Monday, 16 December 2019, 02:32:09 am
بانڈی پورہ میں بھارتی فوج نے جعلی مقابلے میں مزید دو نوجوانوں کو شہید کر دیا
November 11, 2019

فائل فوٹو

مقبوضہ کشمیرمیں 5اگست سے بھارت کی طرف سے جاری فوجی محاصرے اور مواصلاتی پابندیوں کے باعث مقبوضہ وادی کشمیر اور جموں کے مسلم اکثریتی علاقوں اور لداخ میں مسلسل 99ویں روز بھی معمولات زندگی مفلو ج ہیں۔

کشمیرمیڈیاسروس کے مطابق مقبوضہ علاقے میں دفعہ 144 کے تحت سخت پابندیاں عائد ہیں جبکہ پری پیڈموبائل فون اور انٹرنیٹ سروسز5 اگست سے مسلسل معطل ہیں۔ تاہم لینڈ لائن فون اور پوسٹ پیڈ موبائل فون سروس جزوی طورپر بحال کئے گئے ہیں۔

خاموش احتجاج کے طور پر وادی کشمیر کے لوگ اپنی دکانیں اور کاروباری مراکز صرف صبح اور شام کے وقت کچھ گھنٹوں کیلئے کھولتے ہیں جبکہ تعلیمی ادارے اور دفاترویرانی کا منظر پیش کر رہے ہیں اور سڑکوں پر پبلک ٹرانسپورٹ معطل ہے۔

شمالی کشمیر کے قصبے سوپور میں پولیس نے تین مطلوب عسکریت پسندوں کی تصاویر جاری کی ہیں اور ان کے بارے میں اطلاع دینے والے کے لئے دس لاکھ روپے کے انعام کا اعلان کیا ہے۔

نیشنل کانفرنس نے عیدمیلاد النبی ۖ کے موقع پر درگاہ حضرت بل میں مذہبی اجتماع منعقد کرنے کی اجازت نہ دینے پر قابض انتظامیہ کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہاہے کہ اس طرح کے اقدامات لوگوں کی مذہبی آزادی سلب کرنے کے مترادف ہیں۔

ادھرتامل ناڈو کی حزب اختلا ف کی مرکزی جماعتDMKنے مقبوضہ کشمیر کو ایک بڑی جیل میں تبدیل کرنے پر بھارتی حکومت کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا ہے اور مقبوضہ علاقے کے جذبات کا احترام کرنے پر زوردیا ہے۔ چنائے میں DMKکی جنرل کونسل کے اجلاس میں منظور کی گئی ایک قرارداد میں مقبوضہ کشمیر کی اسمبلی اورعوام کی منظوری کے بغیر بھارت کے 5اگست کے یکطرفہ اقدامات کی مذمت کی۔ قرارداد میں مقبوضہ کشمیرمیں گرفتار کئے گئے تمام کشمیریوں کی فوری رہائی کا مطالبہ بھی کیاگیا ہے ۔

ادھر بھارتی فوج نے ضلع بانڈی پورہ کے علاقے Lawdara میںایک جعلی مقابلے میں دو نوجوانوں کو شہید کردیا ہے۔

ایک نوجوان کو علاقے میں جاری کارروائی کے دوران گزشتہ روز جبکہ دوسرے کو آج صبح سویرے شہید کیا گیا۔کشمیر میڈیا سروس کے مطابق بھارتی حکومت کی طر ف سے جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کئے جانے کے باعث تنازعہ کشمیر کی گونج برطانیہ کی انتخابی مہم کے دوران سنائی دے رہی ہے۔

تارکین ون کشمیری ووٹرز کو قائل کرنے کے لئے سوشل میڈیا کے پیغامات اور چیٹ گروپس استعمال کررہے ہیں۔ اس حوالے سے کشمیر پر مثبت موقف کی وجہ سے حزب اختلاف کی لیبر پارٹی ان کی پسندیدہ قرار دی جارہی ہے کیونکہ وہ مسئلہ کشمیر حل کرانے کے لئے بین الاقوامی مداخلت کے حق میں قرارداد منظور کرچکی ہے۔