارجی امن کیلئے بڑے خطرات ہیں۔

یہ قانون دہشت گردوں کی مالی معاون کے خاتمے کے لئے قانون نافذ کرنے والے اداروں کو عدلیہ کی مدد کے ساتھ منی لانڈرنگ کی روک تھام کیلئے مخصوص طریقے اختیار کرنے کے قابل بناتا ہے۔
پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میں سروئنگ اور میپنگ ترمیمی بل مجریہ 2020ء اور اسلام آباد ہائیکورٹ ترمیمی بل مجریہ 2020ء کی منظوری بھی دی گئی۔
سروئنگ اور میپنگ ترمیمی بل مجریہ 2020ء کا مقصد پاکستان کے نقشے کی غلط اور غیرسرکاری چھپائی، نمائش، ترویج اور استعمال کو روکنا ہے۔
اسلام آباد ہائیکورٹ ترمیمی بل 2019ء کا مقصد اسلام آباد ہائیکورٹ میں چیف جسٹس سمیت ججوں کی تعداد کو سات سے بڑھا کر دس کرنا ہے تاکہ طویل عرصے سے التواء کے شکار عوامی غیرت کے مقدمات کی مشکلات پر قابو پانا ہے۔
پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میں منظور کئے جانے والے دیگر بلوں میں پاکستان میڈیکل کمیشن بل مجریہ 2019، میڈیکل ٹربیونل بل مجریہ 2019 اور اسلام آباد معذور افراد کے حقوق کے تحفظ کا بل مجریہ 2020شامل ہیں۔