Friday, 30 October 2020, 01:16:56 am
بھارتی حکومت نے مقبوضہ علاقے میں تقریباً50ہزار مندر قائم کرنے کے فیصلے پر عملدرآمد شروع کردیا
September 14, 2020

فائل فوٹو

غیر قانونی طور پر بھارت کے زیر تسلط جموں وکشمیر کو جلد ازجلد ہندو علاقے میں تبدیل کرنے کے نریندر مودی کی فسطائی حکومت کے مذموم منصوبے کے تحت بھارت نے مقبوضہ علاقے میں تقریبا50ہزار مندر قائم کرنے کے فیصلے پر عمل درآمد شروع کردیا ہے ۔

کشمیرمیڈیاسروس کے مطابق بھارتی حکومت نے خستہ حال مندروں کی تعمیر نو کے نام پر کئی تاریخی مساجد اوردرگاہوں کی نشاندہی کی ہے جہاں یہ مندر قائم کئے جارہے ہیں۔
آر ایس ایس اور بی جے پی گٹھ جوڑ کے بدنام زمانہ طریقہ واردات کے مطابق بھارتی حکومت نے دعویٰ کیا ہے کہ یہ مساجدہندوئوں کے قدیم مذہبی مقامات پر تعمیر کی گئی تھیں۔
قابض انتظامیہ اس مذموم منصوبے پر عمل درآمد کیلئے کشمیری پنڈتوں کے ایک مخصوص ٹولے کو استعمال کر رہی ہے ۔
کشمیر میڈیا سروس کی طرف سے جاری کی گئی ایک تجزیاتی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ بھارت مقبوضہ علاقے میں آبادی کے تناسب کو منظم انداز میں تبدیل کرنے کیلئے بڑے پیمانے پر قتل عام، جبری گمشدگیوں، ظلم وتشدد اور گرفتاریوں کا استعمال کر رہا ہے ۔
رپورٹ میں کہاگیا ہے کہ گزشتہ سال 5اگست سے رواں ماہ کے پہلے ہفتے تک بھارتی فوجیوںنے 237 بے گناہ کشمیریوں کو شہید کیاجن میں سے 18کو حراست کے دوران شہید کیا۔
دریں اثنا اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل کو بتایا گیا کہ غیر قانونی طور پر بھارت کے زیر تسلط کشمیر میں پیلٹ گن کے استعمال سمیت شہریوں کے خلا ف بھارتی فوج اور پولیس کا تشدد جاری ہے۔
جنیوا میں آج کونسل کے45 ویں اجلاس کے آغاز پر اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے کمشنرMICHELET BACHELET نے دنیا بھر میں انسانی حقوق کی صورتحال پیش کی۔
MICHELET BACHELET نے کہا کہ بھارت کے غیر قانونی زیرتسلط جموں و کشمیر میں آئین اور ڈومیسائل کے قوانین سمیت بڑی قانونی تبدیلیاں شدید بے چینی پیدا کررہی ہیں اور سیاحی مباحثے اور عوامی شمولیت پر مسلسل سخت پابندیاں جاری ہیں۔
انسانی حقوق کے ہائی کمشنر آفس کے پاکستان اور بھارت کے ساتھ مجموعی رابطوںکے بارے میں کشمیریوں کے حقوق کے تحفظ کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ ان کا آفس کشمیریوں کے حقوق کے تحفظ کے لئے بھارت اور پاکستان دونوں کے ساتھ مسلسل رابطے کے لئے پرعزم ہے جوکہ مزید کشیدگی اور تنازعے سے بچنے کا بہترین طریقہ ہے۔
ہائی کمشنر کے کے بیان میں شدید تشویش کا اظہار کیا گیا ہے جن کا پاکستان' عالمی ذرائع ابلاغ اور انسانی حقوق کی عالمی تنظیمیں بار بار اظہار کررہی ہیں۔