Wednesday, 26 June 2019, 08:59:05 pm
آئندہ مالی سال کیلئے سات ہزار بائیس ارب روپے کے وفاقی بجٹ کا اعلان
June 11, 2019

آئندہ مالی سال کیلئے سات ہزار بائیس ارب روپے کے مجموعی حجم کے وفاقی بجٹ میں غرباء کیلئے سہولیات، معاشی استحکام کیلئے اقدامات اور مالیاتی نظم ونسق کا اعلان کیا گیا ہے۔

مالیاتی امور کے وزیر مملکت حماد اظہر نے منگل کے روز سہ پہر قومی اسمبلی میں بجٹ تجاویز پیش کیں۔ ختم ہونے والے مالی سال کے چارہ ہزار نو سو سترہ ارب بیس کروڑ روپے کے بجٹ تخمینے کے مقابلے میں آئندہ مالی سال کیلئے وسائل کی فراہمی کا تخمینہ سات ہزار آٹھ سو ننانوے ارب دس کروڑ روپے لگایا گیا ہے۔

مجموعی محصولات کی وصولی کا تخمینہ چھ ہزار سات سو سترہ ارب روپے لگایاگ یا ہے جو کہ ختم ہونے والے مالی سال کے تخمینے کے مقابلے میں اٹھارہ اعشاریہ سات فیصد زائد ہے۔

صوبوں کو مجموعی محصولات میں ان کے حصے کی منتقلی کے بعد آئندہ مالی سال کیلئے وفاقی حکومت کے پاس خالص محصولات کا تخمینہ تین ہزار چار سو تریسٹھ ارب روپے لگایا گیا ہے۔

آئندہ مالی سال کے لئے وفاقی ٹیکسوں میں صوبوں کے حصے کا تخمینہ تین ہزار دو سو چون اعشاریہ پچاس کروڑ روپے لگایا گیا ہے جو کہ ختم ہونے والے مالی سال کے بجٹ تخمینے کے مقابلے میں پچیس اعشاریہ سات فیصد زائد ہے۔

آئندہ مالی سال کیلئے ٹیکس آمدن کا تخمینہ پانچ کروڑ بیاسی لاکھ اکیس ہزار چھ سو روپے ہے جو کہ موجودہ مالی سال کے نظر ثانی شدہ تخمینے کے مقابلے میں 33 فیصد زیادہ ہے۔

اس میں سے ایف بی آر کا ٹیکس جمع کرنے کا ہدف پانچ ہزار پانچ سو پچاس ارب روپے ہے جو مجموعی قومی پیداوار کا 12 فیصد ہوگا۔

وزیرمملکت نے گریڈ ایک سے سولہ تک کے سرکاری ملازمین اور مسلح افواج کے تمام عملے کی تنحواہوں میں دس فیصد ایڈ ہاک اضافے کا اعلان کیا ۔

گریڈ سترہ سے بیس تک کے سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں پانچ فیصد اضافہ کیاجارہا ہے جبکہ گریڈ اکیس اور بائیس کے سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں اضافہ نہیں کیاگیا ۔

انہوں نے تمام پنشنرز کی پنشن میں بھی دس فیصد اضافے کا اعلان کیا ۔

کم سے کم اُجرت بھی بڑھا کر ساڑھے سترہ ہزار روپے کردی گئی ہے ۔

خصوصی افراد کوکنونس الائونس ایک ہزار روپے سے بڑھا کر دو ہزار روپے کردیا گیا ہے جبکہ وزارتوں اورپارلیمانی سیکرٹریز سے منسلک پرائیویٹ سیکرٹریوں کا خصوصی الائونس بڑھا کر پچیس فیصد کردیاگیا ہے ۔

وزیرمملکت نے کہا کہ کابینہ کے ارکان نے اپنی تنخواہوں میں رضا کارانہ طورپر دس فیصد کمی پراتفاق کیا ہے ۔

حماد اظہر نے کہاکہ تحریک انصاف کی حکومت نئے وژن ' لوگوں کی زندگیوں میں تبدیلی لانے ' میرٹ کو یقینی بنانے اور معاشرے کے محروم طبقات کے تحفظ کے عزم کے ساتھ برسراقتدار آئی ۔

حکومت نے معیشت کی سمت درست کرنے کیلئے کئی اقدامات کئے۔

درآمدی ڈیوٹی مین اضافہ کیاگیا اور درآمدات 49ارب ڈالر سے کم ہوکر 45 ارب ڈالر ہوگئیں ترسیلات زر میں دو ارب روپے تک کا اضافہ ہوا ۔

