بھارت کا یوم آزادی یوم سیاہ کے طور پرمنایا گیا
15 اگست 2016 (21:15)
0

کنٹرول لائن کے دونوں اطراف اور دنیا بھر میں مقیم کشمیریوں نے پیر کوبھارت کا یوم آزادی"> یوم آزادی یوم سیاہ کے طور پر منایا۔
کشمیری بھارت کے خلاف ریلیاں نکال کر عالمی برادری کو یہ پیغام دے رہے ہیں کہ بھارت جموں وکشمیر کے عوام کو ان کا ناقابل تنسیخ حق خودارادیت دینے سے مسلسل انکار کر رہاہے۔
بھارتی حکام نے اپنے یوم آزادی"> یوم آزادی کی بلا خلل تقریبات یقینی بنانے کیلئے مسلسل کرفیو اور دیگر پابندیاں عائد کرکے پورے مقبوضہ علاقے کو فوجی چھائونی میں تبدیل کردیا ہے۔
لوگوں نے کئی مقامات پر کرفیو کو خاطر میں نہ لاتے ہوئے آزادی اور پاکستان کے حق میں اور بھارت کے خلاف ریلیاں نکالیں اور مظاہرے کئے ۔ مظاہروں کی اپیل کل جماعتی حریت کانفرنس کے چیئرمین سید علی گیلانی اور دیگر حریت رہنمائوں میرواعظ عمرفاروق اور محمد یاسین ملک نے مشترکہ طورپرکی تھی۔
ادھر بھارتی فوجیوں نے ریاستی دہشت گردی کی تازہ کارروائی میں آج سرینگر اور بارہمولہ کے اضلاع میں چار کشمیری نوجوانوں کو شہید کردیا۔
نوہٹہ سرینگر میں واقع سی آر پی ایف کیمپ پر مجاہدین کے حملے میں ایک کمانڈنگ افسر سمیت سینٹرل ریزروپولیس فورس کے دواہلکار ہلاک اور بارہ سے زائد زخمی ہوگئے۔
دریں اثنا آج سرینگر کے صورہ انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل کمپلیکس میں ایک 18سالہ زخمی نوجوان اشفاق احمد زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے چل بسا جس سے کشمیر میں جاری انتفادہ کے دوران شہید ہونیوالے کشمیریوں کی تعداد بڑھ کر 74ہو گئی ہے ۔
حکام نے حریت رہنمائوں سید علی گیلانی ، میر واعظ عمر فاروق ، شبیر احمد شاہ اور محمد یاسین ملک کو تحریک آزادی کے حق میں اور بھارت مخالف مظاہروں کی قیادت سے روکنے کیلئے گھروں اور جیلوں میں نظربند رکھا ۔