نواز شریف نے کہا کہ مشترکہ تحقیقاتی ٹیم کے سامنے انکی پیشی قانون کی حکمرانی اور آئین کی بالادستی کیلئے ایک سنگ میل ہے۔

قانون اور عوام کی عدالت میں سرخرو ہوں گے،وزیراعظم
15 جون 2017 (21:03)
0

وزیراعظم نواز شریف نے کہا ہے کہ مشترکہ تحقیقاتی ٹیم کے سامنے ان کی پیشی قانون کی حکمرانی اور آئین کی بالادستی کے لئے ایک سنگ میل ہے۔
انہوں نے یہ بات پانامہ پیپرزکیس میں الزامات کی تحقیقات کرنے والی مشترکہ تحقیقاتی ٹیم کے سامنے ڈھائی گھنٹے کی پیشی کے بعد آج تیسرے پہر اسلام آباد میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہی ۔
وزیراعظم نے کہا کہ ملک کی تاریخ میں کبھی کسی خاندان کی تین نسلوں کا احتساب نہیں ہو جس طرح ان کے خاندان کا احتساب کیا گیا وزیراعظم نے کہا کہ احتساب کے موجودہ عمل کو ان کی پیدائش سے پہلے کے عرصے تک بڑھا دیا گیا ہے۔
نواز شریف نے کہا کہ ان کا اور ان کے خاندان کا بارہا بے رحمانہ احتساب کیا گیا لیکن کبھی بدعنوانی کا کوئی الزام ثابت نہیں ہوا انہوں نے یقین ظاہر کیا کہ جاری تحقیقات کا نتیجہ بھی مختلف نہیں ہو گا کیونکہ انہوں نے اور ان کے خاندان نے کچھ غلط نہیں کیا ہے۔
وزیراعظم نے کہا کہ 1972ء میں پہلی بار ان کے خاندان کا احتساب شروع ہوا جب ان کے تمام اثاثے قومیا لئے گئے پاکستان پیپلزپارٹی کی اس وقت کی حکومت نے ان کے خاندان کے خلاف انتقامی پالیسی اختیار کی لیکن کچھ غلط ثابت نہیں ہوا ۔
نوازشریف نے کہاکہ اگران کے یا ان کے خاندان کے خلاف بدعنوانی کا کوئی ثبوت ہوتا تو مشرف کو ان کے خلاف طیارہ اغوا کرنے کا جھوٹا مقدمہ نہ گھڑناپڑتا۔
جاری تحقیقات کے حوالے سے وزیراعظم نے کہاکہ ان کے اپنے اوران کے خاندان کے اثاثوں سے متعلق تمام دستاویزات پہلے ہی سپریم کورٹ کے پاس ہیں اورآج انہوں نے یہ دستاویزات ایک بار پھر مشترکہ تحقیقاتی ٹیم کے حوالے کیں۔
وزیراعظم نے یہ بات زوردے کر کہی کہ ابھی جو کارروائی ہورہی ہے اس کا حکومت کے وسائل کی لوٹ مار یا بدعنوانی سے کوئی تعلق نہیں ہے انہوں نے کہاکہ خالصتاًذاتی اور خاندانی امور اور کاروباری معاملات کو پیچیدہ اور سیاسی بنایا جارہا ہے ۔
انہوں نے کہاکہ مقدمے کے بارے میں مشترکہ تحقیقاتی ٹیم کی رپورٹ اور سپریم کورٹ کے فیصلہ کا جلد اعلان کیاجائے گا تاہم ہمیں یہ یاد رکھنا چاہیے کہ اگلے سال عوام کی مشترکہ تحقیقاتی ٹیم ہوگی انہوں نے کہاکہ ہم سب کو پاکستان کے بیس کروڑ عوام کی مشترکہ تحقیقاتی ٹیم کے سامنے پیش ہونا ہوگا انہوںنے کہاکہ ان تمام چیزوں سے بڑھ کر ہمیں اﷲ کی عدالت میں بھی پیش ہونا ہوگا جسے کسی مشترکہ تحقیقاتی ٹیم کی ضرورت نہیں ہے ۔
وزیراعظم نے امیدظاہر کی کہ وہ اوران کا خاندان قانون اورعوام کی عدالتوں میں سرخرو ہوںگے۔