گردشی قرضے میں 12 ارب روپے فی ماہ کی شرح سے کمی کی گئی اور اس کو 38 ارب روپے کی سطح سے کم کرکے 26ارب ماہانہ تک لایاگیا ۔

چین ' متحدہ عرب امارات اور سعودی عرب سے ملنے والی مالی امداد سے معیشت کو مستحکم بنانے میں مدد ملی۔

برآمدی شعبے کیلئے مراعات میں مزید تین سال کیلئے اضافہ کیاگیا ۔

انہوں نے کہاکہ عالمی مالیاتی فنڈ کے ساتھ 6ارب ڈالر کا ایک پروگرام پر اتفاق ہوا ہے اس سے ہمیں نہایت رعائیتی نرخوں پر مزید دو سے تین ارب ڈالر کا قرضہ مل سکے گا سعودی عرب سے موخر ادائیگی کی سہولت پرملنے والے تیل سے حکومت پر دبائو کم کرنے میں مدد ملے گی ۔

اس سال حسابات جاریہ میں سات ارب ڈالر کی کمی ہوگی جو آئندہ سال ساڑھے چھ ارب ڈالرہوجائے گی۔

اثاثے ظاہر کرنے کی سکیم سے غیراعلان شدہ اثاثے منظر عام پر آئیںگے جس سے حکومت کی آمدن میں اضافہ ہوگا ۔

ٹیکس پالیسی کوٹیکس انتظامیہ سے الگ کیاگیا ہے ۔

پاکستان میں سرمایہ کاری کیلئے بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کے فائدے کیلئے پاکستان بنائو سرٹیفیکٹس کا اجراء کیاگیا۔

بلین ٹری سونامی اور سرسبز پاکستان پروگرام شروع کیے گئے فاٹا کو قومی دھارے میں لانے کیلئے خصوصی کوشش کی گئی ہے۔

انہوں نے کہاکہ نئے پاکستان میں ٹیکس چوری کا کلچر پر قابو پالیا جائے گا ۔

سول اور وفاقی اداروں نے اپنے بجٹ میں رضا کارانہ کمی پراتفاق کیا ہے۔

ا ن کا بجٹ 460 ارب سے کم کرکے 437 ارب روپے مقررکیاگیا ہے۔

معاشرے کے نادار طبقے کے تحفظ کے بارے میں وزیر مملکت نے کہا کہ تین سو یونٹ سے کم بجلی استعمال کرنے والے 75فیصد صارفین کو دوسوسولہ ارب روپے کی اعانت دی جائے گی۔

حکومت نے غربت کے خاتمے کیلئے نئی وزارت تشکیل دی ہے ۔

بچوں اور حاملہ خواتین کو غذائیت سے بھرپور خوراک کی فراہمی کی غرض سے دس لاکھ افراد کیلئے راشن کارڈ سکیم شروع کی جارہی ہے ۔

انہوں نے کہا کہ اسی ہزار افراد کو ہرماہ بلاسود قرضے فراہم کئے جائیںگے ۔

پانچ سو کفالت مراکز قائم کئے جائیںگے جہاں معذور افراد کو امداد دی جائے گی ۔

معمرافراد کیلئے احساس ہومز تعمیر کئے جائیںگے ۔

بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کے تحت سہ ماہی کی بنیاد پر وظیفہ کی رقم پانچ ہزار سے بڑھا کر ساڑھے پانچ ہزار کی جارہی ہے۔

پچاس اضلاع میں لڑکیوں کیلئے وظائف کی رقم کو ساڑھے سات سو روپے سے بڑھا کر ایک ہزار روپے کیاجارہا ہے جبکہ اس منصوبے کے دائرہ کار کو ایک سو ضلعوں تک پھیلایاجارہاہے۔

انہوں نے کہاکہ بیالیس ضلعوں میں بتیس لاکھ افراد کو صحت سہولت کارڈز فراہم کئے جائیںگے جبکہ دوسرے مرحلے میں قبائلی اضلاع اورتھرپارکر سمیت ملک بھر میں ڈیڑھ کروڑ افراد کو یہ کارڈز فراہم کئے جائیںگے ۔

حماد اظہر نے کہاکہ تعلیم' صحت ' غذائیت اور پینے کے صاف پانی کیلئے 93 ارب روپے مختص کئے جارہے ہیں ۔

وزیرمملکت نے کہاکہ حکومت سٹیٹ بنک سے قرضے نہیں لے گی اور ہم بہتر نظم ونسق اور انسداد بدعنوانی پرتوجہ دیںگے۔

