Tuesday, 20 August 2019, 10:11:31 pm
بھارتی فورسزکی کولگام ، اسلام آباد، کپواڑہ اور پلوامہ میں محاصرے اورتلاشی کی کارروائیاں
July 15, 2019

بھارتی فورسز نے آج (پیر)کولگام ، اسلام آباد، کپواڑہ اور پلوامہ اضلاع کے مختلف علاقوں میں محاصرے اورتلاشی کی کارروائیاں کیں۔

فوجیوں نے تمام داخلی اور خارجی راستوں کو سیل کرکے گھر گھر تلاشیاں لیں۔ محاصرے اور تلاشی کارروائیاں بھارتی فوج، سینٹرل ریزرو پولیس فورس اور پولیس کے سپیشل آپریشن گروپ نے مشترکہ طورپر کیں۔

بھارتی پیراملٹری سینٹرل ریزروپولیس فورس کے ایک اہلکار نے سول سیکرٹریٹ جموں میں ڈیوٹی کے دوران اپنی سروس رائفل سے خود پر گولی چلاکر خودکشی کرلی۔

اس واقعے سے مقبوضہ کشمیر میں جنوری 2007ء سے خودکشی کرنے والے بھارتی فوجی اورپولیس اہلکاروں کی تعداد 436ہوگئی۔

ادھر مقبوضہ کشمیرمیں بھارتی قابض انتظامیہ نے ایک کشمیری لڑکے حذیفہ احمد بٹ پر کالا قانون پبلک سیفٹی ایکٹ لاگو کر کے اسے جموں کی اوھمپورجیل منتقل کردیا ہے ۔

پٹن کا رہائشی 17سالہ حذیفہ گزشتہ چھ ماہ سے بارہمولہ جیل میں غیر قانونی طورپر نظربند تھا ۔ اسے اب اوھمپورجیل منتقل کردیاگیا ہے ۔

مذکورہ کالے قانون پبلک سیفٹی ایکٹ کے تحت اس وقت ایک ہزارسے زیادہ حریت رہنماء ، کارکن اور طلباء جموں کی جیلوں اور بھارت کی بدنام زمانہ تہاڑ جیل میں غیر قانونی طورپر نظربند ہیں ۔

ان میں محمد یاسین ملک ، شبیر احمد شاہ ، مسرت عالم بٹ، ڈاکٹر حمید فیاض ، آسیہ اندرابی ، ناہیدہ نسرین ، فہمیدہ صوفی ، نعیم احمدخان ، محمد ایاز اکبر، الطاف احمد شاہ ، پیر سیف اللہ ، معراج الدین کلوال ، فاروق احمدڈار، سرجان برکاتی ، قاضی یاسر، ایڈووکیٹ زاہد علی ، مولانا مشتاق ویری ، ظہور احمد بٹ، جاوید احمد بٹ، محمد اشتیاق گنائی ، نذیر احمد شیخ اور صحافی آصف سلطان بھی شامل ہیں۔

یہ بات قابل ذکر ہے کہ قابض بھارتی انتظامیہ کالے قانون کوکشمیری سیاسی قیدیوں کی غیر قانونی نظربندی کو طول دینے کے لیے ہتھیار کے طورپر استعمال کررہی ہے۔

اس قانون کے تحت کسی بھی شخص کوچھ ماہ سے دوسال تک جیل میں رکھا جاسکتا ہے لیکن نظربندی کی مدت ختم ہونے کے فوراً بعد قابض انتظامیہ اس کی رہائی کوروکنے کے لیے اس پر دوبارہ کالا قانون پبلک سیفٹی ایکٹ لاگو کردیتی ہے۔

انسانی حقوق کے عالمی ادا رے بھارتی حکام سے مطالبہ کرتے رہے ہیں کہ وہ مقبوضہ کشمیر میں نافذ کالے قوانین پبلک سیفٹی ایکٹ اور آرمڈ فورسز سپیشل پاورز ایکٹ کو منسوخ کرے۔