وزیراعلیٰ سندھ قائم علی شاہ نے واقعےکا سخت نوٹس لیتے ہوئے علاقے کے ایس ایس پی اور ایس ایچ او کو معطل کر دیا ہے۔

 کراچی میں بس پر مسلح افراد کی فائرنگ،43جاں بحق
13 مئی 2015 (11:06)
0

کراچی میں آج صبح ایک مسافر بس پر فائرنگ کے نتیجے میں 43 افراد جاں بحق اور تیرہ زخمی ہو گئے۔یہ واقعہ اس وقت پیش آیا جب نامعلوم مسلح افراد نے صفورا گوٹھ کے علاقے میں ایک کمیونٹی بس پر فائرنگ کی۔واقعے کے فوراً بعد پولیس اور رینجرز نے علاقے کو گھیرے میں لے لیا۔ریڈیو پاکستان کے کراچی کے نمائندے نے بتایا ہے کہ بس میں پینسٹھ افراد سوار تھے۔


سندھ کے وزیراعلیٰ سید قائم علی شاہ نے واقعے کا سخت نوٹس لیتے ہوئے علاقے کے ایس ایس پی اور ایس ایچ او کو معطل کر دیا ہے۔صحافیوں سے باتیں کرتے ہوئے وزیراعلیٰ نے اس واقعے پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا اور کہا کہ انہوں نے اس سلسلے میں آئی جی سندھ سے فوری طور پر رپورٹ طلب کی ہے۔انہوں نے کہا کہ اس گھناونے جرم میں ملوث افراد کو انصاف کے کٹہرے میں لایا جائے گا۔آئی جی سندھ غلام حیدر نے بھی واقعے کی جگہ کا دورہ کیا۔


صحافیوں سےباتیں کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ تین موٹرسائیکلوں پرسوارتقریباً چھ دہشتگردوں نے بس پراندھا دھند فائرنگ کی۔

صدر ممنون حسین اور وزیراعظم محمد نواز شریف نے کراچی میں فائرنگ کے واقعے کی شدید مذمت کی ہے۔
اپنے الگ الگ بیان میں انہوں نے دہشت گردی کے واقعے میں قیمتی جانوں کے ضیاع پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا۔
ادھر ، وزیراعظم نے متعلقہ حکام سے واقعے کی مکمل رپورٹ طلب کی ہے۔
سندھ کے گورنرعشرت العباد \\\'گورنر پنجاب رفیق رجوانہ ، وزیراعلیٰ پنجاب شہباز شریف ، وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان اور وزیر اطلاعات پرویز رشید نے بھی واقعہ کی شدید مذمت کی ہے۔
وزیر اطلاعات نے کہا کہ ملک سے دہشت گردی کے خاتمے تک ضرب عضب اور کراچی آپریشن جاری رہیں گے۔
پرویز رشید نے سیاستدانوں ، علماء ، دانشوروں اور سول سوسائٹی کے ارکان پر زور دیا کہ وہ دہشت گردوں کو شکست دینے کیلئے اپنی صفوں میں اتحاد پیدا کریں۔

اسماعیلی کمیونٹی کے روحانی پیشوا پرنس آغا خان نے اسماعیلیوں کو لے جانے والی بس پر حملے پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا ہے۔
ایک بیان میں انہوں نے کہا کہ حملہ پرامن برادری کے خلاف تشدد کی بلاجواز کارروائی ہے۔
آغا خان نے کہا کہ ان کی دعائیں ہلاک شدگان اور ان کے اہل خانہ اور زخمیوں کے ساتھ ہیں۔


وزیر داخلہ نے ڈائریکٹر جنرل رینجرز سندھ کو ٹیلی فون کیا اور ان سے کراچی میں فائرنگ کے المناک واقعے کے بارے میں تفصیلات معلوم کیں۔
ڈی جی رینجرز نے وزیر داخلہ کو بتایا کہ وہ اس گھنائونے جرم میں ملوث مجرموں کا سراغ لگانے کی کوشش کر رہے ہیں۔
وزیر اعظم نوازشریف نے ملک بھر جبکہ صوبائی حکومت نے صوبے بھر میں یوم سوگ منانے کا اعلان کیا ہے۔
متحدہ قومی موومنٹ نے بھی یوم سوگ منانے کا اعلان کیا ہے اور تاجروں اور ٹرانسپورٹروں سے کہا ہے کہ وہ اپنے کاروبار بند رکھیں۔

 امریکی سفیر رچرڈ اولسن نے ایک بیان میں کراچی میں دہشت گردوں کے گھنائونے حملے کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ امریکہ اس سانحے میں ملوث تمام عناصر کو انصاف کے کٹہرے میں لانے کی پاکستان کی کوششوں کی حمایت کرتاہے۔
انہوں نے کہا کہ امریکہ اس افسوس ناک واقعے کی تحقیقات کرنے والے اداروں کی ہر ممکن معاونت کرنے کو تیار ہے۔