انہوں نے کہا کہ ریل اور سڑکوں کیلئے200 ارب روپے تجویز کئے گئے ہیں جس میں سے 156 ارب روپے نیشنل ہائی وے اتھارٹی کے ذریعے خرچ کئے جائیں گے۔

وزیر مملکت نے کہا کہ توانائی کے لئے 80 ارب روپے تجویز کئے گئے ہیں جس میں سے 55 ارب روپے داسو پن بجلی منصوبے پر خرچ ہوں گے۔

انہوں نے کہا کہ انسانی ترقی کے شعبے کیلئے 60 ارب روپے جبکہ اعلیٰ تعلیم کیلئے39 ارب روپے مختص کئے گئے ہیں۔

خزانے کے وزیر مملکت نے کہا کہ بلوچستان کی ترقی کی مد میں کوئٹہ کے ترقیاتی پیکج کے دوسرے مرحلے کیلئے دس ارب چالیس کروڑ روپے مختص کئے گئے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ کراچی میں نو ترقیاتی منصوبوں پر ساڑھے پینتالیس ارب روپے خرچ کئے جائٰں گے۔

حماد اظہر نے کہا کہ روزگار کے مواقع پیدا کرنا حکومت کی اہم ترجیحات میں شامل ہے کیونکہ پاکستان نوجوانوں کا ملک ہے جہاں نوجوانوں کی تعداد میں اضافہ ہورہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ وزیراعظم عمران خان کے پچاس لاکھ مکانات تعمیر کرنے پروگرام سے اٹھائیس صنعتوں کو فائدہ ہوگا اور نوجوانوں کیلئے روزگار کے موقع پیدا ہوں گے۔

انہوں نے کہا کہ اس منصوبے پر کام کی رفتار میں تیزی آرہی ہے اور اس سلسلے میں اسلام آباد، لاہور اور فیصل آباد میں اراضی حاصل کرلی گئی ہے۔

انہوں نے کہا کہ وزیراعظم راولپنڈی اسلام آباد میں پچیس ہزار اور بلوچستان میں گیارہ ہزار مکانات کی تعمیر کے منصوبے کا پہلے ہی افتتاح کرچکے ہیں۔

وزیر مملکت نے کہا کہ کامیاب جوان پروگرام کے تحت نوجوانوں کو سو ارب روپے کے قرضے دیئے جائیں گے تاکہ وہ اپنا کاروبار شروع کرسکیں۔

وزیرمملکت نے کہا کہ حکومت صنعتی شعبے کے فروغ کیلئے مراعات اور اعانت دے رہی ہے تاکہ نوجوانوں کیلئے روزگار کے مواقع پیدا کئے جائیں۔

ان اقدامات میں توانائی کے شعبے میں 40ارب روپے کی اعانت اور برآمدی شعبے کیلئے 40ارب روپے کا پیکج شامل ہیں۔

انہوں نے کہا کہ حکومت صنعتی شعبے کیلئے طویل مدتی مالیاتی سہولیات برقرارکھے گی۔

وزیرمملکت نے کہا کہ حکومت زرعی شعبے کیلئے 280ارب روپے کا پانچ سالہ پروگرام شروع کررہی ہے گندم، چاول، گنے اور کپاس کی فی ایکڑ پیداوار بڑھانے کیلئے 44ارب 80کروڑ روپے فراہم کئے جارہے ہیں۔

زرعی ٹیوب ویلوں پر کسانوں کو چھ روپے پچاسی پیسے فی یونٹ اعانت دی جائیگی۔

وفاقی اور بلوچستان کی حکومتوں نے 40اور 60کے تناسب کے ساتھ بلوچستان کے کسانوں کیلئے ایک مشترکہ سکیم شروع کی ہے۔

اس سکیم کے تحت کسانوں سے دس ہزار روپے کا ماہانہ بل وصول کیا جائیگا جبکہ 75ہزار روپے کا بقیہ بوجھ دونوں حکومتوں کی طرف سے برداشت کیا جارہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ کسی آفت کے پیش نظر فصلوں کی تباہی کی صورت میں حکومت چھوٹے کسانوں کو انشورنس سکیم بھی فراہم کررہی ہے۔

اس مقصد کیلئے آئندہ مالی سال کے بجٹ میں دو ارب روپے پچاس کروڑ روپے رکھے گئے ہیں۔

حماد اظہر نے کہا کہ حکومت ریاستی اداروں کی تعمیر نو کیلئے ایک جامع پروگرام متعارف کرائے گی تاکہ نظم ونسق کو بہتر بنایا جائے اور قومی خزانے پر بوجھ میں کمی کی جائے۔

