Friday, 18 October 2019, 11:27:53 am
ہیومن رائٹس واچ کا بھارت سے زیر حراست کشمیریوں کو فوری طور پر رہا کرنے کا مطالبہ
September 16, 2019

مقبوضہ کشمیر میں سخت کرفیو اورمواصلاتی ذرائع کی معطلی کی وجہ سے معمولات زندگی آج مسلسل43ویں روز بھی مفلوج رہے جہاںبھاری تعداد میں بھارتی فورسزتعینات ہیں اوروہ سرینگر اور وادی کشمیر کے دیگر علاقوں میں پھر سے بلٹ پروف بنکر تعمیر کررہی ہیں۔ 

وادی کشمیر اور جموں کے مختلف علاقوں میں مسلسل کرفیو اوردیگر پابندیوں کی وجہ سے انسانی بحران پیدا ہوگیا ہے اور لوگوں کو اشیائے ضروریہ کی شدید قلت کا سامنا ہے۔تمام دکانیں اورکاروباری مراکز بند جبکہ سڑکوں پر گاڑیوں کی آمدورفت معطل ہے۔ پابندیوں کی وجہ سے تعلیم کا شعبہ بھی بری طرح متاثرہے۔انسانی حقوق کی عالمی تنظیم ہیومن رائٹس واچ نے بھارت پر زوردیا ہے کہ وہ ان نظربند کشمیریوں کو فوری طورپر رہا کرے جن پر کوئی خاص الزام نہیں ہے۔تنظیم نے کہا کہ بہت سے نظربندوں کو ان کے اہلخانہ اور وکلاء سے رابطے کی اجازت نہیں دی جارہی ہے۔ تنظیم نے بھارتی حکومت پر زوردیا کہ وہ تمام گرفتار افراد کی فہرست اور ان کے بارے میں معلومات جاری کرے۔ حریت رہنمائوں بلال احمد صدیقی اور زمرودہ حبیب نے اپنے الگ الگ بیانات میں مقبوضہ علاقے میں مسلسل کرفیواورمواصلاتی ذرائع کی معطلی کی شدید مذمت کی ہے۔کل جماعتی حریت کانفرنس کی آزاد کشمیرشاخ نے آج اسلام آباد میں ایک اجلاس میں عالمی برادری سے اپیل کی کہ وہ تنازعہ کشمیر حل کرانے میں اپنا کردار ادارکرے۔جماعت اسلامی آزاد جموں وکشمیر کے سابق امیر اور قانون ساز اسمبلی کے رکن عبدالرشید ترابی نے انقرہ ،ترکی میں وحدت امہ کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے مسلمان رہنمائوں پر زوردیا کہ وہ اقوام متحدہ میں کشمیر اور فلسطین کے مسائل بھرپور اندازمیں اور متحد ہوکر اٹھائیں۔ مقبوضہ کشمیر کے سابق کٹھ پتلی وزیر اعلیٰ اور نیشنل کانفرنس کے رہنما فاروق عبداللہ کو گزشتہ رات کالے قانون پبلک سیفٹی ایکٹ کے تحت نظربند کردیا گیا ہے۔