Monday, 06 July 2020, 10:52:00 am

مزید خبریں

 
حریت تنظیموں نے بی جے پی کے آلہ کار بننے پر آمادہ ہونے والوں کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا
January 14, 2020

فائل فوٹو

مقبوضہ کشمیر میں حریت پسندتنظیموں نے ہندوتوا ایجنڈے کو آگے بڑھانے کے لیے بھارتیہ جنتا پارٹی کے آلہ کار بننے پر آمادہ ہونے والوں کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔

جموں و کشمیر پیپلز لیگ ، جموں وکشمیرینگ مینز لیگ اور دیگر حریت پسندتنظیموں نے سری نگر میں جاری اپنے بیانات میں پی ڈی پی کے سابق رکن الطاف بخاری جیسے لوگوں کو بی جے پی کے نئے آلہ کار کے طورپر خود کو پیش کرنے پر خبردارکرتے ہوئے کہاہے کہ ان لوگوں کو کشمیر کے نصب العین کا غدار تصور کیا جائیگا۔

بیان میں کہاگیا ہے کہ مقبوضہ کشمیر کے ہر سیاستدان کو یہ بات ذہن میں رکھنی چاہیے کہ بی جے پی کے رہنماؤں نے یہاں کے سابق وزرائے اعلیٰ کی کس طرح تذلیل کی ہے۔

مقبوضہ کشمیر میں مسلسل 163ویں روز بھی فوجی محاصرے اور سخت پابندیوں کے باوجود سینکڑوں افراد نے ضلع بڈگام میں شہید نوجوان کی نماز جنازہ میں شرکت کی۔اس موقع پر جنازے کے شرکاء نے آزادی کے حق میں اور بھارت کے خلاف نعرے بلند کئے۔

کشمیر اکنامک الائنس نے سرینگر میں جاری ایک بیان میں بھارت کی طرف سے مسلط کردہ گڈز اینڈ سروسز ٹیکس کے انفورسمنٹ سکواڈ کی طرف سے سرینگر جموں شاہراہ پر کشمیری تاجروں کو ہراساں کئے جانے کی شدید مذمت کی ہے ۔

ادھربھارت میں شہریت ترمیمی قانون کے خلاف جاری احتجاجی مظاہروں کے دوران بھارتی ریاست کرناٹک کے دارالحکومت بنگلورو کی گلیوں میں 'فری کشمیر' کے نعرے دیکھے گئے۔ یہ نعرے بھارتی وزیر داخلہ امت شاہ کی طرف سے بھارت مخالف نعرے لگانے والوں کے خلاف سخت کارروائی کے انتباہ کے ایک دن بعد سامنے آئے۔