فرحت اللہ بابر نے کہا کہ پارلیمنٹ کو توہین رسالت کے قانون کا غلط استعمال روکنے میں اپنا کردار ادا کرناچاہیے۔

سینیٹ میں اہم قومی امور پر بحث
11 مئی 2017 (19:35)
0

سینٹ میں جمعرات کے روز قائد حزب اختلاف اعتزاز احسن اور دیگر کی طرف سے پیش کردہ تحریک پر متعدد اہم امور پر بحث شروع ہوئی۔
مشال خان کے قتل اور ملک میں ایسے واقعات میں اضافے کے بارے میں بحث کا آغاز کرتے ہوئے فرحت اللہ بابر نے کہا کہ ہجوم کا مشترکہ تشدد کا رجحان معاشرے میں معمول بنتا جارہا ہے انہوں نے کہا کہ پارلیمنٹ کو توہین رسالت کے قانون کا غلط استعمال روکنے میں اپنا کردار ادا کرناچاہیے۔
محمد اعظم خان سواتی نے کہا کہ انتہا پسندانہ ذہنیت تبدیل کرنے کیلئے سیاستدانوں، قانون سازوں، علماء کرام، وکلاء اور معاشرے کے تمام طبقات کو اپنا کردار ادا کرنا ہوگا اور پاکستان اور اسلام کا مثبت تشخص اجاگر کرنا ہوگا۔
شیری رحمن نے کہا کہ بڑھتی ہوئی عدم برداشت ہمارے معاشرے کا سنگین مسئلہ بنتا جارہا ہے انہوں نے کہا کہ ہجوم کے تشدد پر نظر رکھنے کیلئے سنجیدہ کوششوں کی ضرورت ہے۔
روبینہ خالد نے کہا کہ ملک میں انتہا پسندی کم کیے بغیر دہشت گردی کے خلاف جنگ نہیں جیتی جاسکتی۔
مولانا عطاء الرحمن نے کہا کہ کسی کو قانون ہاتھ میں لینے کی اجازت نہیں ہونی چاہیے۔
بندرگاہوں اور جہاز رانی کے وزیر میر حاصل خان بزنجو نے کہا کہ بڑھتی ہوئی مذہبی عدم برداشت کو اگر نہ روکا گیا تو معاشرے میں رہنا مشکل ہو جائے گا۔
انہوں نے تمام سیاسی جماعتوں اور علماء کرام سے درخواست کی کہ وہ معاشرے سے اس لعنت کے خاتمے میں ہاتھ بٹائیں۔
اطلاعات کی وزیر مملکت مریم اورنگزیب نے کہا ہے کہ قواعد کے مطابق کوئی سیاسی جماعت پریس انفارمیشن ڈیپارٹمنٹ میں پریس کانفرنس نہیں کرسکتی۔
وہ پی آئی ڈی میں ایک سیاسی جماعت کے رہنمائوں کو پریس کانفرنس کرنے سے روکنے کے بارے میں ایک تحریک کا جواب دے رہی تھیں۔
انہوں نے کہا کہ پی آئی ڈی میں صرف وزرائ، سیکرٹریز اور ایسے افسران جن کو حکومت نے اختیار دیا ہو، پریس کانفرنس میں حکومت کی ترجمانی کرسکتے ہیں۔

قائد حزب اختلاف اعتزاز احسن نے کہا کہ مشال خان کے قتل میں ملوث افراد کے خلاف سخت کارروائی کی جائے انہوں نے کہا کہ مشال خان کے قتل کا مقدمہ فوجی عدالت میں چلنا چاہیے۔
پارلیمانی امور کے وزیر شیخ آفتاب احمد نے بحث سمیٹتے ہوئے کہا کہ یونیورسٹی میں طالبعلم کا قتل ایک افسوسناک سانحہ ہے جس نے پوری دنیا کو ہلاکر رکھ دیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت معاملے کی تفصیل تحقیقات کررہی ہے اور پولیس نے اب تک سینتالیس افراد کو گرفتار کیا ہے۔
انہوں نے ایوان کو یقین دلایا کہ حکومت شہریوں کے جان و مال کے تحفظ کیلئے تمام ممکنہ اقدامات کرے گی۔