Tuesday, 23 July 2019, 01:56:12 pm
امریکہ،ایران ضبط وتحمل کا مظاہرہ کرتے ہوئےمسائل مذاکرات سےحل کریں،پاکستان
May 16, 2019

پاکستان نے امریکہ اور ایران سے کہا ہے کہ وہ ضبط و تحمل کا مظاہرہ کرتے ہوئے اپنے مسائل مذاکرات کے ذریعے حل کریں۔

 دفتر خارجہ کے ترجمان ڈاکٹر محمد فیصل نے آ ج اسلام آباد میں اپنی ہفتہ وار نیوز بریفنگ کے دوران امریکہ اور ایران کے درمیان کشیدگی پر تبصرہ کرتے ہوئے کہاکہ خلیج فارس میں حالیہ پیشرفت پریشان کن ہے۔ انہوں نے کہا کہ طیارہ بردار بیڑے اور بمبار طیاروں کی تعیناتی سے متعلق امریکہ کے فیصلے نے کشیدگی میں اضافہ کیا اور مشرق وسطی کی ابتر سلامتی کی صورتحال مزید خراب ہوئی۔ترجمان نے خبردار کیا کہ کسی بھی قسم کی مہم جوئی بڑے پیمانے پر جنگ کا باعث بن سکتی ہے۔

مقبوضہ کشمیر میں بھارتی بربریت پر تبصرہ کرتے ہوئے ترجمان نے کہا کہ مقبوضہ وادی فوجی کیمپ میں تبدیل ہوچکی ہے جہاں لوگوں کو نا انصافی ، حراساں کئے جانے اور بربریت کا سامنا ہے ۔

ڈاکٹر محمد فیصل نے کہا کہ بھارت کشمیر کے تنازعے کے بارے میں عالمی برادری کوگمراہ کرنے کا سلسلہ بند کرے اور زمینی حقائق اور کشمیر کےعوام کی امنگوں کا ادراک کرے۔

 انہوں نےکہا کہ بھارت مظالم کے ذریعے تحریک آزادی کو دبا نہیں سکتا۔

 ترجمان نے کہا کہ پاکستان بھارت کے ساتھ کشمیرکے ہر مسئلے سمیت تمام معاملات پر بات چیت کرنے کےلئے تیار ہے۔

 انہوں نے کہا کہ متحدہ عرب امارات کی حکومت نے اپنی جیلوں میں قید 572 پاکستانی قیدیوں کو رہا کرنے کا فیصلہ کیا ہے ۔انہوں نے کہا کہ متحدہ عرب امارات میں ہمارا مشن وہاں کے حکام سے رابطے میں ہے تاکہ قیدیوں کی رہائی اور انہیں ملک واپس بھجوانے کا عمل تیز کیا جاسکے۔

ایک سوال پر ترجمان نے کہا کہ ہم بہت جلد سعودی عرب کی جیلوں میں قید پاکستانیوں کی رہائی کی اچھی خبر سنیں گے۔

انہوں نے کہا کہ ایک چارٹرڈ پرواز کے ذریعے 50 پاکستانیوں کو گزشتہ روز امریکہ سے پاکستان واپس بھجوایا گیا ہے۔

 ایک اورسوال پر ڈاکٹر محمد فیصل نے کہا کہ وزیر خارجہ شاہ محمو د قریشی اس ماہ کی اکیس تاریخ سے کرغزستان کے دارالحکومت بشکیک کا دو روزہ دورہ کریں گے جہاں وہ شنگھائی تعاون تنظیم کی وزرا خارجہ کی کونسل کے اجلاس میں شرکت کریں گے۔ انہوں نے کہاکہ اس اجلاس سے پاکستان کوعلاقائی امن و استحکام کےلئے اپنے مفادات کواجاگر کرنے کا موقع ملے گا۔ انہوں نے کہا کہ توقع ہے کہ وزیراعظم آئندہ ماہ 13 سے 14 تاریخ کو بشکیک میں ہونے والے شنگھائی تعاون تنظیم کے سربراہان کے اجلاس میں شرکت کریں گے۔

افغان پناہ گزینوں کی واپسی سےمتعلق پوچھے گئے سوال پر ڈاکٹر محمد فیصل نے اعتراف کیاکہ کئی وجوہات کی بنا پر افغان پناہ گزینوں کی واپسی کا عمل سست روی کا شکار ہے تاہم انہوں نے کہا کہ پاکستان پناہ گزینوں کی رضا کارانہ اور پروقار واپسی یقینی بنانے کےلئے افغانستان کے ساتھ رابطے میں ہے۔