خیبرپختونخوا ،سندھ اورپنجاب میں آبی وسائل کوبروئے کار لانے کی متعدد سکیمیں شروع کی جائیںگی۔

پانی کے شعبے کی ترقی کیلئے اکتیس ارب روپے مختص
14 جون 2015 (13:46)
0

حکومت اپنے ترقیاتی منصوبے میں پانی کے شعبے پرخصوصی توجہ دے رہی ہے اور اگلے مالی سال کے دوران ملک کے مختلف حصوں میں ان منصوبوں پر اکتیس ارب روپے خرچ کرے گی ۔
سرکاری ذرائع کے مطابق نئے مالی سال کے دوران دیامیربھاشا ڈیم کی زمین کی خریداری کیلئے پندرہ ارب روپے مختص کئے گئے ہیں دیامربھاشاڈیم جو ملک کے مستقبل کی ضمانت ہوگا اس میں سینتالیس لاکھ ایکڑ فٹ پانی ذخیرہ ہوگا اور چارہزار پانچ سو میگاواٹ بجلی پیدا ہوگی جو ملک کے مستقبل کی ضمانت ہوگا داسو بھی پن بجلی کی پیداوار کا ایک اہم منصوبہ ہے جس میں دوہزار ایک سو ساٹھ میگاواٹ بجلی پیدا کرنے کی صلاحیت ہوگی۔

حکومت ان دونوں ڈیموں کوحقیقت میں بدلنے کیلئے پرعزم ہے جس کیلئے ابتدائی کام پہلے ہی شروع کیا جاچکا ہے۔ بلوچستان میں پانی کے منصوبے دوسری اہم ترجیح ہیں جن میں ڈیلے ایکشن ڈیمز، سیلاب سے بچائو کا نظام ، نہروں اور پانی خیرہ کرنے کے چھوٹے ڈیموں کی تعمیر شامل ہے زیادہ توجہ موجودہ منصوبوں پر دی جائے گی جو اگلے ایک یا دو سال میں مکمل کئے جاسکتے ہیں ان منصوبوں میں کچی کینال، NAULONG STORAGE ڈیم ، پٹفیڈرکینال کی توسیع SHADIKUR ڈیم شامل ہیں ان بڑے منصوبوں کے علاوہ حکومت صوبے میں چھوٹے ڈیموں کی تعمیر پر بھی سرمایہ کاری کرے گی۔


اسی طرح سندھ میں RAINEE کینال اور RIGHT BANK کی توسیع کے منصوبے شامل ہیںجن پر بتدریج کام جاری ہے۔نئے مالی سال میں مکھی فراش رابطہ نہر پر بھی کام شروع کیا جائے گا۔

پنجاب میں نالہ ڈیگ اور GHABIR ڈیم کی صفائی کاکام جلد شروع ہوجائے گا۔

خیبرپختونخوا میں داسو کے علاوہ کیال خواڑ پن بجلی منصوبے اور دوسرے چھوٹے ڈیموں کیلئے بھی فنڈز فراہم کئے جائیںگے فاٹا میں شمال وزیرستان کے کرم تنگی اور جنوبی وزیرستان میں گومل زام ڈیم کیلئے فنڈز کی فراہمی جاری رہے گی۔


خیبرپختونخوا ،سندھ اورپنجاب میں آبی وسائل کوبروئے کار لانے کی متعدد سکیمیں شروع کی جائیںگی تاکہ سیلاب سے بچائو کے ساتھ ساتھ پانی کے ضیاع کو بھی کم کیاجائے اسکے علاوہ ملک بھر میں پانی کی نکاسی کی سکیمیں بھی شروع کی جائیںگی ۔