آج(پیر) سینٹ میں دو بل پیش کیے گئے

طالبان کے ساتھ مذاکرات کے عمل کو زیادہ طول نہیں دیا جائے گا:عبدالقادر بلوچ
14 اپریل 2014 (20:20)
0

سینیٹ نے آج(پیر) متفقہ طور پر ایک قرارداد کی منظوری دی جس میں حکومت سے قبائلی علاقوں کیلئے ایک قابل عمل منصوبے تیار کرنے اور عام کرنے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔

قرارداد افراسیاب خٹک اور فرحت اللہ بابر نے پیش کی تھی۔ریاستوں اور سرحدی علاقوں کے وزیر عبد القادر بلوچ نے اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے کہا کہ حکومت کسی خون خرابے کے بغیر ملک میں امن بحال کرنا چاہتی ہے انہوں نے کہا اس سلسلے میں تمام ممکنہ اقدامات کیے جارہے ہیں۔

انہوں نے کہا حکومت نے طالبان کے ساتھ ملک میں امن کے قیام کے نظریے کے ساتھ مذاکرات شروع کیے ہیں اور اس عمل کو زیادہ عرصے تک طول نہیں دیا جائے گا۔وفاقی وزیر نے کہا کہ عسکریت پسندی کی وجہ سے قبائلی علاقوں میں چھ ہزار افراد شہید کیے جاچکے ہیں اور اتنے ہی زخمی ہوئے ہیں انہوں نے کہا کہ دہشت گردی سے متاثرہ افراد میں زرتلافی کے طور پر چار ارب روپے تقسیم کیے جاچکے ہیں اور مستقبل قریب میں دو ارب روپے مزید تقسیم کیے جائیں گے۔

عبد القادر بلوچ نے کہا کہ تقریباً ایک لاکھ بے گھر افراد کیمپوں میں رہ رہے ہیں جبکہ دیگر اپنے رشتہ داروں کے ہاں آباد علاقوں میں رہائش پذیر ہیں انہوں نے کہا ہر بے گھر خاندان کو پچیس ہزار روپے دیئے جارہے ہیں لیکن حکومت اس رقم میں اضافے کا جائزہ لے رہی ہے۔وفاقی وزیر نے کہا کہ قبائلی علاقوں کی سماجی و معاشی ترقی کیلئے ایک منصوبہ زیر غور ہے۔

ایوان نے ایک اور قرارداد متفقہ طور پر منظور کی جس میں حکومت سے سفارش کی گئی ہے کہ وہ بلوچستان میں ریکوڈک کانوں کے ٹھیکے کا ٹینڈر شفاف انداز میں دینے کیلئے اقدامات کرے۔یہ قرارداد حافظ حمد اللہ نے پیش کی تھی۔

آج سینٹ میں دو بل پیش کیے گئے۔یہ بل سائبر سیکورٹی کونسل بل دو ہزار چودہ اور مالیاتی اداروں کی رقوم کی وصولی کا ترمیمی بل دو ہزار چودہ کے بارے میں ہیں۔چیئرمین سینٹ نے بل ایوان کی متعلقہ قائمہ کمیٹیوں کو بھجوا دیئے۔
سینٹ میں سبزی منڈی دھماکے کے متاثرین اور سینٹر حاجی غلام علی کے والد کی روح کے ایصال ثواب کیلئے فاتحہ خوانی کی گئی۔

 ایوان نے ایک اور قرارداد متفقہ طور پر منظور کی جس میں حکومت سے سفارش کی گئی ہے کہ وہ وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں لوگوں کو پینے کا صاف پانی فراہم کرنے کیلئے فوری اقدامات کرے۔

وزیر اطلاعات پرویز رشید نے اس موقع پر مختصر خطاب میں کہا کہ وفاقی دارالحکومت میں ایک سو تینتیس دیہات ہیں جن میں سے پینسٹھ میں پانی کی فراہمی کی سکیمیں مکمل کی گئی ہیں انہوں نے بتایا کہ ان میں سے پچین سکیمیں موثر طور پر کام کر رہی ہیں جبکہ دس کچھ وجوہات کی بنا ء پر کام نہیں کررہی ہیں۔


پارلیمانی امور کے وزیر مملکت شیخ آفتاب احمد نے کہا ہے کہ حکومت نے پی آئی اے کی مجموعی کارکردگی بہتر بنانے کے لئے کئی اقدامات کیے ہیں۔ پی آئی اے کی مجموعی کارکردگی کے بارے میں ایک قرارداد پر بحث سمیٹتے ہوئے انہوں نے کہا کہ بعض جہازوں کی مرمت کی گئی ہے اور اب وہ کام کررہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ مسافروں کو معیاری سروس کی فراہمی کے لئے بھی اقدامات کیے جارہے ہیں۔