وزیر داخلہ نے کہا کہ گلگت بلتستان آنے والے سیاحوں کیلئے این او سی کی شرط واپس لے لی گئی ہے۔

 ڈان لیکس،معاملہ خوش اسلوبی سے طے پانے پر سیاست نہیں ہونی چاہئے،نثار
11 مئی 2017 (18:25)
0

وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان نے کہا ہے کہ گلگت بلتستان کی سیر کرنے والے سیاحوں کیلئے این او سی کی شرط واپس لے لی گئی ہے۔

جمعرات کو تیسرے پہر اسلام آباد میں نیوز کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ البتہ سفارتکاروں، عالمی این جی اوز ، تحقیقی کام کرنے والے افراد گلگت بلتستان میں منصوبوں پر کام کرنے والے غیر ملکیوں کو وہاں جانے سے قبل سیکورٹی کلیئرنس لینا ضروری ہوگا۔
وزیر داخلہ نے وزارت میں دو روزہ اعلیٰ سطح کے اجلاس میں ہونے والے فیصلوں کے چیدہ چیدہ پہلوئوں کا ذکر کرتے ہوئے بتایا کہ مجموعی طور پر تین لاکھ 53 ہزار قومی شناختی کارڈ بلاک کیے گئے ہیں ان میں ایک لاکھ 74 ہزار مصدقہ غیر ملکیوں کے کارڈز منسوخ کیے جارہے ہیں تاہم انہیں اپیل کا حق ہوگا ان میں 3500 ایسے افرادبھی شامل ہیں جنہوں نے رضاکارانہ طور پر پاکستانی شہریت چھوڑ دی ہے۔
انہوں نے کہا کہ منسوخ شدہ شناختی کارڈز میں دس ہزار ایسے افراد کے ہیں جنہوں نے خود کو افغانی رجسٹر کرایا ہوا تھا۔
چوہدری نثار علی خان نے کہا کہ ایک لاکھ 56 ہزار440 شناختی کارڈز عارضی طور پر بلاک کیے گئے ہیں اگر متعلقہ افراد نادرا کو ٹھوس ثبوت فراہم کر دیں تو انہیں مستقل بحال کر دیا جائے گا۔
انہوں نے اعلان کیاکہ آئندہ محض شک یا نامکمل کوائف کی وجہ سے کسی کا قومی شناختی کارڈ بلاک نہیں کیا جائے گا ایسے افراد کو پہلے نوٹس جاری کیے جائیں گے اور نادرا کے اعتراضات دور کرنے کاموقع دیا جائے گا۔
وزیر داخلہ نے کہا کہ انسانی اعضاء کی غیر قانونی پیوند کاری کا جرم ایف آئی اے کے شیڈول میں شامل کر دیا گیا ہے اور وفاقی تحقیقاتی ادارہ آئندہ چند ہفتوں میں اس لعنت کے خلاف موثر کام کرے گا۔
وزیر داخلہ نے کہا کہ خانانی اور کالیا کمپنی نے صرف دو ہزار پانچ سے دوہزار آٹھ کے عرصے کے دوران ایک سو ارب روپے بیرون ملک منتقل کیے، ایف آئی اے نے اس عرصے میں دس لاکھ   سے زائد کے لین دین کا سراغ لگایا۔
چوہدری نثار نے کہا کہ الطاف حسین کو آئندہ ماہ کی پندرہ تاریخ سے پہلے انٹرپول کے ذریعے وطن واپس لانے کے لئے اس کے ریڈ وارنٹ جاری کرنے کی تیاریاں کی جارہی ہیں انہوں نے کہاکہ اس کیس کا مضبوط قانونی پہلو ہے۔
ڈان لیکس سے متعلق سوالوں کے جواب دیتے ہوئے وزیرداخلہ نے کہا کہ یہ معاملہ خوش اسلوبی سے طے کرلیا گیا ہے اور اس پر سیاست نہیں ہونی چاہیے انہوں نے کہا کہ طریقہ کار کے امور پر اختلاف تھے جو طے کرلئے گئے ہیں۔
وزیر داخلہ نے کہا کہ ایک کمیٹی نے معاملے کی تحقیقات کی اور حکومت نے اس کے کام میں مداخلت نہیں کی ، انہوں نے کہا کہ فوج کمیٹی کی سفارشات پر حقیقی معنوں میں عملدرآمد چاہتی تھی اور ایسا ہی کیا گیا۔
انہوں نے کہا کہ سول ملٹری تعلقات ایک حساس معاملہ ہے اور ہمیں ملک کی سلامتی سے نہیں کھیلنا چاہیے۔