Thursday, 12 December 2019, 08:11:50 pm
کشمیر پاکستان اور کشمیریوں کا مشترکہ نصب العین ہے ،وزیر خارجہ
August 12, 2019

وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی نے کہاکہ پاکستانیوں اور کشمیریوں دونوں کو مل کر مسئلہ کشمیر کیلئے جدوجہد کرنا ہوگی۔ پیر کے روز مظفرآباد میں آزاد جموں وکشمیر کے صدر سردار مسعود خان کے ہمراہ ایک مشترکہ نیوز کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ یہ پوری پاکستانی قوم اور کشمیریوں کیلئے مشترکہ مسئلہ ہے ۔انہوں نے کہا کہ بھارتی اقدام کے نتیجے میں مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت کی تبدیلی سے پیدا ہونے والی صورتھال کو حل کرنے کیلئے معاشرے کے مختلف شعبوں کے ساتھ مشاورت کا عمل جاری رہیگا۔وزیرخارجہ نے کہا کہ وزیراعظم کی طرف قائم کی گئی کمیٹی کو یہ معلومات فراہم کرنے کا کام سونپا گیا ہے کہ ہمارے پاس کیا سفارتی، سیاسی اور دیگر آپشن ہیں۔شاہ محمود قریشی نے کہا کہ کشمیر پر مشاورت میں تمام طبقوں کے لوگوں کو شامل کیا جائیگا اور دفترخارجہ کے تمام دروازے ہر اس فرد کیلئے کھلے رہیں گے جو بین الاقوامی سطح پر مسئلہ کشمیر کو اجاگر کرسکتا ہے۔انہوں نے کہا کہ جدوجہد آزادی کشمیر نازک موڑ پر پہنچ گئی ہے۔انہوں نے کہا کہ وزیراعظم عمران خان نے عالمی برادری تک رسائی کی اپنی کوششوں میں ترکی، ایران اور انڈونیشیاسمیت عالمی رہنمائوں سے رابطہ کیا ہے اور ان کو مقبوضہ کشمیر کی حیثیت تبدیل کرنے کے یکطرفہ بھارتی اقدام سے آگاہ کیا ہے۔شاہ محمود قریشی نے کہاکہ پاکستان کشمیری بھائیوں کے ساتھ کندھے سے کندھا ملا کر کھڑا ہے ۔وفاقی وزیر نے کہاکہ وزیراعظم عمران خان بدھ کو یوم آزادی کے موقع پر مظفرآباد کا دورہ کریںگے جہاں وہ کشمیریوں کے ساتھ اظہار یکجہتی کیلئے آزادجموں وکشمیر کی قانون ساز اسمبلی سے خطاب کریںگے۔وفاقی وزیر نے کہاکہ قومی سیاستی قیادت کشمیر کے مسئلے پر متحد ہے ۔انہوں نے کہاکہ اگر بھارت کسی مہم جوئی کی کوشش کرتا ہے تو پاکستان اپنے دفاع کا حق رکھتا ہے ۔انہوں نے کہاکہ بھارت نے مقبوضہ علاقے میں میڈیا کی آزادی اور معلومات تک رسائی پر مکمل پابندیاں عائد کررکھی ہیں ۔وزیرخارجہ نے کہاکہ بھارت کا اصل ایجنڈا مقبوضہ کشمیر کی آبادی کے تناسب کو تبدیل کرنا ہے ۔انہوں نے ذرائع ابلاغ پر زوردیا کہ دنیا کو یہ دکھانے کیلئے کہ کشمیر پالیسی پر کوئی اختلاف نہیں وہ ذمہ دارانہ رپورٹنگ کریںگے۔اس سے پہلے صدر آزاد جموں وکشمیر سردارمسعود خان نے کہاکہ پاکستان نے کئی قابل ستائش اقدامات کئے ہیں جن میں بھارت کیلئے بس اور ریل کی سروس کی بندش دوطرفہ سفارتی رابطوں میں کمی اور مقبوضہ کشمیر کی خودمختار حیثیت کے خاتمے کے بھارت کے یکطرفہ اقدام کے خلاف پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میں متفقہ قرارداد کی منظوری شامل ہیں۔انہوں نے کہاکہ بھارت نے کشمیر کو فتح کرنے کیلئے ایک لاکھ اسی ہزار سے زائد اضافی فوجی بھیجے ہیں اور علاقے میں مکمل بلیک آوٹ کردیا ہے تاکہ اس کی انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کی خبر بیرونی دنیا تک نہ پہنچ سکے۔

سردار مسعود خان نے کہاکہ بھارت فورسز اب کشمیریوں کی نسل کشی کررہی ہیںانہوں نے کہاکہ بھارت کشمیر کو اپنی نو آبادی بناناچاہتا ہے اور علاقے میں آبادی کا تناسب تبدیل کرنے کیلئے مقامی آبادی کو بے گھر کرنا چاہتا ہے۔سردارمسعود خان نے حکومت پاکستان کی سفارتی کوششوں کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہاکہ یہ کوشش بار آور ثابت ہونا شروع ہوگئی ہیں اور نہ صرف چین' ترکی اور دیگر قریبی دوست ملکوں نے مسئلہ کشمیر پر پاکستان کے موقف کی حمایت کی ہے بلکہ یورپی یونین اور دوسری بڑی قوتوں نے کبھی مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر تشویش کااظہار کیا ہے ۔