وزیر خزانہ نے کہا کہ اگر ہم کھلے دل کے ساتھ ایجنڈے پر متفق ہوجاتے ہیں تویہ ملک کیلئے ایک بڑی خدمت ہوگی۔

 سیاسی جماعتیں ملک کیلئے قومی اقتصادی ایجنڈا مرتب کریں،ڈار
14 جون 2017 (15:12)
0

وزیر خزانہ اسحق ڈار نے دوٹو ک الفاظ میں کہا ہے کہ ریاستی ادارے پانامہ پیپرز سے متعلق مقدمے کی تحقیقات کیلئے مشترکہ تحقیقاتی ٹیم کی کارروائی میں کوئی رکاوٹ پیدا نہیں کررہے ۔
آج قومی اسمبلی میں اظہار خیال کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ یہ ادارے مشترکہ تحقیقاتی ٹیم کو درکار تمام مواد فراہم کررہے ہیں ،ا نہوں نے کہا کہ حکومت تحقیقاتی عمل کا احترام کرتی ہے تاہم اس بارے میں شکوک و شبہات بھی ریکارڈ کا حصہ ہیں،انہوں نے کہا کہ ہم قانون و آئین کا مکمل احترام کرتے ہیں۔
وزیر خزانہ نے کہا کہ وزیراعظم نے جو کل مشترکہ تحقیقاتی ٹیم کے سامنے پیش ہونگے کارکنوں سے کہا ہے کہ وہ جے آئی ٹی سیکرٹریٹ سے دور رہیں۔
اسحق ڈارنے سیاسی جماعتوں سے کہا ہے کہ وہ مل بیٹھ کر ملک کیلئے قومی اقتصادی ایجنڈا مرتب کریں، انہوں نے کہا کہ قومی اسمبلی کے سپیکر رمضان المبارک کے بعد ان کوششوں کی قیادت کرسکتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ اگر ہم کھلے دل کے ساتھ ایجنڈے پر متفق ہوجاتے ہیں تویہ ملک کیلئے ایک بڑی خدمت ہوگی۔
وزیرخزانہ نے کہا کہ انہیں اس بات پر پختہ یقین ہے کہ پاکستان کا مستقبل روشن ہے انہوں نے کہا کہ عالمی ادارے بھی پاکستان کی اقتصادی کارکردگی کا اعتراف کررہے ہیں۔

ضمنی گرانٹس کے حوالے سے وزیر خزانہ نے واضح کیا کہ یہ غیر آئینی نہیں ہیں۔انہوں نے کہا کہ ضمنی گرانٹس کے بارے میں حکومتی موقف تسلیم کرنے پر ہم سپریم کورٹ کے بھی شکر گزار ہیں۔وزیر خزانہ نے کہا کہ حکومت انہیں کم سے کم سطح پر لانے کیلئے کوششیں کررہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم ختم ہونے والے مالی سال کے دوران ضمنی گرانٹس میں نمایاں کمی کرتے ہوئے اسے ایک سو اکیس ارب روپے تک لانے میں کافی حد تک کامیاب ہوئے ہیں۔

بحث میں حصہ لیتے ہوئے قائد حزب اختلاف سید خورشید احمدشاہ نے خلیج کے علاقے میں بدلتی صورتحال پرگہری تشویش ظاہر کی ، انہوں نے کہا کہ اس صورتحال کے پاکستان پر بھی گہری اثرات مرتب ہوئے ہیں،انہوںنے کہا کہ وزیراعظم کو آج قومی اسمبلی میں آکر اس معاملے پر پاکستان کی پالیسی سے متعلق ایوان کو آگاہ کرنا چاہیے۔داخلی صورتحال کا ذکر کرتے ہوئے انہوںنے کہا موجودہ حکومت کے دور میں ملک میں غربت کی شرح میں اضافہ ہوا ہے۔