توانائی کے بارے میں کابینہ کمیٹی کو بتایا گیا ہے کہ اگلے سال تک ملک میں اضافی بجلی دستیاب ہوگی
13 اکتوبر 2017 (08:20)
0

توانائی کے بارے میں کابینہ کمیٹی کااجلاس اسلام آباد میں وزیراعظم شاہد خاقان عباسی کی زیرصدارت ہوا۔
اجلاس میں پورٹ قاسم کیلئے ترسیلی لائن منصوبہ کوئلہ سے چلنے والے بجلی کے منصوبے، نیلم جہلم پروجیکٹ، پن بجلی کے منصوبوں، تربیلا فور اور گولن گول پن بجلی منصوبے پر پیشرفت کاجائزہ لیاگیا۔
این ٹی ایف سی کے منیجنگ ڈائریکٹر نے اجلاس کو بتایا کہ پورٹ قاسم بجلی گھر سے بجلی کی فراہمی کیلئے ترسیلی لائن اس مہینے کے آخر تک مکمل ہوجائے گی۔
اسی طرح چترال کی تمام وادیوں میں بجلی کی فراہمی کیلئے پانچ ارب دس کروڑ روپے مالیت کے دو منصوبے تیار کئے گئے ہیں۔وزیراعظم نے پی سی ون کی فوری منظوری کی ہدایت کی تاکہ چترال کے تمام دیہات کو بجلی کی فوری فراہمی کوممکن بنایا جاسکے۔
بجلی کی وزارت نے اجلاس کوبتایا کہ ایران ایک سو میگاواٹ بجلی کے موجودہ انتظام کے علاوہ مزید ایک سومیگاواٹ بجلی فراہم کرنے میں دلچسپی رکھتا ہے۔
مزید ایک سو میگاواٹ بجلی فراہم کرنے کیلئے ترسیلی لائن اور گرڈ سٹیشن تعمیر کیاجائیگا تاکہ مکران ڈویژن خصوصا گوادر پورٹ اور صنعتی علاقے کی ضروریات فوری طورپر پوری کی جاسکیں۔
کابینہ کمیٹی نے تجویز کی منظوری دیدی او ر وزارت کو ہدایت کی کہ ایران سے اضافی بجلی کی خریداری کیلئے فوری انتظامات کئے جائیں۔بجلی کی وزارت نے اجلاس کو یہ بھی بتایا کہ اگلے سال کے آخر تک ملک میں ضرورت سے زائد بجلی پیدا ہونا شروع ہوجائیگی۔