File Photo

مقبوضہ کشمیر میں آئینی ترمیم کے ذریعے وادی کی آبادی کا تناسب تبدیل کرنے کی بھارتی سازش کے خلاف مکمل ہڑتال
12 اگست 2017 (20:17)
0

مقبوضہ کشمیر میں مسلمانوں کی اکثریت کو اقلیت میں تبدیل کرنے کی غرض سے بھارتی آئین کے آرٹیکل 35Aکی منسوخی کی بھارتی سازشوں کے خلاف  ہفتہ کے روز مقبوضہ علاقے میں مکمل ہڑتال کی گئی
ہڑتال کی اپیل سید علی گیلانی ، میر واعظ عمر فاروق اور محمد یاسین ملک پر مشتمل مشترکہ حریت قیادت نے کی تھی جبکہ تاجروں نے اسکی حمایت کی تھی۔
ہڑتال کا مقصد بھارتی فورسز کے ہاتھو ں نہتے کشمیریوں کے قتل عام اور بھارتی تحقیقاتی ادارے 'نیشنل انویسٹی گیشن ایجنسی' اور'انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ' کی طرف سے حریت رہنمائوں کی گرفتاری کے خلاف احتجاج کر نا بھی تھا۔
مقبوضہ علاقے میں تمام دکانیں، کاروباری مراکز اور تعلیمی ادارے بند رہے جبکہ سڑکوں پر ٹریفک معطل تھی۔ بھدرواہ، ڈوڈہ، کشتواڑ اور جموں کے دیگر علاقوں میں بھی ہڑتال کی گئی۔
سرینگر میں ایک بیان میں حریت فورم کے چیئرمین میرواعظ عمر فاروق نے خبردار کیا کہ اگر آرٹیکل 35A کو منسوخ کیا گیا تو مقبوضہ کشمیر کے عوام سڑکوں پر نکل آئیں گے۔
انہوں نے کہا کہ اس اقدام کے ذریعے بھارت کے لوگوں کی مقبوضہ کشمیر میں آبادکاری کی جائے گی جبکہ ان کو وہاں اراضی خریدنے اور اسمبلی کے انتخابات میں ووٹ ڈالنے کی بھی اجازت ہوگی جس سے علاقے میں آبادی کا تناسب متاثر ہوگا۔
کشمیر سول سوسائٹی کے ارکان نے سرینگر میں ایک گول میز کانفرنس میں اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل، اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے تمام مستقل ارکان اور اسلامی تعاون تنظیم کے رکن ممالک کو بھارت کی کشمیر مخالف سازشوں سے آگاہ کرنے کیلئے ایک یادداشت بھیجنے کا فیصلہ کیا۔