انہوں نے کہا کہ اس سال ایل این جی سے چلنے والے دو بجلی گھروں اور کچھ چھوٹے اداروں کی نجکاری کی جائے گی جس سے دو ارب ڈالر حاصل ہونے کی توقع ہے۔

انہوں نے کہاکہ پاکستان سٹیل ملز میں غیر ملکی سرمایہ کاری کیلئے رابطے ہوئے ہیں۔

حماد اظہرنے کہا کہ ترقیاتی بجٹ میں ڈیموں سمیت پانی سے متعلق منصوبوں پر خصوصی توجہ دی گئی ہے۔

اس مقصد کیلئے ستر ارب روپے مختص کئے گئے ہیں۔

ریل اور سڑکوں کے بنیادی ڈھانچے کے منصوبوں کے حوالے سے وزیر مملکت نے کہا کہ اربوں ڈالرمالیت کے چین پاکستان اقتصادی راہداری منصوبے پر خصوصی توجہ دی جائیگی اور اس مقصد کیلئے تقریبا دو سو ارب روپے مختص کئے گئے ہیں جس میں سے ایک سو چھپن ارب روپے شاہراہوں کے قومی ادارے کے ذریعے خرچ کی جائیگی۔

سڑکوں کے منصوبوں کی تفصیلات بتاتے ہوئے انہوں نے کہا کہ حویلیاں تھاکوٹ موٹروے کیلئے 24ارب روپے، برھان ہکلہ موٹروے کیلئے تیرہ ارب روپے اور سکھر ملتان موٹروے کیلئے 19ارب روپے مختص کئے جارہے ہیں۔

نجی اور سرکاری شعبے کی شراکت داری سے سوات ایکسپریس وے کو چکدرہ سے باغ ڈھیری تک توسیع دی جائیگی۔ سمبرایال کھاریاں موٹروے تعمیر کی جائیگی اور میانوالی مظفرگڑھ روڈ کو دو رویہ کیا جائیگا۔

خزانے کے وزیرمملکت نے کہا کہ بجٹ میں انسانی وسائل کی ترقی کیلئے اٹھاون ارب روپے مختص کئے جارہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ صحت، تعلیم، ترقیاتی اہداف اور ماحولیاتی تبدیلی پر قابو پانا ہماری ترجیحات میں شامل ہیں۔

اس مقصد کیلئے فنڈ فراہم کئے جائیںگے۔

محاصل کے وزیر مملکت نے کہا کہ مالی سال2019-20 کے دوران ہمارا مقصد ٹیکس کا دائرہ کار بڑھانا ہے۔

انہوں نے ٹیکس اور مجموعی قومی پیداوار کے تناسب میں کمی پر افسوس ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ ٹیکس ادا کئے بغیر ملک ترقی نہیں کرسکتا۔

انہوں نے سول حکومت اور فوجی قیادت کی جانب سے اپنے اخراجات میں کمی لانے کے رضاکارانہ فیصلے پر انہیں سراہا۔

انہوں نے کہا کہ سول اخراجات کو چار سو ساٹھ ارب سے کم کرکے 437 ارب روپے کرنے سے ان میں پانچ فیصد تک کمی لائی جاسکتی ہے۔

دفاعی اخراجات ساڑھے گیارہ سو ارب روپے پر برقرار رہیں گے۔

وزیر مملکت نے کہا کہ ہم ملکی دفاع اور سالمیت کے تحفظ کیلئے پرعزم ہیں اور ملک کی دفاعی صلاحیت پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔

موجودہ اقتصادی صورتحال کے حوالے سے حماد اظہر نے کہا کہ حکومت نے ذمہ داری کا مظاہرہ کرتے ہوئے اقتصادی استحکام کیلئے اقدامات کئے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ہم نے درآمدی ڈیوٹی میں اضافہ کیا ہے جس سے درآمدات میں کمی لانے میں مدد ملی ہے جو انچاس ارب ڈالر سے کم ہو کر پینتالیس ارب ڈالر مالیت کی سطح پر آگئی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ترسیلات زر میں دو ارب ڈالر کا اضافہ ہوا ہے۔

انہوں نے کہا کہ آئی ایم ایف کے پیکج سے ملک کو اقتصادی استحکام کی جانب گامزن کرنے میں مدد ملے گی۔

حکومت نے محصولات اکٹھے کرنے کیلئے جنرل سیلز ٹیکس میں سترہ فیصد کا اضافہ نہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

وزیر مملکت نے کہا کہ بھٹہ خشت پر موجودہ سترہ فیصد سیلز ٹیکس کم کرنے اور اسے ان کی گنجائش اور صلاحیت کے مطابق کرنے کی تجویز ہے۔

