Wednesday, 26 September 2018, 09:25:59 am
مقبوضہ کشمیر:انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کیخلاف مکمل ہڑتال
January 13, 2018

مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فوجیوں کی طرف سے نہتے شہریوں کے قتل عام اور انسانی حقوق کی دیگر خلاف ورزیوں کیخلاف ہفتہ کے روز مکمل ہڑتال کی گئی۔کشمیر میڈیاسروس کے مطابق ہڑتال کی کال سید علی گیلانی ، میر واعظ عمر فاروق اور محمد یاسین ملک پر مشتمل مشترکہ مزاحمتی قیادت نے دی تھی۔ مقبوضہ علاقے میں تمام دکانیں، کاروباری مراکز، نجی دفاتر اور پٹرول پمپ بندرہے جبکہ سڑکوں پر گاڑیوں کی آمدورفت معطل رہی۔  کٹھ پتلی انتظامیہ نے لوگوں کو احتجاجی مظاہروں سے روکنے کیلئے سرینگر میں سخت پابندیاں نافذ کر دی تھیں۔ بھارتی پولیس نے جموںوکشمیر لبریشن فرنٹ کے چیئرمین محمد یاسین ملک کوہفتہ کے روز  صبح سویرے سرینگر کے علاقے مائسمہ میں انکے گھر پر چھاپے کے دوران گرفتار کر کے کوٹھی باغ تھانے میں منتقل کر دیا۔ انتظامیہ نے حریت فورم کے چیئرمین میر واعظ عمر فاروق اور دختران ملت کی چیئرپرسن آسیہ اندرابی کو گزشتہ روز گھروں میں نظر بند کر دیا تھا جبکہ کل جماعتی حریت کانفرنس کے چیئرمین سید علی گیلانی گزشتہ آٹھ برس سے زائد عرصے سے گھر میں نظر بند ہیں۔ پولیس نے حریت رہنمائوں بشمول مختار احمد وازہ ، بلال صدیقی اور عمر عادل ڈار کو بھی گرفتار کر رکھا ہے ۔ حریت رہنمائوں کی نظر بندی اور گرفتار ی کا مقصدا نہیں احتجاجی مظاہروں کی قیادت سے روکنا تھا۔قابض انتظامیہ نے وادی کشمیر میں ٹرین سروس بھی معطل کردی ۔ کل جماعتی حریت کانفرنس کے چیئرمین سید علی گیلانی نے سرینگر میں جاری ایک بیا ن میں نئی دہلی کی تہاڑ جیل میں غیر قانونی طورپرنظربند کشمیریوں کی بگڑتی ہوئی صحت پر سخت تشویش کا اظہار کیاہے۔ انہو ں نے کہاکہ جیل میں شبیر احمد شاہ، الطاف احمد شاہ، ڈاکٹر غلام محمد بٹ، پیر سیف اللہ، ایاز محمد اکبر، معراج الدین کلوال، شاہد الاسلام، فاروق احمد ڈار، نعیم احمد خان، کامران یوسف، شاہد یوسف اور ظہور احمد وٹالی سمیت کشمیری نظربندوں کے ساتھ غیر انسانی سلوک روا رکھا جارہا ہے۔  ادھر کٹھ پتلی وزیر اعلیٰ محبوبہ مفتی نے نام نہاد اسمبلی میں ایک تحریری جواب میں اعتراف کیا ہے کہ 8جولائی 2016ء سے27فروری 2017ء تک احتجاجی مظاہرین کے خلاف بھارتی فوجیوں اور پولیس اہلکاروں کی کارروائیوں کے دوران 9ہزار 42افراد زخمی ہوئے۔یہ وہ عرصہ تھاجب8جولائی 2016ء کو معروف نوجوان رہنمابرہان مظفر وانی کے ماورائے عدالت قتل کے بعدشروع ہونے والی عوامی احتجاجی تحریک اپنے عروج پر تھی۔ محبوبہ مفتی نے کہا کہ گزشتہ دوسال کے دوران 726افرادکو کالے قانون پبلک سیفٹی ایکٹ کے تحت نظربندکیاگیا۔ بھارتی فوجیوں نے ہفتہ کے روز  سرینگر اورگاندربل کے مختلف علاقوں میں محاصرے اور تلاشی کی کارروائیاں کیں جس کی وجہ سے لوگوں کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