Tuesday, 23 April 2019, 11:48:00 pm
مزاحمتی قیادت کی 7طلبہ کیخلاف دہلی پولیس کی جانب سے فرد جرم پیش کرنے کی مذمت
January 16, 2019

 

مقبوضہ کشمیر میں سید علی گیلانی، میر واعظ عمر فاروق اور محمد یاسین ملک پر مشتمل مشترکہ مزاحمتی قیادت نے غداری کے مقدمے میں سات کشمیری طلبہ کے خلاف دہلی پولیس کی جانب سے فرد جرم پیش کرنے کی مذمت کی ہے۔

قیادت نے سرینگر میں ایک بیان میں ریڈکراس کی بین الاقوامی کمیٹی، ایشیا واچ اور ایمنسٹی انٹرنیشنل سمیت انسانی حقوق کی عالمی تنظیموں پر زورد یا کہ وہ ایسے مذموم عزائم کا سختی سے نوٹس لیں جن کا مقصد طلبہ کا مستقبل تباہ کرنا ہے۔

دہلی پولیس نے 2016ء میں جواہر لال نہرو یونیورسٹی میں ایک تقریب کے دوران کشمیر کی آزادی کے حق میں نعرے بازی کے مقدمے میں ملوث جواہر لال نہرو یونیورسٹی کے سابق طالب علم رہنما اور سات کشمیری طلباء کے نام پر فرد جرم عائد کی۔

کل جماعتی حریت کانفرنس کے چیئرمین سید علی گیلانی نے سرینگر میں ایک بیان میں افسوس ظاہر کیا کہ بھارت کی جانب سے کشمیریوں کے بنیادی حقوق سے مسلسل انکار نے کشمیر کو جہنم میں تبدیل کردیا ہے۔

کل جماعتی حریت کانفرنس کے سینئر رہنما اور تحریک حریت جموں وکشمیر کے چیئرمین محمد اشرف صحرائی نے بھارتی سپریم کورٹ میں آئین کی شق 370 کے خلاف ایک اور درخواست جمع کرانے کی اطلاعات پر شدید ردعمل کا اظہار کیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ بھارت میں کشمیر مخالف افواج علاقے کی خصوصی حیثیت اور وہاں مسلمانوں کی اکثریت کو مسخ کرتے ہوئے جموں وکشمیر کی آبادی کا تناسب تبدیل کرنے پرتلی ہوئی ہیں۔

میرواعظ عمر فاروق کی زیرقیادت فورم نے علاقے اور اس سے باہر مختلف جیلوں میں کشمیری سیاسی قیدیوں کی حالت زار پر گہری تشویش ظاہر کی ہے ۔

لاپتہ افراد کے والدین کی تنظیم نے 2019 کاکلینڈر جاری کیا جس میں لاپتہ افراد کی کہانیوں کو دستاویزی شکل دی گئی ہے ۔

ادھر امریکہ میں قائم آزاد غیرمنافع بخش اور غیر سرکاری تنظیم صحافیوں کے تحفظ کی کمیٹی نے مقبوضہ کشمیر کے گورنر ستیا پال ملک کو ایک خط میں کہاکہ صحافی آصف سلطان کورہا کیاجائے اور اس کے خلاف تمام الزامات ختم کیے جائیں۔

بھارتی پولیس نے آصف کو 27 اگست 2018کو گرفتار کیا تھا ۔