بیکریوں اور ریستورانوں پر سیلز ٹیکس کو سترہ فیصد سے کم کرکے ساڑھے سات فیصد کرنے کی تجویز ہے۔

وزیر مملکت نے دودھ' بالائی' خشک دودھ اور غیر ذائقہ دار دودھ پر یکساں دس فیصد ٹیکس عائد کرنے کی تجویز پیش کی۔

نئے بجٹ میں سٹیل کی متعدد مصنوعات پر سترہ فیصد فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی بطور سیلز ٹیکس عائد کرنے کی تجویز ہے۔

بجٹ میں ویلیو ریجن ون کے CNG ڈیلروں کیلئےCNG گیس کے نرخ64.68 روپے80 پیسے بڑھا کر 74 روپے چار پیسے فی کلو کر دیا گیا ہے۔

ریجن ٹو میں CNG گیس کے نرخ57 روپے60 پیسے سے بڑھا کر69 روپے57 پیسے فی کلو کردیا گیا ہے۔

بجٹ میں چینی پر سیلز ٹیکس8 فیصد سے بڑھا کر سترہ فیصد کرنے کی تجویز ہے جس سے چینی کی قیمت میں تین روپے 65 پیسے فی کلو اضافہ ہوگا۔

مرغ' بکرے اور بڑے گوشت اور مچھلی کی تیار اورنیم تیار مصنوعات پر سترہ فیصد سیلز ٹیکس عائد کرنے کی تجویز ہے۔

حماد اظہر نے کہا کہ حکومت کسٹمز کے نرخ معقول بنانے پریقین رکھتی ہے کیونکہ برآمدات اور مینو فیکچرنگ کے شعبے کے فروغ کیلئے یہ انتہائی اہمیت کا حامل ہے ۔

انہوں نے کہاکہ حکومت کسٹمز کے نرخ کے حوالے سے ایک پیکج کو حتمی شکل دے رہی ہے۔

انہوں نے کہاکہ ٹیکسٹائل مشینری اور اس کے پروزہ جات کو ڈیوٹی سے متثنی کردیاگیا ہے تاکہ معیشت کے اس اہم شعبے کو فروغ دیاجاسکے۔

انہوں نے کہاکہ کاغذ کی تیاری کیلئے استعمال ہونے والے خام مال پر بھی کوئی کسٹم ڈیوٹی نہیں لگائی گئی ۔

انہوں نے کہاکہ مختلف اقسام کے کاغذوں پرڈیوٹی بیس فیصد سے کم کرکے سولہ فیصد کی گئی ہے جس سے ملک میں کتابوں کی قیمتیں کم کرنے اور اشاعت کی صنعت کی حوصلہ افزائی کرنے میں مدد ملے گی ۔

قرآن پاک اشاعت کیلئے بھی خصوصی اقدامات کئے جارہے ہیں ۔

وزیرمملکت نے کہاکہ برآمدات کو فروغ دینے کیلئے مختلف اسکیموں کو سادہ بنایا جارہا ہے انہوں نے کہاکہ رواں مالی سال کے پہلے گیارہ ماہ کے دوران مختلف اسکیموں کے تحت صنعتی شعبے کو 124ارب روپے کی مراعات دی گئی ہیں۔

وزیرمملکت نے کہاکہ ملک میں جنگلات کے تحفظ اور فرنیچر بنانے والوں کی حوصلہ افزائی کیلئے لکڑی پرعائد ڈیوٹی کوختم کردیاگیا ہے جوکہ تین فیصد تھی ۔

لکڑی کے منصوعی پینلوں پر بھی عائد گیارہ فیصد ڈیوٹی کوکم کرکے تین فیصد کردیاگیا ہے انہوں نے کہاکہ تین صاف کرنے کیلئے بڑی صنعتوں پر استعمال ہونے والی مشینری اور پلانٹ کو بھی ڈیوٹی سے متثنی قراردیاگیا ہے ۔

ادویات کی تیاری میں استعمال ہونے والے خام مال کے 19 بنیادی اجزاء کو تین فیصد ٹیکس سے چھوٹ دینے کی تجویز ہے ۔

آئندہ مالی سال کے بجٹ میں ترقیاتی شعبے کیلئے ایک ہزار آٹھ سو تریسٹھ ارب روپے مختص کئے گئے ہیں ۔

سرکاری شعبے کے وفاقی ترقیاتی پروگرام کاحجم نوسواکاون ارب روپے ہے جس میں ایک سو ستائیس ارب روپے کی بیرونی امداد بھی شامل ہے ۔

