وزیر خزانہ نے کہا کہ حکومتی دانشمندانہ اقتصادی پالیسیوں کی بدولت ملک میں ترقی وخوشحالی آئے گی۔

 آئندہ سال کیلئے ترقی کا ہدف6فیصد مقرر کیا ہے،ڈار
13 جون 2017 (18:42)
0

قومی اسمبلی نے منگل کے روز مالیاتی بل 2017 کی منظوری دے دی ہے جس سے آئندہ مالی سال کیلئے بجٹ تجاویز کو قانونی تحفظ حاصل ہو گیا ہے۔
ایوان نے بحث کے دوران وزیر خزانہ اسحق ڈار ، سنیٹروں اور ارکان قومی اسمبلی کی طرف سے تجویز کی گئی کئی ترامیم کی منظوری دی۔
چار ہزار سات سو ارب روپے مالیات کے مجموعی بجٹ کا مقصد ملک میں ترقی کی رفتار تیز کرنا ہے۔
وفاقی ٹیکسوں میں صوبوں کے حصوں کا تخمینہ دو ہزار تین سو چوراسی ارب روپے سے زائد لگایا گیا ہے جو ختم ہونے والے مالی سال کے بجٹ تخمینوں سے گیارہ اعشاریہ چھ فیصد زائد ہے۔
آئندہ مالی سال کے دوران ترسیلات زر کا تخمینہ آٹھ سو سینتیس ارب سے زائد لگایا گیا ہے۔
وزیر خزانہ محمد اسحق ڈار نے کہا ہے کہ حکومت کی دانشمندانہ اقتصادی پالیسیوں کی بدولت ملک میں ترقی اور خوشحالی آئے گی جس سے عوام کی فی کس آمدنی میں اضافہ ہو گا۔
آج سہ پہر قومی اسمبلی میں دو ہزار سترہ اٹھارہ کے بجٹ پر بحث سمیٹتے ہوئے انہوں نے کہا کہ حکومت نے آئندہ سال کے لئے ترقی کا چھ فیصد ہدف مقرر کیا ہے جو حقیقی اور قابل حصول ہے۔
وزیر خزانہ نے امید ظاہر کی کہ ہم دو ہزار اٹھارہ انیس تک سات فیصد ملکی مجموعی پیداوار کا ہدف حاصل کر لیں گے۔
اسحق ڈار نے کہا کہ سینٹ کی 276 میں سے 75 بجٹ تجاویز کو مکمل ، اصولی یا جزوی طور پر تسلیم کر لیا گیا ہے جبکہ 147 کو غور کے لئے منصوبہ بندی ڈویژن بھجوا دیا گیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ حکومت تمام صوبوں کی مشاورت سے قومی مالیاتی کمیشن ایوارڈ کو جلد از جلد مکمل کرنا چاہتی ہے۔
وزیر خزانہ نے کہا کہ مجموعی قومی پیداوار کے لئے مجموعی قرضے کو ساٹھ اعشاریہ دو تین فیصد سے کم کر کے انسٹھ اعشاریہ تین فیصد کر دیا گیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ملک کا غیرملکی قرضہ2013 میں اڑتالیس ارب دس کروڑ ڈالر تھا جو اب اکتالیس ارب نوے کروڑ ڈالر ہو گیا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ حکومت ملک بھر میں انسداد دہشت گردی کی کارروائیوں کے لئے سیکورٹی فورسز کو تمام ضروری وسائل فراہم کر رہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ عارضی بے گھر افراد کی بحالی اور قبائلی علاقوں کی تعمیر نو بھی جاری ہے اور اس مقصد کیلئے آئندہ بجٹ میں نوے ارب روپے مختص کئے گئے ہیں۔
اسحق ڈار نے کہا کہ حکومت نے برآمدات کے فروغ کیلئے سیلز ٹیکس اور دیگر ڈیوٹیاں کم کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔
زراعت کے بارے میں وزیر خزانہ نے کہا کہ زرعی قرضوں پر شرح منافع چودہ فیصد سے کم کر کے نواعشاریہ نو فیصد کر دی گئی ہے اور چھوٹے کاشتکاروں کیلئے قرصے کی حد 75 ہزار روپے تک بڑھا دی گئی ہے۔
وزیر خزانہ نے کہا کہ حکومت ڈیزل پر چلنے والے پیٹر انجن پر سیلز تیکس ختم کر دیا ہے اور ڈیزل انجن کے پرزوں پر ڈیوٹی بیس فیصد سے کم کر کے تین فیصد کر دی گئی ہے جس سے چھوٹے کسانوں کو فائدہ ہو گا۔
اسحق ڈار نے کہا کہ سیلز ٹیکس کے خاتمے اور ٹیکس مراعات سمیت کئی ترغیبات فراہم کی گئی ہیں تاکہ ملک میں اسلامی بنکاری کو فروغ مل سکے۔ انہوں نے کہا کہ اسلامی بنکاری پر دوگنا ٹیکس ختم کیا جا رہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ مزدور کی گزشتہ اجرت میں دس فیصد اضافہ کر کے اسکی کم سے کم اجرت پندرہ ہزار چار سو روپے کر دی گئی ہے۔
انہوں نے کہا کہ بجٹ میں خدمات کے شعبے کیلئے رعایت کا اعلان کیا گیا ہے جس میں انفارمیشن ٹیکنالوجی سے متعلق سروسز کو بھی شامل کیا گیا ہے۔
اسحق ڈار نے کہا کہ پاکستان کی فلم انڈسٹری اور ڈرامے کی بحالی کیلئے خصوصی پیکیج تیار کیا جارہا ہے

قومی اسمبلی نے آئندہ مالی سال کیلئے مختلف وزارتوں ، ڈویژنوں اور محکموں سے متعلق اکہتر مطالبات زر کی منظوری دے دی ہے۔
اپوزیشن کی طرف سے ان مطالبات زر میں کٹوتی کی کوئی تحریک نہیں پیش کی گئی کیونکہ انہوں نے اپوزیشن کی تقاریر پی ٹی وی پر براہ راست نشر نہ کرنے پر ایوان کا بائیکاٹ کر رکھا ہے۔
وزیر خزانہ نے اپنے اختتامی کلمات میں کہا کہ حکومت کے پانچ سالہ اقتصادی وژن میں خودکفالت ، غربت کا خاتمہ ، خوراک کا تحفظ اور پائیدار اقتصادی ترقی شامل ہیں۔
انہوں نے کہا کہ اگر ہم اقتصادی منشور پر متفق ہو جائیں تو یہ دنیا کیلئے ایک مثبت پیغام ہو گا اور مستقبل کی اقتصادی پالیسیوں پر سیاسی تبدیلی کا کوئی اثر نہیں پڑے گا۔
قائد حزب اختلاف سید خورشید احمد شاہ نے قومی اسمبلی میں اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ وزیراعظم نواز شریف کو خود پارلیمنٹ آنا چاہئیے اور ایوان کو خلیج کی صورتحال پر سعودی قیادت سے بات چیت کے بارے میں اعتماد میں لینا چاہئیے۔

انہوں نے کہا کہ وزیراعظم کو خلیج ممالک اور پینتیس رکنی اسلامی فوجی اتحاد کے بارے میں آئندہ کی خارجہ پالیسی پر پارلیمنٹ کو اعتماد میں لینا چاہئیے۔
بعد میں حزب اختلاف کی جماعتوں کے اراکین نے ایوان سے واک آؤٹ کیا ۔ ان کا مطالبہ تھا کہ قائد حزب اختلاف کی تقریر پی ٹی وی پر براہ راست نشر کی جائے۔