Thursday, 19 September 2019, 05:58:23 am
پاکستان اوربھارت کےدرمیان کوئی خفیہ مذاکرات نہیں ہورہے:دفترخارجہ
September 12, 2019

دفتر خارجہ نے کہا ہےکہ پاکستان اور بھارت کے درمیان کوئی خفیہ مذاکرات نہیں ہورہے ہیں۔

 دفترخارجہ کے ترجمان ڈاکٹر محمد فیصل نے آج اسلام آباد میں اپنی ہفتہ وار نیوز بریفنگ کے دوران کہاکہ کشمیر کے مسئلے پر مختلف ملکوں کی جانب سے ثالثی کی مسلسل پیشکش کی گئی تاہم بھارت اس پر اتفاق نہیں کررہا۔

 ترجمان نے یاد دلایا کہ پاکستان کا اصولی موقف اور پالیسی یہی ہے کہ تمام معاملات صرف مذاکرات کے ذریعے ہی حل کئے جاسکتے ہیں۔

اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل کے اجلاس میں مختلف ملکوں کےنمائندوں کے دستخطوں پر  مبنی مشترکہ اعلامیے سے متعلق ترجمان نے کہا کہ یہ اعلامیہ مقبوضہ کشمیر میں بھارت کے غیرقانونی اور یکطرفہ اقدامات کوعالمی سطح پر مسترد کئے جانےکا مظہر ہے  ۔ انہوں نے کہا کہ پوری دنیا مقبوضہ وادی  میں لاک ڈاون کے خاتمے اور وہاں عائد تمام پابندیاں اٹھانے کا مطالبہ کررہی ہے۔

 ترجمان نےکہا کہ بھارت کو چاہیے کہ وہ عالمی برادری کو گمراہ کرنے کا سلسلہ بند کرے اور کشمیری عوام کے حق خودارادیت کا احترام کرے۔

متحدہ عرب امارات اور سعودی عرب کے وزرائے خارجہ کے حالیہ دوروں سے متعلق سوال پر ترجمان نےکہا کہ دونوں ملکوں کے وزرا نے پاکستانی قیادت سے اپنی ملاقاتوں کے دوران اپنے ملکوں کی جانب سے پاکستان کے ساتھ یکجہتی اور کشمیر کے نصب العین کی حمایت کا اعادہ کیا ہے۔

ترجمان نے کہا کہ وزیراعظم عمران خان کل مظفر آباد میں جلسہ عام کے دوران کشمیر کے بارے میں پالیسی بیان دیں گے۔ انہوں نےکہا کہ پاکستان کشمیری بھائیوں کی حمایت کےلئے متعدد اقدامات پر غور کررہا ہے۔

 ایک سوال پر ڈاکٹر محمد فیصل نے واضح کیا کہ پاکستان کرتارپور میں گردوارہ دربار صاحب میں سکھ یاتریوں کے داخلے پر کسی قسم کی فیس وصول نہیں کررہا ہے۔

انہوں نےکہا کہ بیس ڈالر فیس کرتار پور میں تعمیر کی جانے والی سہولتوں کےلئے وصول کی جارہی ہے جو کل تعمیراتی لاگت کا صرف دس سے پندرہ فیصد ہے۔

امریکہ اور طالبان کے درمیان امن مذاکرات کی معطلی سے متعلق سوال پر ترجمان نے تمام فریقوں پر زور دیا کہ وہ دوبارہ مذاکرات کی میز پر آئیں تاکہ بات چیت میں اب تک ہونےوالی پیشرفت کو منطقی انجام تک پہنچایا جائے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان چاہتا ہے کہ تمام فریقین ضبط و تحمل کا مظاہرہ اور تشدد سے گریز کریں، انہوں نے کہا کہ ہم نے نیک نیتی سے  اور مشترکہ ذمہ داری کے طور پر افغان عمل کی حوصلہ افزائی  کی اور سہولت فراہم کی ہے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان کا ہمیشہ یہ موقف رہا ہےکہ افغان مسئلے کا حل افغانوں کے اپنے طورپر شروع کردہ اور انہی کی سرپرستی میں سیاسی مذاکرات میں ہی مضمر ہے۔

انہوں نے کہا کہ فوجی طاقت کے استعمال پر مبنی حکمت عملی مطلوبہ نتائج کے حصول میں ناکام ثابت ہوئی۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان امریکہ اور طالبان کے درمیان امن مذاکرات کی بحالی سے متعلق پرامید ہے کیونکہ اس عمل سے افغانوں کے درمیان مذاکرات کی راہ ہموار ہوگی جو افغانستان میں پائیدار اور دیر پاامن کےلئے ناگزیر ہے۔

 اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو کے مقبوضہ مغربی کنارے کے زیادہ تر حصوں کو ضم کرنے کے منصوبے سے متعلق سوال پر ترجمان نے کہا کہ پاکستان ایسا کوئی بھی اقدام مسترد کرتا ہے۔

 انہوں نے فلسطین کے عوام کے ساتھ پاکستان کی یکجہتی کی تجدید کی۔

 انہوں نے ایک ایسی  آزاد خود مختار فلسطینی ریاست کے لئے پاکستان کی حمایت کااعادہ کیا جس کا دارالحکومت القدس الشریف ہو۔

انہوں نے یہ بھی واضح کیا کہ پاکستان اسرائیل کو تسلیم کرنے کا کوئی اقدام نہیں کررہا۔