اس کے علاوہ ' صوبائی سالانہ ترقیاتی منصوبوں کیلئے نوسوبارہ ارب روپے مختص کئے گئے ہیں ۔

حکومت نے آئندہ مالی سال کیلئے تمام ضلعوں کے ساتھ یکساں سلوک کرنے کے منصوبے ' خوراک کاتحفظ یقینی بنانے کیلئے زرعی شعبے میں اصلاحات' پانی کے تحفظ کیلئے بڑے ڈیموں کی تعمیر کو ترجیح دینے 'علمی معیشت کے شعبے میں اصلاحات اور نوجوانوں کو ہنرمند بنانے کی منصوبہ بندی کی ہے ۔

شہری اورعلاقائی منصوبہ بندی کے لائحہ عمل سمیت فزیکل پلاننگ اورتعمیرات کے مختلف منصوبوں پر عملدرآمد ' سمارٹ سٹی منصوبوں اور وزیراعظم کا نیا ہائوسنگ پروگرام اور کچی آبادیوں کی ترقی کے پروگرام سمیت مربوط حکمت عملی کے ترقیاتی منصوبوں کیلئے دوسو دس ارب روپے مختص کئے گئے ہیں۔

اسی طرح سرسبز وشاداب پاکستان کے پروگرام کے ذریعے ماحولیات کے تحفظ اور اس کی بہتری کے اقدامات اور دس ارب پودے لگانے کے سونامی شجری کاری پروگرام شروع کئے گئے ہیں۔

آئندہ مالی سال کیلئے سرکاری شعبے کے ترقیاتی پروگرام میں موسمیاتی تبدیلی کے شعبے کیلئے ایک ارب دس کروڑ بیس لاکھ روپے مختص کئے گئے ہیں ۔

قومی زرعی ہنگامی پروگرام کے تحت آئندہ پانچ برسوں کے دوران زرعی شعبے کی ترقی کیلئے دوسونوے ارب روپے خرچ کئے جائیںگے۔

یہ پروگرام تمام صوبوں کے تعاون سے شروع کیا جائے گا جس کا مقصد گندم'گنے' کپاس ' چاول اورتیل کے بیجوں سمیت اہم فصلوں کی پیداوار بڑھانا اور پانی کے موثر استعمال کویقینی بنانا اور اعلی معیار کی ماہی پروری کوفروغ دینا ہے۔

ترقیاتی بجٹ میں بچھڑوں کے تحفظ اور گھریلو سطح پر مرغبانی کے فروغ کیلئے اقدامات بھی شامل ہیں۔

آئندہ مالی سال میں نظم ونسق کے شعبے کیلئے پانچ ارب روپے مختص کئے گئے ہیں جس میں دو ارب چالیس کروڑ روپے کی بیرونی امداد بھی شامل ہے عوامی خدمت میں بہتری کیلئے عوامی شعبے کی استعداد کار بڑھائی جائے گی ۔

بجٹ میں خصوصی علاقوں کیلئے 63 ارب پچاس کروڑ روپے مختص کرنے کی تجویز دی گئی ہے جن میں خیبرپختونخوا میں ضم کردہ قبائلی اضلاع ' آزاد جموں وکشمیر اور گلگت بلتستان شامل ہیں اس کے علاوہ کم ترقی یافتہ علاقوں کی ترقی کا عمل تیز کرنے کی غرض سے مساوی علاقائی ترقی کے منصوبے کیلئے خصوصی طورپر 75 ارب روپے مختص کرنے کی تجویز ہے جبکہ خیبرپختونخوا میں ضم شدہ قبائلی اضلاع کے دس سالہ ترقیاتی منصوبے کیلئے بائیس ارب روپے الگ رکھے گئے ہیں۔

سالانہ ترقیاتی منصوبے کا مقصد انفارمیشن ٹیکنالوجی کے شعبے کی استعدادکار بہتربنانا ہے جس کیلئے بنیاڈی ڈھانچے کی سہولتیں مہیا کرنے کے علاوہ انسانی وسائل کی بہتری کیلئے ترقی ہنر اورشہریوں کیلئے پبلک ای سروس پرعملدرآمد تیز کیاجائے گا ۔

آئندہ مالی سال میں خاندانی منصوبہ بندی کی خدمات سے استفادہ کرنے کیلئے موثر آگاہی مہم اور آبادی کے شعبے کے منصوبوں کیلئے قرضوں کے حصول کی حوصلہ افزائی پرخصوصی توجہ دی جائے گی۔

