پارلیمانی امور کے وزیر شیخ آفتاب احمد نے سینیٹ کو بتایا کہ ان اقدامات میں ٹیلی میٹرک نظام کی توسیع اور نگرانی اور سیلابوں سے متعلق بروقت اعدادوشمار شامل ہیں۔

قدرتی آفات سے پیشگی خبردار کرنے والے سسٹم کو مستحکم بنانے کیلئے قومی حکمت عملی اختیار
14 اپریل 2017 (15:46)
0

سینیٹ کو آج بتایا گیا کہ حکومت نے قدرتی آفات سے پیشگی خبردار کرنے والے سسٹم کو مستحکم بنانے کیلئے ایک قومی حکمت عملی   اختیار کی ہے۔وقفہ سوالات کے دوران پارلیمانی امور کے وزیر شیخ آفتاب احمد نے ایوان کو بتایا کہ ان اقدامات میں ٹیلی میٹرک نظام کی توسیع اور نگرانی اور سیلابوں سے متعلق بروقت اعدادوشمار شامل ہیں۔

انہوں نے کہا کہ انیس ارب آٹھ کروڑ دس لاکھ روپے مالیت کا پی سی ون منظوری کیلئے منصوبہ بندی کمیشن کو بھیج دیا گیا ہے جس کا مقصد محکمہ موسمیات کی پیشگی اطلاع دینے کی صلاحیت کو بہتر بنانا ہے۔
ایک سوال پر پارلیمانی امور کے وزیر نے بتایا کہ جاپان کی حکومت نے چار ہوائی اڈوں کے لئے چہروں کو شناخت کرنے والے سی سی ٹی وی کیمرے فراہم کرنے کیلئے امداد کی منظوری دی ہے۔
انہوں نے بتایا کہ ملک کی سلامتی کی صورتحال کے تناظر میں یہ نظام ابتدائی طور پر کراچی ، لاہور ، اسلام آباد اور ملتان میں نصب کیا جائے گا۔ اسکے بعد اس نظام کو دوسرے ہوائی اڈوں پر بھی نصب کیا جائے گا۔
وفاقی وزیر نے کہا کہ پاکستان انٹرنیشنل ائرلائن کے پاس پینتیس ہوائی جہاز ہیں اور کم ایندھن خرچ کرنے والے جہازوں کی خریداری کا عمل جاری ہے جنہیں زائد المیعاد جہازوں کی جگہ استعمال میں لایا جائے گا۔

سینیٹ کے چیئرمین میاں رضاربانی نے ایوان سے وزراء کی غیرحاضری اور سوالوں کے جواب موصول نہ ہونے پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے۔انہوں نے کہا کہ وہ تمام سیکرٹریوں ، ایڈیشنل سیکرٹریوں اور جوائنٹ سیکرٹریوں کو حتمی نوٹسز جاری کر رہے ہیں کہ اگر مستقبل میں جواب موصول نہ ہونے یا پھر پارلیمنٹ سے معلومات کو روکا گیاتو وہ قانون کے مطابق کارروائی کریں گے۔
قانون کے وفاقی وزیر زاہد حامد نے واضح کیا کہ حکومت ایوان کا مکمل احترام کرتی ہے اور ایوان کی آئینی حیثیت کو نظرانداز نہیں کرتی۔انہوں نے کہا کہ وزراء کی موجودگی اور جوابات سے متعلق امورکو مل بیٹھ کر حل کیا جاسکتا ہے۔
بعد میں چیئرمین نے ایوان کا اجلاس غیرمعینہ مدت کے لئے ملتوی کر دیا۔


comments powered by Disqus