Saturday, 20 July 2019, 05:59:03 am
احتساب عدالت کے جج ارشد ملک کو عارضی طور پر کام سے روک دیا گیا ہے،وزیر قانون
July 12, 2019

وزیر قانون بیرسٹر فروغ نسیم نے کہا ہے کہ احتساب عدالت نمبر دو کے جج ارشد ملک کو عارضی طور پر ان کے عہدے پر کام سے روک دیا گیاہے۔انہوں نے جمعہ کی سہ پہر اسلام آباد میں احتساب کے حوالے سے وزیراعظم کے معاون خصوصی شہزاد اکبر کے ہمراہ ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ جج ارشد ملک کی خدمات لاہور ہائیکورٹ کو واپس کی جا رہی ہیں۔انہوں نے کہا کہ انہیں کام سے روکنے کا فیصلہ ان کی مبینہ ویڈیو اور ان کی طرف سے جاری کی گئی پریس ریلیز کی بنیاد پر کیا گیا۔وزیرقانون نے کہا کہ جج کو کام سے روکنے سے ان کی طرف سے کئے گئے فیصلوں پر کوئی اثر نہیں پڑے گا۔انہوں نے واضح کیا کہ عدالتوں پر دباؤ ڈالنے کی کوئی کوشش برداشت نہیں کی جائے گی۔وزیر قانون نے کہا کہ ارشد ملک نے اپنے بیان حلفی میں کہا کہ انہوں نے بلاکسی خوف یا دباؤ کے فیصلہ دیا۔انہوں نے کہا کہ ججوں کو رشوت یا دھمکیاں دینے پر سزائیں موجود ہیں۔معاون خصوصی شہزاد اکبر نے اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ پانامہ کیس ایسی کہانی ہے جو لالچ سے شروع ہو کر بدعنوانی پر ختم ہوتی ہے۔احتساب کے متعلق وزیراعظم کے معاون خصوصی شہزاد اکبر نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ جج ارشد ملک کو دس ارب روپے بطور رشوت کی پیشکش کی گئی تھی۔انہوں نے کہا کہ انہیں شریف خاندان کی طرف سے ان کے دست راست ناصر بٹ کے ذریعے دھمکیاں دی گئیں۔ تاہم انہوں نے ان کی پیشکش قبول نہ کی۔انہوں نے کہا کہ اس ویڈیو سکینڈل میں ملوث تمام عناصر کو بے نقاب کرنے کا وقت آ گیا ہے۔