Tuesday, 25 September 2018, 06:06:38 pm
بلوچستان کا 350ارب روپے خسارے کا بجٹ صوبائی اسمبلی میں پیش
May 14, 2018

  صوبہ بلوچستان کے مالی سال2018-19  کا 352  ارب 30 کروڑ کا بجٹ پیر کوکوئٹہ میں صوبائی اسمبلی میں پیش کیا گیا۔مالیاتی امور کے بارے میں وزیر اعلیٰ کی مشیر ڈاکٹر رقیہ سعید ہاشمی نے ایوان میں بجٹ پیش کیا۔اپنی تقریر میں مشیر خزانہ ڈاکٹر رقیہ نے کہا کہ بجٹ میں اکسٹھ ارب ستر کروڑ روپے کا خسارہ دکھایا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ خسارہ صوبہ اپنے وسائل سے پورا کرے گا۔انہوں نے مزید کہا کہ ستائیس ارب نوے کروڑ روپے 1231  جاری ترقیاتی منصوبوں کیلئے مختص کئے گئے ہیں جن کو آئندہ مالی سال کے سرکاری شعبے کے ترقیاتی پروگرام میں شامل کیا گیا ہے۔اسی طرحPSDP  میں 1432  نئی سکیمیں شامل کی گئی ہیں جن کیلئے بجٹ میں 67 ارب 10 کروڑ روپے مختص کئے گئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ 264  ارب 4 کروڑ روپے غیر ترقیاتی اخراجات کیلئے جبکہ 88 ارب 30 کروڑ روپے ترقیاتی کاموں کیلئے رکھے گئے ہیں۔انہوں نے کہا بجٹ میں چھ ارب چالیس کروڑ روپے مقامی حکومتوں کے غیر ترقیاتی اخراجات کیلئے مختص کئے گئے ہیں جبکہ مقامی حکومتوں کو ترقیاتی کاموں کیلئے پہلے ہی پانچ ارب روپے فراہم کئے جاچکے ہیں۔

ڈاکٹر رقیہ نے مزید کہا کہ لائیو سٹاک اور ڈیری مصنوعات دیہی علاقوں میں کسانوں کی گزر بسر کا سب سے بڑا ذریعہ ہیں اس لئے بلوچستان میں لائیو سٹاک کے شعبے کے لئے چار ارب روپے کی رقم مختص کی گئی ہے۔ڈاکٹر رقیہ نے مزید کہا کہ حکومت صوبے میں لوگوں کو نوکریاں فراہم کرنے کی کوشش کررہی ہے اور اس مقصد کیلئے نئے مالی سال کے دوران پڑھے لکھے نوجوانوں کیلئے آٹھ ہزار آسامیاں پیدا کی جائیں گی۔انہوں نے کہا کہ آئندہ بجٹ میں صوبائی سرکاری ملازمین کی تنخواہوں اور پنشنروں کی پنشن میں دس فیصد اضافہ کیا گیا ہے۔رقیہ ہاشمی نے کہاکہ بلوچستان معدنیات سے مالا مال صوبہ ہے اور معدنیات کے شعبے میں غیر ترقیاتی سکیموں کیلئے دو ارب روپے رکھے گئے ہیں جبکہ صوبے میں تجارت اور کاروبار کے فروغ کیلئے بھی ایک ارب بیس کروڑ روپے مختص کیے گئے ہیں۔انہوں نے کہا کہ حکومت صوبے میں امن و امان کی صورتحال بہتر بنانے اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکاروں کو جدید سہولیات کی فراہمی کیلئے بھرپور کوششیں کررہی ہے اور اس مقصد کیلئے نئے مالی سال کے بجٹ میں چونتیس ارب روپے مختص کیے گئے ہیں۔انہوں نے کہا کہ صحت کے شعبے کی بہتری کیلئے اور صوبے میں غریب لوگوں کو علاج معالجے کی جدید سہولیات کی فراہمی کیلئے انیس اعشاریہ چار ارب روپے رکھے گئے ہیں۔ڈاکٹر رقیہ نے مزید کہا کہ تعلیم کے شعبے کی بہتری کیلئے تینتالیس اعشاریہ نو ارب روپے مختص کیے گئے ہیں جبکہ زرعی شعبے کے فروغ کیلئے آٹھ ارب ستر کروڑ روپے خرچ کیے جائیں گے۔انہوں نے کہا کہ صوبے میں ماہی پروری کے شعبے کیلئے نو کروڑ بیس لاکھ روپے مختص کیے گئے ہیں جبکہ حکومت صارفین کو گندم کی خریداری پر ستاسی کروڑ ستر لاکھ روپے کی اعانت فراہم کرے گی۔اس سے قبل بلوچستان کی صوبائی کابینہ نے بجٹ کی باضابطہ منظوری دی۔