وزیر قانون نے واضح کیا کہ مردم شماری معطل کرنے کا فیصلہ پاک فوج کی طرف سے جوانوں کی عدم دستیابی کی وجہ سے اس سال فروری میں مشترکہ مفادات کونسل کے اجلاس میں کیاگیا تھا۔

اگلی مردم شماری روا ں سال نومبر اور آئندہ سال مارچ کے درمیان کرائی جائیگی: زاہد حامد
14 جون 2016 (13:14)
0

سینٹ کو آج بتایا گیا کہ اگلی مردم شماری اس سال نومبر اور اگلے سال مارچ کے درمیان کرائی جائے گی۔عبدالقیوم کے توجہ دلائو نوٹس کا جواب دیتے ہوئے قانون و انصاف کے وزیر زاہد حامد نے کہا یہ سکیورٹی کی بہتر صورتحال اور فوج کی دستیابی کا معاملہ ہے۔

انہوں نے واضح کیا کہ مردم شماری معطل کرنے کا فیصلہ پاک فوج کی طرف سے جوانوں کی عدم دستیابی کی وجہ سے اس سال فروری میں مشترکہ مفادات کونسل کے اجلاس میں کیاگیا تھا۔انہوں نے کہا کہ کوئی بھی مردم شماری کی اہمیت سے انکار نہیں کرسکتا اور یہ پاکستان مسلم لیگ (ن) ہی تھی جس نے 1998 میں آخری مردم شماری کرائی۔

سینٹ نے بھی آج اگلے مالی سال کے بجٹ پر بحث جاری رکھی۔
بحث میں حصہ لیتے ہوئے محسن عزیز نے کہا کہ بجٹ کی تیاری کے عمل میں پارلیمنٹ اور دوسرے فریقوں کو بھی شامل کیا جانا چاہیے تاکہ عوام کی توقعات پر پورا اترا جاسکے۔
انہوں نے کہا کہ حکومت رواں مالی سال کے دوران اقتصادی اہداف کے حصول میں ناکام رہی جبکہ اس کی ٹیکس سے استثنیٰ کی سکیم مزید تاجروں کو ٹیکس کے دائرے میں لانے میں ناکام رہی۔
کامل علی آغا نے کہا کہ چین پاکستان اقتصادی راہداری ایک اہم منصوبہ ہے اور مقررہ مدت میں مکمل کیا جانا چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ مغربی روٹ کی تکمیل کو ترجیح دی جانی چاہیے اور اس مقصد کے لئے بجٹ میں زیاد ہ سے زیادہ وسائل مختص کئے جانے چاہئیں۔

محمد علی سیف نے کہا کہ بجٹ میں عام آدمی کی سہولت کے لئے مربوط اقدامات شامل نہیں ہیں۔
سیف اللہ مگسی نے کہا کہ عام آدمی پر بالواسطہ ٹیکسوںکا بوجھ بڑھایا گیا ہے انہوں نے کہا کہ حکومت نے زرعی پیداوار کی لاگت کم کرنے کے لئے کچھ نہیں کیا۔
محسن خان لغاری نے ٹیکس کا دائرہ بڑھانے کے حوالے سے حکومت کے اقدامات کوسراہا۔ انہوں نے کہاکہ حکومت کو کاشتکاروں کو کھادوں پر مزید اعانت دی جانی چاہیے جیسا کہ ہمسایہ ملک بھارت میں دی جارہی ہے۔
ایوان کا اجلاس اب بدھ کی صبح گیارہ بجے ہوگا۔