چوہدری نثار علی خان نے کہاہے کہ آئندہ نامکمل کوائف کی فراہمی پرویزے کے اجرا میں مکمل پابندی کے ساتھ ساتھ ایسے تمام غیر ملکیوں کو ملک میں داخلے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔

پاکستانی ویزوں کے اجرا سے متعلقہ قوانین کا بلاامتیاز اطلاق یقینی بنایا جائے: وزیرداخلہ
13 اپریل 2017 (15:49)
0

وزراتِ داخلہ کی جانب سے تمام پاکستانی سفارتخانوں، وزارتِ خارجہ، سول ایویشن اورامیگریشن حکام کو ہدایت کی گئی ہے کہ پاکستانی ویزوں کے اجرا اورغیر ملکیوں کی ملک میں آمد و رفت اور قیام سے متعلقہ قوانین کا بلا تفریق و امتیاز اطلاق یقینی بنایا جائے ۔ آئندہ نامکمل کوائف کی فراہمی پرویزے کے اجرا میں مکمل پابندی کے ساتھ ساتھ ایسے تمام غیر ملکیوں کو ملک میں داخلے اور کسی قسم کی سرگرمی اختیار کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ 

یہ فیصلہ وزیرِ داخلہ چوہدری نثار علی خان کی زیرِ صدرات آج وزارتِ داخلہ میں منعقدہ اعلی سطحی اجلاس میں لیا گیا۔ اجلاس میں سیکرٹری داخلہ، ایڈوکیٹ جنرل، چیئرمین نادرا، وزارتِ داخلہ، ایف آئی اے اور دیگر سینئر افسران شریک تھے۔
پاکستانی ویزہ معاملات میں شفافیت کو یقینی بنانے کی غرض سے اجلاس میں یہ فیصلہ کیا گیا کہ آئندہ غیر ممالک میں واقع پاکستان کے تمام سفارتخانے اور ویزہ اجرا کے مجاز اہلکار اس بات کا پابند ہوں گے کہ ویزے کے حصول کے لئے غیر ملکی درخواست گزار کی مکمل معلومات کے ساتھ ساتھ ویزے کا اجرا کرنے والے افسران کا بھی ریکارڈ محفوظ اور وزارتِ داخلہ کو فوری طور منتقل کیا جائے گا۔
شکار کی غرض سے پاکستان آنے والے غیر ملکی مہمانوں کی آمد رفت کے سلسلے میں حکومت ِ پاکستان کے طے شدہ قواعد و ضوابط پر عمل درآمد کرانے میں غفلت اور دیگر بے ضابطگیوں کا سخت نوٹس لیتے ہوئے وزیرِ داخلہ نے ہدایت کی کہ تمام سفارت خانے، سول ایویشن، ایف آئی اے اور امیگریشن حکام اس بات کو یقینی بنائیں کہ کسی بھی سرگرمی کی وجہ سے پاکستان آنے والے تمام وفود اور ان کے ہمراہ آنے والے سٹاف کو مکمل کوائف کی فراہمی پر ہی ویزے کا اجرا کیا جائے اور قانونی جواز کی موجودگی میں ہی انکو ملک میں داخلے کی اجازت دی جائے ۔ وزیرِ داخلہ نے ہدایت کی کہ کسی بھی غیر ملکی وفد کی پاکستان آمد اور ملک میں قیام کے دوران سرگرمیوں کی مکمل تفصیلات متعلقہ سفارت خانے کی جانب سے وزارت داخلہ کو کم از کم ایک ہفتہ قبل مہیا کی جائیں۔ انہوں نے کہا کہ اس بات کو یقینی بنایا جائے کہ جہاں پیشگی سیکیورٹی کلیئرنس کی ضرورت ہو وہاں ویزہ اجرا سے پہلے وزارت داخلہ سے سیکیورٹی کلیئرنس حاصل کی جائے ۔
وزیرِ داخلہ نے سول ایویشن اور ایف آئی اے حکام کو بھی ہدایت کی کہ اس امر کو یقینی بنایا جائے کہ شکار کی غرض سے آنے والے غیر ملکی وفود اور مہمانوں سے وابستہ پیشگی پہنچنے والے تمام سٹاف کی آمد و رفت صرف انٹر نیشنل ائیرپورٹس کے ذریعے ہی ممکن ہو اور امیگریشن کا تمام عمل بلا تفریق و امتیاز مکمل کیا جائے اور کسی کو امیگریشن کا عمل مکمل کیے بغیر داخلے کی اجازت نہ ہو۔ آئندہ اس سلسلے میں کسی قسم کی کوتاہی یا غفلت کے مرتکب ذمہ داران کے خلاف کاروائی کی جائے ۔
انہوں نے کہا کہ حکومت کی پیشگی اجازت سے نجی پروازوں کے ذریعے کسی دوسرے ائیرپورٹ پر پاکستان پہنچنے والے سربراہاں اور مہمانوں کی امیگریشن کلیرنس کے لئے ایف آئی اے، ایف بی آر تما م ضروری سہولتوں سے مزین کانٹرز کے قیام کو یقینی بنائیں۔
وزیرِ داخلہ نے کہا کہ ماضی میں ویزہ معاملات میں بے ضابطگیوں کو مد نظر رکھتے ہوئے یہ ضروری ہے کہ جہاں ویزہ قوانین اور متعلقہ ایس او پیز کا از سر نو جائزہ لیا جائے وہاں اس بات کو یقینی بنایا جائے کہ ویزہ قوانین پر عمل درآمد کو مکمل طور پر یقینی بنایا جائے ۔
انہوں نے کہا کہ ماضی میں جس طرح ویزوں کے اجرا میں قوانین کی دھجیاں بکھیری گئیں اس سے نہ ملکی سیکیورٹی کو دا پر لگایا گیا بلکہ ملکی قوانین اور قومی وقار کو بھی مذاق اور تضحیک کا نشانہ بنایا گیا۔انہوں نے کہا کہ خود مختار ی اور ملکی وقار کا تقاضہ ہے کہ ملکی قوانین کابلا تفریق و امتیاز اور مکمل اطلاق یقینی بنایا جائے ۔


comments powered by Disqus