Thursday, 27 June 2019, 07:06:51 am
پاکستان نے ملک میں مذہبی آزادی کے بارے میں امریکہ کے بیان کو سیاست پرمبنی قراردیا
December 12, 2018

 دفتر خارجہ نے پاکستان میں مذہبی آزادی کے بارے میں امریکہ کے دعوے کو سیاسی مقاصد کا حصول قرار دیتے ہوئے یکسر مسترد کردیا ہے۔

 دفتر خارجہ کے ترجمان ڈاکٹر محمد فیصل نے ایک بیان میں دو ٹو ک الفاظ میں کہا کہ پاکستان کو اپنی اقلیتوں کے حقوق کے تحفظ کے لئے کسی ملک کے مشورے کی ہرگز ضرورت نہیں۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان کے حوالے سے امریکی اقدام واضح تعصب کا مظہر ہے اور اس بیکار مشق میں ملوث خود ساختہ منصفوں کی ساکھ اور غیر جانبداری پر سوالات اٹھ رہے ہیں۔

ترجمان نے کہا کہ پاکستان ایک کثیر المذہبی اور مختلف قومیتوں پر مشتمل معاشرہ ہے جہاں مختلف عقائد اور تہذیب و تمدن کے لوگ مل جل کر رہ رہے ہیں پاکستان کی مجموعی آبادی کا تقریباً چار فیصد کا تعلق مسیحی، ہندو، بدھ مت اور سکھ مذاہب سے ہے۔

انہوں نے کہا کہ اقلیتوں کے ساتھ مساوی سلوک اور انہیں حاصل بلا امتیاز انسانی حقوق کا تحفظ یقینی بنانا پاکستان کے آئین کا کلیدی اصول ہے۔

 قانون سازی کے عمل میں ان کی مناسب نمائندگی اور آرا کو یقینی بنانے کے لئے پارلیمنٹ میں اقلیتوں کے لئے خصوصی نشستیں مختص کی گئی ہیں۔

 اقلیتوں کے حقوق کی خلاف ورزی کے بارے میں خدشات کو دور کرنے کے لئے انسانی حقوق کی ایک فعال اور خود مختار قومی کمیشن کا م کررہا ہے۔

 دفتر خارجہ کے ترجمان نے کہا کہ ملک کی اعلیٰ عدلیہ نے اقلیتوں کی املاک اورعبادت گاہوں کے تحفظ کے لئے کئی اہم فیصلے کئے ہیں۔

 

 ترجمان نے اس بات پر افسوس ظاہر کیا کہ دنیا بھر میں انسانی حقوق کےدعوےداروں نے خارجی اکثریت کی طرف سے اقلیتوں پر منظم  ظلم و تشدد اور مقبوضہ کشمیر جیسے غیرملکی تسلط پر اپنی آنکھیں بند کررکھی ہیں۔

 انہوں نے کہا کہ امریکہ میں اسلام مخالف جذبات میں اضافے کے اسباب جاننے کےلئے بروقت دیانتدارانہ جائزہ لینے کی ضرورت ہے۔