پاکستان ترکی اور افغانستان نے اپنے اس عزم کا اعادہ کیا ہےکہ خطے میں پائیدار امن اور سلامتی یقینی بنانے کیلئے اجتماعی کوششیں جاری رکھی جائیں گی۔

15 فروری 2014 (14:24)
0

ترکی کےصدرعبداللہ گل کی میزبانی میں سہ فریقی سربراہ اجلاس کےبعدانقرہ میں ایک مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے تینوں ملکوں کے رہنمائوں نے سربراہ اجلاس کے نتائج پر اطمینان کااظہارکیا۔



وزیر اعظم محمد نواز شریف نے افغانستان میں افغانوں کی اپنی سربراہی میں امن مصالحتی عمل کیلئے پاکستان کے مضبوط اور مخلصانہ عزم کو دہرایا۔



انہوں نےکہا افغانستان آج اپنی تاریخ کے ایک اہم موڑپرہے اورتمام افغانوں کو اپنے ملک کو پرامن بنانے اور اس کی تعمیرنوکیلئےمتحدہونا چاہیے۔



وزیر اعظم نے کہا پاکستان ایک پرامن افغانستان کیلئے امن عمل میں سہولت فراہم کرتا رہیگا۔



انہوں نے کہا ہم مل کر پاکستان افغانستان کے تعلقات میں ایک نئے باب کا اضافہ کرنے پر کا م کررہے ہیں۔


 


نواز شریف نے ایشیاء کے وسط میں پائیدار امن قائم کرنے کیلئے ترکی کی حمایت کی تعریف کی۔


انہوں نے کہا پاکستان اورترکی برادرانہ تعلقات کے ایسے رشتے میں جڑے ہوئے ہیں جن کی ملکوں کے درمیان تعلقات میں مثال نہیں ملتی۔


 


حامد کرزئی نے کہا افغانستان نے سہ فریقی مذاکرات کا عزم کررکھا ہے اور یقین ظاہر کیا کہ نئے افغان صدر اس عمل کو جاری رکھیں گے۔
انہوں نے امید ظاہر کی کہ جیسے ہی یہ عمل آگے بڑھے گا اس کے نتائج پاکستان اور افغانستان دونوں کو ملیں گے۔


 


ترکی کے صدر عبد اللہ گل نے کہا تینوں ممالک خطے میں امن برقرار رکھنے کیلئے مشترکہ طور پر جدوجہد کررہے ہیں۔


 


انہوں نے کہا اس سربراہ اجلاس کا مقصد تینوں ملکوں کے درمیان موجودہ کثیر الجہتی تعاون کو مستقبل میں مستحکم انداز میں آگے بڑھانا ہے۔
===========================


پاکستان ترکی اور افغانستان نے خطے میں امن و استحکام کو فروغ دینے کیلئے اجتماعی کوشش جاری رکھنے پر اتفاق کیا ہے۔


 


یہ اتفاق رائے انقرہ میں سہ فریقی سربراہ اجلاس کے موقع پر سامنے آیا جس میں وزیر اعظم محمد نواز شریف افغانستان کے صدر حامد کرزئی اور ترکی کے وزیر اعظم رجب طیب اردوان نے شرکت کی۔سربراہ اجلاس کے بعد ایک مشترکہ بیان میں تینوں رہنمائوں نے کہا کہ انہوں نے ایک ایسے وقت میں علاقائی اور بین الاقوامی سلامتی کے امور پر مفید اور جامع بات چیت کی جب وسطی ایشیا مستقبل کے فیصلہ کن مراحل کے طرف بڑھ رہاہے۔


 


تینوں رہنمائوں نے افغانستان میں امن اور مفاہمت کے عمل کی حمایت کیلئے قریبی مشاورت جاری رکھنے کا عزم ظاہر کیا۔انہوں نے آئینی حدود میں رہتے ہوئے افغان تنازعہ کے سیاسی حل پر زور دیا اور کہا کہ طالبان امن عمل میں شامل ہوجائیں۔


 


انہوں نے کہا کہ افغانستان میںامن و استحکام پورے خطے میں امن و استحکام کیلئے ضروری ہے۔تینوں رہنمائوں نے قریبی ہمسائے ہونے کے ناطے افغانستان اور پاکستان کے درمیان تعاون بڑھانے کی اہمیت واضح کی۔


 


==============================


 یہ پیشکش کمپنی کے چیف ایگزیکٹیو نے استنبول میں وزیر اعظم محمدنواز شریف کے ساتھ ملاقات میں کی۔

ترکی کی ایک کمپنی  چنار گروپ نے گڈانی میں چھ سو ساٹھ میگاواٹ کا ایک بجلی گھر قائم کرنے کی پیشکش کی ہے۔یہ پیشکش کمپنی کے چیف ایگزیکٹیو نے استنبول میں وزیر اعظم محمد نواز شریف کے ساتھ ملاقات میں کی۔


 


وزیر اعظم نے کمپنی کو پاکستان میں سرمایہ کاری کیلئے تمام سہولتیں فراہم کرنے کایقین دلایا۔ترک کمپنی نے پاکستان میں کوئلے اور کان کنی کے منصوبوں میں سرمایہ کاری میں بھی دلچسپی ظاہر کی۔


============================


پاکستان ترکی اور افغانستان کے درمیان اقتصادی تعاون کیلئے استنبول فورم نے سامان کی نقل و حرکت کیلئے مضبوط رابطے قائم کرنے پر زور دیا ہے تاکہ تینوں ممالک اپنی اقتصادی صلاحیتوں کو بروئے کار لاسکیں۔انقرہ میں ہونے والے فورم میں کابل میں کان کنی کے شعبے پر کاروباری اورسرمایہ کاری کانفرنس کرانے کا فیصلہ کیاگیا۔