Sunday, 25 August 2019, 09:27:59 am
پاکستان کا اقوام متحدہ فوجی مبصر گروپ کو مستحکم،توسیع دینے کیلئے تعاون کا اعادہ
February 12, 2019

پاکستان نے اقوام متحدہ میں بھارت اور پاکستان میں اقوام متحدہ کے فوجی مبصر گروپ کو مستحکم کرنے اور اسے توسیع دینے کے لئے اپنے تعاون کا اعادہ کیا ہے۔نیویارک میں امن کارروائیوں کے بارے میں اقوام متحدہ کی خصوصی کمیٹی سے خطاب کرتے ہوئے اقوام متحدہ میں پاکستان کی مستقل نمائندہ ڈاکٹر ملیحہ لودھی نے کہا کہ سب سے زیادہ فوجی بھیجنے اور میزبان ملک کی حیثیت سے پاکستان امن کارروائیوں کو مستحکم کرنے کے لئے کوششوں میں تعاون جاری رکھے گا۔انہوں نے کہا کہ بین الاقوامی امن و سلامتی برقرار رکھنے میں ہمارا عزم انتہائی پختہ اور غیرمتزلزل ہے۔ملیحہ لودھی نے اس بات پر زورد یا کہ امن فوج کا تحفظ اور سلامتی اولین ترجیح ہے کیونکہ پیچیدہ اور بڑھتے ہوئے تنازعات کے باعث ان کو درپیش خطرات میں اضافہ ہوا ہے۔انہوں نے کہا کہ اقوام متحدہ کی خصوصی کمیٹی کو اقدار اور پالیسی سازی میں اپنا کردار ادا کرنا چاہئے تاکہ وہ ہماری توقعات پر پورا اتر سکیں۔امن کارروائیوں میں زیادہ فوجی بھیجنے والے ممالک پر فوجیوں کی تعداد میں اضافے پر زور دیتے ہوئے ملیحہ لودھی نے کہا کہ اس اقدام سے امن کارروائیوں سے متعلق فیصلوں میں مزید عملی اقدامات کی راہیں کھلیں گی۔انہوں نے امن کارروائیوں میں مالی تعاون کا مسئلہ اٹھایا اور اس میں کٹوتی کے مطالبے پر تنقید بھی کی۔ملیحہ لودھی نے بتایا کہ پاکستان نے اقوام متحدہ کی امن کارروائیوں کیلئے خواتین کی تعداد میں اضافہ کر دیا ہے۔انہوں نے کہا کہ پاکستان کو اقوام متحدہ کے مشنوں میں پندرہ فیصد خواتین عملے کی تعیناتی کا ہدف حاصل کرنے پر فخر ہے۔اقوام متحدہ کے عسکری امور کے دفتر نے 2015ء میں سلامتی کونسل کے یونیفارم میں ملبوس عالمی ادارے کے عملے میں خواتین کی تعداد بڑھا کر دسمبر 2018ء تک امن مشنوں میں خواتین فوجی اور دیگر افسران کی تعیناتی پندرہ فیصد کرنے کا ہدف مقرر کیا تھا۔پاکستانی مندوب نے اقوام متحدہ کی کمیٹی کو مزید بتایا کہ پاکستان اس سال مئی میں عوامی جمہوریہ کانگو میں خواتین پر مشتمل ایک ٹیم تعینات کر رہا ہے۔امن کارروائیوں کے بارے میں خصوصی کمیٹی جو C-34 کے نام سے بھی مشہور ہے ایک عالمی فورم ہے جس میں اہم فریق امن مشنوں سے متعلق امور اور نئے چیلنجوں سے نمٹنے کیلئے پالیسیاں وضع کرتے ہیں۔