آئندہ مالی سال میں اعلی تعلیمی کمیشن کے جاری اور نئے منصوبوں کیلئے 28ارب 64 کروڑ 60 لاکھ روپے مختص کی تجویز ہے ۔

ٹیکنالوجی کی بنیاد پرعلم کی ترقی کے بارے میں ٹاسک فورس کے تجویز کردہ منصوبوں کیلئے مختص رقم ایچ ای سی کے بجٹ کے علاوہ ہوگی۔

ایچ ای سی کا بجٹ یونیورسٹیوں کو عالمی معیار کے تعلیمی اداروں میں بدلنے اور محققین کی جدت پسند سوچ کی حوصلہ افزائی پرخرچ کیاجائے گا ۔

بجٹ میں وزارت سائنس وٹیکنالوجی کیلئے چھ ارب تئیس کروڑ دس لاکھ روپے مختص کرنے کی تجویز دی گئی ہے ۔

اس میں جاری منصوبوں کیلئے بانوے کروڑ دس لاکھ روپے اور نئے منصوبوں کیلئے پانچ ارب اکتیس کروڑ روپے شامل ہیں۔

آئندہ سال کے دوران روزگار کی فراہمی اور ہنر مندی کے فروغ کیلئے حکومت کے مجوزہ پروگراموں سے ملک میں غربت اور بیروزگاری میں کمی آئے گی۔

منصوبے میں منڈی کی طلب کے مطابق شعبوں میں سرکاری اور نجی شعبے کی شراکت داری کے ذریعے ملک کے مختلف حصوں تک رسائی سے فنی اور پیشہ وارانہ تربیت کے فروغ اور اس کی فراہمی پر خصوصی توجہ دی گئی ہے۔

صحت کے شعبے کیلئے مختص رقوم اور اس شعبے کے اہداف حاصل کرنے کیلئے اہم پروگرام شروع کئے جارہے ہیں جن میں معاون طبی عملے کی تعداد میں اضافہ ، لیڈی ہیلتھ ورکرز پروگرام کی توسیع ، بنیادی مراکز صحت میں خواتین میڈیکل آفیسرز کی تعیناتی سمیت ہنر مند عملے کی فراہمی کے ذریعے صحت کی سہولتوں میں بہتری، صحت کے شعبے میں ہنگامی خدمات کی فراہمی کے نظام کا آغاز، حفاظتی ٹیکوںکے قومی منصوبے پر عملدرآمد اور صحت کے بارے میں معلومات اور امراض کی روک تھام کا پروگرام شامل ہیں۔

معاشرے کے محروم طبقات کی صحت کی سہولتوں تک رسائی کے لئے مائیکرو ہیلتھ انشورنس سکیموں کو سماجی تحفظ کے پروگراموں کا حصہ بنایا جائے گا۔

پاکستان ٹیلی ویژن اور ریڈیو پاکستان کی ملک کے دور افتادہ علاقوں تک رسائی کیلئے دونوں اداروں کی ڈیجیٹلائزیشن اور ان کے نشریاتی ڈھانچے کیلئے اکاون کروڑ ساٹھ لاکھ روپے سے زائد مختص کئے گئے ہیں۔

ریڈیو پاکستان کی خدمات کو نئے علاقوں تک رسائی دی جائے گی۔

پاکستان کے عظیم اور اور متنوع ثقافتی ورثے کے تحفظ اور فروغ کیلئے بارہ کروڑ اسی لاکھ روپے سے زیادہ رقم مختص کی گئی ہے۔

وزیرمملکت برائے اقتصادی امور حماد اظہر نے ملک کی اقتصادی صورتحال کاجائزہ پیش کرتے ہوئے کہا کہ جب پاکستان تحریک انصاف کی حکومت نے اقتدار سنبھالا تو ملک کو 97 ارب ڈالر کے بیرونی قرضے سمیت 31000 ارب روپے کے مجموعی قرضے کا سامنا تھا ۔

غیرملکی زرمبادلہ کے ذخائر 10 ارب ڈالر رہ گئے تھے ۔

انہوں نے کہاکہ تجارتی خسارہ 32 ارب ڈالر تھا جبکہ موجودہ جاری کھاتوں پر خسارہ 20ارب ڈالر تک پہنچ گیا تھا یہ سب سابقہ حکومت کے خراب مالیاتی نظم ونسق کے باعث ہوا ۔

گردشی قرضہ 38 ارب روپے فی ماہ کی شرح سے اضافے کے ساتھ ایک ہزار دوسو ارب روپے تک پہنچ گیا تھا ۔

