وفاقی وزیرنےقومی اسمبلی کوبتایاکہ موسمیاتی تبدیلی سےخوراک ، پانی ، توانائی ، ساحلی اور سمندری ماحول ، زراعت ، افزائش حیوانات ، جنگلات ، حیاتیاتی تنوع اور صحت کے شعبوں کے لئے بڑا خطرہ ہے۔

حکومت موسمیاتی تبدیلی کےخطرات سےنمٹنے کیلئےجامع حکمت عملی تشکیل دے رہی ہے: زاہدحامد
12 فروری 2016 (12:30)
0

موسمیاتی تبدیلی کے وزیرزاہدحامدنےکہا کہ حکومت موسمیاتی تبدیلی کے خطرات سے نمٹنے کے لئے ایک جامع حکمت عملی تشکیل دے رہی ہے۔وقفہ سوالات کے دوران انہوں نے قومی اسمبلی کوبتایا کہ موسمیاتی تبدیلی سےخوراک ،پانی ،توانائی ،ساحلی اور سمندری ماحول ، زراعت ، افزائش حیوانات ، جنگلات ،حیاتیاتی تنوع اورصحت کےشعبوں کے لئے بڑا خطرہ ہے۔

انہوں نے کہاکہ حکومت موسمیاتی تبدیلی کی قومی پالیسی پر عمل کررہی ہےجس سے ہرشعبے کیلئے اقدامات تجویز کئے گئے ہیں۔انہوں نے کہا کہ جنگلات کے بارے میں قومی پالیسی بھی تشکیل دی جا رہی ہے جس کے تحت بڑے پیمانے پر شجرکاری کی جائے گی۔

کیڈ کے وزیرمملکت ڈاکٹر طارق فضل چوہدری نےایوان کوبتایاکہ اسلام آباد میں ایک سونوغیرقانونی ہاوسنگ اسکیمیں ہیں۔انہوں نے کہا کہ سرکاری نوٹسز کے ذریعے عوام کو متعدد بار ہدایت کی گئی ہے کہ وہ ایسی سکیموں میں پلاٹ خریدنے سے گریز کریں جنہوں نے سی ڈی سے این او سی حاصل نہیں کیا۔ایک سوال پر طارق فضل چوہدری نے کہا کہ اسلام آباد کے سرکاری ہسپتالوں میں علاج معالجے کی سہولتوں کو بہتر بنایا جا رہا ہے۔

ایک اور سوال پر کیڈ کے وزیرمملکت نے بتایا کہ اسلام آباد میں تعلیم کا معیار بہتر بنانے کیلئے وزیراعظم کے تعلیمی اصلاحات پروگرام پر عملدرآمد کیاجارہاہے۔ریلوے کے پارلیمانی سیکرٹری سید عاشق حسین شاہ بخاری نے ایوان کو بتایا کہ حکومت رسالپور میں ریلوے انجنوں کی تیاری کیلئے ایک بڑی بین الاقوامی فرم کے ساتھ مشترکہ معاہدہ کرنے جا رہی ہے۔ایک اور سوال پر انہوں نے کہا کہ موجودہ حکومت خراب ہونے والے سولہ ریلوے انجنوں کی وارنٹی کے تحت ان کی جگہ نئے انجن حاصل کر رہی ہے۔

انہوں نےکہا کہ پاکستان ریلوے کے تین منصوبوں کیلئے ایک ارب اسی کروڑ روپے سے زائد کی غیرملکی امداد فراہم کی گئی ہے۔اطلاعات ونشریات کے پارلیمانی سیکرٹری محسن شاہنواز رانجھا نے ایوان کو بتایا کہ وزارت نے جون 2013 سے اکتیس جنوری 2016 تک اشتہارات کی مد میں دو ارب اکسٹھ کروڑ اسی لاکھ روپے خرچ کئے۔انہوں نے کہا کہ وزارت نے مقامی اخبارات کیلئے پچیس فیصد کوٹہ مقرر کیا ہے تاکہ ملک میں جرنلزم کے فروغ دیا جا سکے۔

عمران ظفرلغاری اور دوسرے ارکان کی طرف سے ایک توجہ دلاؤ نوٹس پر وزیر اطلاعات پرویز رشید نے بتایا کہ پنجاب حکومت نے یقین دلایا ہے کہ لاہور میں اورنج لائن ٹرین منصوبے سے ثقافتی مقامات کو کوئی نقصان نہیں پہنچے گا۔ضمنی سوالات کا جواب دیتے ہوئے وفاقی وزیر نے یقین دلایا کہ وفاقی حکومت عوامی فلاح وبہبود کے منصوبوں کیلئے صوبائی حکومتوں کو سرکاری ضمانت دینے میں تاخیر نہیں کرے گا۔

زیادہ شرح اموات سے متعلق شائستہ پرویز اور دوسرے ارکان کے توجہ دلاؤ نوٹس پر نیشنل ہیلتھ سروسز کی وزیر مملکت سائرہ افضل تارڑ نے بتایا کہ زچہ اور بچہ کی نگہداشت کیلئے دس نکاتی ایجنڈے پر عمل کیا جا رہا ہے۔

 قومی اسمبلی نے عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمتوں میں کمی کے مطابق پٹرول کی قیمتوں میں کمی نہ کرنے اور پی آئی اے میں لازمی خدمات کے قانون کے نفاذ سے متعلق تحاریک پر بحث بھی کی۔بحث کا آغاز کرتے ہوئے قائد حزب اختلاف سید خورشید شاہ نے کہا کہ قطر سے ایل این جی کی درآمد کے معاہدے سے متعلق ایوان کو اعتماد میں نہیں لیا گیا ۔انہوں نے کہا کہ تمام فیصلے پارلیمنٹ میں کئے جانے چاہئیں۔

انہوں نےپی آئی اےکوایک پبلک لمیٹڈ کمپنی میں تبدیل کرنےسےمتعلق بل کی جلدی میں منظوری پرحکومت پرتنقید کی۔انہوں نے پی آئی اے کے احتجاجی ملازمین کے خلاف طاقت کے استعمال کی مذمت کی۔

اس سے پہلے سندھ سے نئے منتخب رکن قومی اسمبلی سعید الزماں نے حلف اٹھایا۔ سپیکر ایاز صادق نے ان سے حلف لیا۔بعد میں ایوان میں ممتاز ڈرامہ نگار فاطمہ ثریا بجیا ، احتجاج کے دوران جاں بحق ہونے والے پی آئی اے ملازمین اور دہشت گردی کے مختلف واقعات میں جاں بحق ہونے والے افراد کیلئے فاتحہ خوانی کی گئی۔

ایوان کا اجلاس پیرتیسرے پہرچاربجےتک ملتوی کردیا گیا ہے۔