وزیراعظم کے وکیل مخدوم علی خان نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ ان کا موکل نہ تو دبئی اور جدہ میں فیکٹریوں کا ڈائریکٹر ، شراکت دار اور ضمانتی رہا ہے اور نہ ہی ان میں تیار کی جانے والی مصنوعات کی آمدن حاصل کی۔

سپریم کورٹ میں پانامہ پیپرز سے متعلق مقدمے کی سماعت
12 جنوری 2017 (15:57)
0

جسٹس آصف سعید کھوسہ کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے پانچ رکنی بنچ نے آج بھی پانامہ پیپرز کیس کی سماعت جاری رکھی۔وزیراعظم کے وکیل مخدوم علی خان نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ ان کا موکل نہ تو دبئی اور جدہ میں فیکٹریوں کا ڈائریکٹر ، شراکت دار اور ضمانتی رہا ہے اور نہ ہی ان میں تیار کی جانے والی مصنوعات کی آمدن حاصل کی ۔

انہوں نے کہا کہ ان کے موکل نے قومی اسمبلی سے خطاب میں اپنے کاروبار کے بارے میں تفصیل سے آگاہ کیا جو ان کے والد میاں محمد شریف نے 1937 میں ان کی پیدائش سے پہلے قائم کیا تھا۔انہوں نے کہا کہ درخواست گزاروں کی طرف سے دائر کی جانے والی درخواستوں اور دلائل میں ابہام اور تضاد مکمل طور پر واضح ہیں۔
عدالت نے اپنے ریمارکس میں کہا کہ مقدمے کی منفرد نوعیت کے باعث اس کے تمام پہلوؤں پر غور کیا جا رہا ہے۔وکیل اپنے دلائل کل بھی جاری رکھیں گے۔