بحث میں حصہ لیتے ہوئے افراسیاب خٹک نے کہا کہ انتہا پسندی اور دہشت گردی کے خلاف تمام سیاسی قوتوں کو یکجا ہونا ہوگا۔

13 جنوری 2014 (20:41)
0

سینٹ نے پیر کے روز خیبرپختونخواہ میں امن و امان کی صورتحال خصوصاً صوبے میں دہشت گردی کے حالیہ حملوں کے حوالے سے بحث شروع کی۔
اس بارے میں تحریک حاجی محمد عدیل نے پیش کی تھی۔
بحث میں حصہ لیتے ہوئے افراسیاب خٹک نے کہا کہ انتہا پسندی اور دہشت گردی کے خلاف تمام سیاسی قوتوں کو یکجا ہونا ہوگا۔
زاہد خان کا کہنا تھا کہ تحریک انصاف کی پارٹی قیادت خیبرپختونخواہ میں انتہا پسندی اور دہشت گردی کا مسئلہ حل کرنے پر کوئی توجہ نہیں دے رہی۔
عبد الرئوف خان نے خیبر پختونخواہ اور کراچی میں حال ہی میں ہونے والے دہشت گردانہ حملوں کی مذمت کی ' انہوں نے کہا کہ بعض مخفی قوتیں ملک میں امن و امان کی صورتحال پیدا کرنے کیلئے کام کررہی ہیں۔
میاں عبد الغفور حیدری نے کہا کہ ملک خصوصاً خیبر پختونخواہ میں امن و امان کی صورتحال کا مسئلہ حل کرنے کے لئے جامع حکمت عملی وضع کرنے کی اشد ضرورت ہے۔
میاں رضا ربانی نے کہا کہ حکومت کو طالبان کے ساتھ مذاکرات کی غرض سے ہونے والی پیش رفت کے بارے میںپارلیمنٹ اور دوسرے فریقوں کو اعتمادمیں لینا چاہیے۔


سید مظفر حسین شاہ نے کہا کہ دہشت گردی کاخاتمہ کرنے کے لئے فیصلہ کن اقدامات اور موثر حکومت کی اشد ضرورت ہے۔
احمد حسن نے کہا صوبے میں امن عامہ کے حالات بہتر بنانے کے لئے حکومتی مشینری کو موثر بنایا جانا اور ضروری تدابیر اختیار کی جانی چاہئیں۔
فرحت اللہ بابر نے الزام لگایاکہ خیبر پختونخواہ کی ایک حکمران جماعت نے دہشت گردی کے خلاف قومی اتفاقرائے کو منتشر کرکے رکھ دیا ہے انہوں نے کہا اس سے سیکورٹی فورسز کے حوصلے پست ہوئے ہیں۔
کلثوم پروین کا کہنا تھا کہ تمام سیاسی قیادت کو کُل جماعتی کانفرنس کی تجاویز کی پاسداری کرنی چاہیے۔
ایوان میں خیبر پختونخواہ اور کراچی کے حالیہ دہشت گردی کے واقعات میں شہید ہونے والوں کیلئے فاتحہ خوانی کی گئی۔
ایوان میں ایک قرارداد پیش کی گئی جس میں حکومت سے کہا گیا ہے کہ بھارت کے ساتھ جامع مذاکرات یا کسی بھی قسم کی پہلے سے جاری یا نئی بات چیت میں پانی کے بارے میں پاکستان کی تمام شکایات شامل کی جائیں ۔
قرارداد سید صغریٰ امام نے پیش کی ۔
ایوان نے دوہزار تیرہ کے انتخابات میں مبینہ بے قاعدگیوں اور دھاندلیوں کے بارے میں ایک تحریک پر بحث کی ۔ تحریک سعید غنی نے پیش کی تھی ۔
بحث میں حصہ لیتے ہوئے ارکان نے کہا کہ پاکستان کی مضبوطی کیلئے ایک آزاد اور خودمختار الیکشن کمیشن کا وجود ناگزیر ہے ۔
ان کا کہنا تھا کہ انتخابی عمل میں بے قاعدگیوں کی روک تھام کیلئے انتخابات میں الیکٹرانک ووٹنگ مشین او ربائیومیٹرک نظام سمیت جدید ٹیکنالوجی اختیار کی جانی چاہیئے ۔
ایوان کا اجلاس اب بدھ کو سہ پہر تین بجے ہوگا۔