Tuesday, 20 August 2019, 09:04:13 pm
کنٹرول لائن کے دونوں طرف اوردنیابھرمیں شہدائے کشمیرمنایاگیا
July 13, 2019

کنٹرول لائن کے دونوں طرف اوردنیابھرمیں ہفتے کے روز شہدائے کشمیرمنایاگیا۔

دن منانے کامقصداس عزم کی تجدید کرناہے کہ کشمیریوں کے استصواب رائے کے ناقابل تنسیخ حق کے حصول تک شہدا کامشن جاری رہے گا۔

انیس سواکتیس میں آج کے دن ڈوگرہ مہاراجہ کے فوجیوں نے سرینگرسنٹرل جیل کے سامنے اس وقت یکے بعد دیگرے بائیس کشمیریوں کو قتل کردیا جب ایک کشمیری عبدالقدیر کے خلاف عدالتی کارروائی جاری تھی جس نے کشمیریوں کو ڈوگرہ راج کے خلاف بغاوت کی تحریک دی تھی۔

اس موقع پرمکمل ہڑتال کی گئی اورسرینگرمیں نقشبند صاحب کی طرف مارچ کیاگیا جہاں انیس سواکتیس کے شہدا مدفون ہیں۔مشترکہ حریت قیادت نے مکمل ہڑتال اورمارچ کی اپیل کی تھی۔

ادھرقابض حکام نے سرینگرمیں مارچ کے شرکا کو روکنے کے لئے مختلف راستوں میں رکاوٹیں کھڑی کیں اور بھارتی فوج اورپولیس کی بھاری نفری تعینات کر دی تھی۔

ادھر بھارتی حکام نے آج نقشبند صاحب میں شہدا کے قبرستان کی طرف مارچ روکنے کیلئے سری نگر میں رکاوٹیں کھڑی کیں ۔

دوسری جانب کل جماعتی حریت کانفرنس کے چیئرمین سید علی گیلانی 2010سے گھر میں نظر بند ہیں۔

انتظامیہ نے حریت فورم کے چیئرمین میرواعظ عمر فاروق کو بھی گھر میں نظر بند کردیا ہے میرواعظ نے سری نگر کی تاریخی جامع مسجد سے نقشبند صاحب میں شہدا کی قبرستان تک مارچ کی قیادت کرنا تھی ۔

قابض حکام مقبوضہ علاقے میں ٹرین سروس بھی معطل کردی ۔

ادھر آزاد جموں و کشمیر میں دن کا آغاز شہداء پاکستان کی سا لمیت اور خوشحالی اور مقبوضہ جموں و کشمیر کی جلد آزادی کیلئے خصوصی دعائوں سے ہوا۔

کشمیر کی آزادی کیلئے اپنی قیمتی جانوں کے نذرانے پیش کرنے والے لاکھوں شہداء کو خراج عقیدت پیش کرنے کیلئے ریلیوں' مظاہروں اور سیمیناروں کا اہتمام کیا گیا۔

مظاہرین نے بھارت کی ریاستی دہشت گردی کی مذمت کی اور مقبوضہ کشمیر کے عوام کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کیا جو بھارت کی ریاستی دہشت گردی کے باوجود بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ اپنے حق خودارادیت کے حصول کیلئے جدوجہد کررہے ہیں۔

دارالحکومت مظفر آباد میں کشمیر لبریشن سیل کے زیراہتمام سینٹرل پریس کلب میں ایک تقریب کا اہتمام کیا گیا۔

آزاد جموں و کشمیر کی وزیر نورین عارف اور دیگر مقررین نے شہداء کو بھرپور خراج عقیدت پیش کیا اور ان کے مشن کو مکمل کرنے کا عہد کیا۔

انہوں نے بین الاقوامی تنظیموں سے اپیل کی کہ وہ مقبوضہ کشمیر کی موجودہ صورتحال کا سنجیدگی سے نوٹس لے جہاں پر نوجوانوں کو کھلے عام قتل کیا جارہا ہے۔

مختلف سیاسی جماعتوں کے رہنمائوں اور حریت کانفرنس کے نمائندوں' مذہبی' سماجی اور ثقافتی تنظیموں اور زندگی کے تمام طبقوں سے تعلق رکھنے والے لوگوں نے تقریب میں شرکت کی۔