مودی کا بیان مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں سے عالمی برادری کی توجہ ہٹانے کی کوشش ہے۔

 مسئلہ کشمیر کو بندوق کی نوک پر حل نہیں کیا جاسکتا:سرتاج عزیز
15 اگست 2016 (19:18)
0

مشیر خارجہ سرتاج عزیز نے کہا ہے کہ بھارت کو یہ معلوم ہونا چاہیے کہ تنازع کشمیر کو بندوق کی نوک پر حل نہیں کیا جاسکتا۔
انہوں نے پیر کے روز نئی دلی میں بھارتی وزیر اعظم کی تقریر کے جواب میں کہا کہ نریندر مودی دنیا کی توجہ اس سانحہ سے ہٹانے کی کوشش کر رہے ہیں جس سے گزشتہ پانچ ہفتے کے دوران بھارت کے زیرِ تسلط کشمیر میں بھارت کا اصل چہرہ بے نقاب ہوگیا ہے۔
مشیر خارجہ نے کہا کہ حقِ خودارادیت کے حصول کے منصفانہ مطالبے پر بھارتی فوج کے ہاتھوں ستر سے زائد بے گناہ کشمیر ی شہید اور چھ ہزار سے زائد زخمی ہوئے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ بھارتی فوج کی جانب سے چھرے والی بندوقوں کے استعال سے سو سے زائد نوجوان اپنی بینائی کھوچکے ہیں۔
سرتاج عزیز نے کہا کہ مقبوضہ کشمیر میں گزشتہ سینتیس دن سے مسلسل کرفیو نافذ ہے اور ذرائع ابلاغ پر مکمل پابندی ہے۔
انہوں نے کہا کہ کشمیریوں کی تحریک آزادی کا دہشتگردی سے کوئی تعلق نہیں بلکہ یہ حق
خود ارادیت کے حصول کی تحریک ہے اور کشمیریوں کو یہ حق دینے کا وعدہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے خود کیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ بھارتی مقبوضہ کشمیر اور آزاد جموں و کشمیر کی صورتحال کا کوئی موازنہ نہیں کیا جاسکتا ۔
مشیر خارجہ نے کہا کہ بلوچستان پاکستان کا ناگزیر حصہ ہے اور وزیر اعظم مودی کی طرف سے بلوچستان کا حوالہ دینے سے پاکستان کا یہ موقف درست ثابت ہوا ہے کہ بھارت اپنی خفیہ ایجنسی "را"کے ذریعے بلوچستان میں دہشت گردی کی سرگرمیوں کو ہوا دے رہا ہے۔
سرتاج عزیز نے کہا کہ اس بات کی تصدیق "را"کے بحریہ کے حاضر سروس افیسر کلبھوشن یادیو نے بھی رواں سال مارچ میں اعترافی بیان میں کی تھی۔