اقوام متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب نے کہاہے کہ دنیا بھر میں بچوں کے حقوق کی خلاف ورزیوں کا نوٹس لے کرا ن کے خاتمے کیلئے بھرپوراقدامات کئے جائیں ۔

پاکستان کی مسلح لڑائی میں بچوں کے استعمال کی مذمت
11 ستمبر 2014 (11:18)
0


پاکستان نے مطالبہ کیا ہے کہ دنیا بھر میں بچوں کے حقوق کی خلاف ورزیوں کا نوٹس لیاجائے اور ان کے خاتمہ کیلئے بھرپوراقدامات کئے جائیں۔ اقوام متحدہ میں پاکستان کے مستقل نمائندہ مسعودخان نے سلامتی کونسل میں سیکرٹری جنرل کی مسلح گروہوں کی لڑائی میں بچوں کا استعمال پرپیش کی گئی رپورٹ پر اظہار خیال کرتے ہوئے کہاکہ آج بھی مختلف گروپوں کے مابین ہونے والی جھڑپوں اورلڑائی میں بچوں کے استعمال کیاجارہا ہے انھیں اغوا اور قتل کیاجارہا ہے جس کی جتنی بھی مذمت کی جائے کم ہے ۔

 

انہوں نے کہاکہ ہرملک میں وہاں کے قومی عدالتی نظام کے تحت بچوں کے حقوق کی خلاف ورزیوں پرکارروائی ہونی چاہیے اسی طرح بین الاقوامی سطح پر انٹرنیشنل جسٹس میکانزم کے ذریعے بھرپور اقدامات اٹھائے جانے چاہئیں۔ انہوں نے کہاکہ رپورٹ میں بچوں کے حقوق کی خلاف ورزیوں کے حوالے سے 8 ممالک اور51 غیرریاستی عناصر کی نشاندہی کی گئی ہے ۔ انہوں نے کہاکہ پہلی مرتبہ باضابطہ بتایاگیا ہے کہ نائیجرین \' ملیشیا\' بوکرحرام \' سکولوں اور ہسپتالوں پرحملوں کیلئے بچوں کو بھرتی کرتی ہے ان کے ساتھ زیادتی کی جاتی ہے اورانھیں قتل کردیاجاتا ہے۔

 

مسعود خان نے مسلح تصادم میں بچوں کے استعمال کی مذمت کرتے ہوئے اس عمل میں شامل تمام ممالک اور نان سٹیٹ ایکڑز سے مطالبہ کیا کہ وہ بچوں کے حقوق کی خلاف ورزیاں بند کریں اوراپنے مفادات کی تکمیل کیلئے مسلح تصادم میں ان کی بھرتیاں فوری طورپر روکی جائیں۔ انہوں نے سکولوں اورہسپتالوں پرحملے رکوانے کیلئے نان سٹیٹ ایکڑز کے گروپوں کے ساتھ رابطوں کوسراہا اورکہاکہ سکولوں کو عسکریت پسندی کیلئے استعمال نہیں کیاجاناچاہیے ۔ انہوں نے کہاکہ پاکستان دنیا بھر میں بچوں کے حقوق کے تحفظ کی جانے والی کوششوں کی بھرپورحمایت جاری رکھے گا۔