سرکاری شعبے کے اداروں کو ایک ہزار تین سو ارب روپے کے نقصان کا سامنا تھا یہ صورتحال ناپائیدار تھی جس کے نتیجے میں دسمبر2017ء میں روپے کی قدر میں کمی شروع ہوگئی۔

انہوں نے کہاکہ حکومت نے معیشت کی سمت درست کرنے کیلئے کئی اقدامات کئے ۔

برآمدی ڈیوٹی میں اضافہ کیاگیا اور برآمدات 49ارب ڈالر سے کم ہوکر 45ارب ڈالر ہوگئیں۔

گردشی قرضے میں 12 ارب روپے فی ماہ کی شرح سے کمی کی گئی اوراس کو 38ارب روپے کی سطح سے کم کرکے 26ارب روپے فی ماہ تک لایاگیا ۔

چین' متحدہ عرب امارات اور سعودی عرب سے ملنے والی مالی امداد سے معیشت کومستحکم بنانے میں مدد ملی ۔

برآمدی شعبے کیلئے مراعات میں تین مزید سال کیلئے اضافہ کیاگیا ۔

انہوں نے کہاکہ عالمی مالیاتی فنڈ کے ساتھ 6 ارب ڈالر کا ایک پروگرام طے کیاگیا ہے۔

اس سے ہمیں انتہائی آسان شرائط پر دو سے تین ارب ڈالر قرضہ لینے میں مدد ملے گی۔ سعودی عرب سے تیل کی موخر ادائیگیوں کی سہولت سے بھی حکومت پر دبائو کم ہوگا۔

اس سال حسابات جاریہ کے خسارے میں سات ارب ڈالر کمی اور اگلے سال ساڑھے چھ ارب ڈالر کمی کی جائے گی۔

اثاثے ظاہر کرنے کی سکیم سے حکومت کی آمدن میں اضافے میں مدد ملے گی۔

ٹیکس پالیسی کو ٹیکس انتظامیہ سے الگ کیا گیا ہے۔

بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کے فائدے کیلئے پاکستان بنائو سرٹیفکیٹ جاری کئے گئے ہیں تاکہ وہ ملک میں سرمایہ کاری کرسکیں۔

بلین ٹری سونامی اور کلین اینڈ گرین پاکستان منصوبے شروع کئے گئے ہیں تاکہ موسمی تغیرات سے نمٹا جاسکے۔

انہوں نے کہا کہ نیا پاکستان میں ٹیکس چوری کا خاتمہ ہو جائے گا ۔

سول اور دفاعی حکام نے اپنے بجٹ میں رضاکارانہ کمی پر اتفاق کیا ہے۔

ا ن کا بجٹ 460 ارب سے کم کرکے 437 ارب روپے مقررکیاگیا ہے۔

معاشرے کے نادار طبقے کے تحفظ کے بارے میں وزیر مملکت نے کہا کہ تین سو یونٹ سے کم بجلی استعمال کرنے والے 75فیصد صارفین کو دوسوسولہ ارب روپے کی اعانت دی جائے گی۔

حکومت نے غربت کے خاتمے کیلئے نئی وزارت تشکیل دی ہے ۔

بچوں اور حاملہ خواتین کو غذائیت سے بھرپور خوراک کی فراہمی کی غرض سے دس لاکھ افراد کیلئے راشن کارڈ سکیم شروع کی جارہی ہے ۔

انہوں نے کہا کہ اسی ہزار افراد کو ہرماہ بلاسود قرضے فراہم کئے جائیںگے ۔

پانچ سو کفالت مراکز قائم کئے جائیںگے جہاں معذور افراد کو امداد دی جائے گی ۔

معمرافراد کیلئے احساس ہومز تعمیر کئے جائیںگے ۔

بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کے تحت سہ ماہی کی بنیاد پر وظیفہ کی رقم پانچ ہزار سے بڑھا کر ساڑھے پانچ ہزار کی جارہی ہے ۔

پچاس اضلاع میں لڑکیوں کیلئے وظائف کی رقم کو ساڑھے سات سو روپے سے بڑھا کر ایک ہزار روپے کیاجارہا ہے جبکہ اس منصوبے کے دائرہ کار کو ایک سو ضلعوں تک پھیلایاجارہاہے۔

انہوں نے کہاکہ بیالیس ضلعوں میں بتیس لاکھ افراد کو صحت سہولت کارڈز فراہم کئے جائیںگے جبکہ دوسرے مرحلے میں قبائلی اضلاع اورتھرپارکر سمیت ملک بھر میں ڈیڑھ کروڑ افراد کو یہ کارڈز فراہم کئے جائیںگے ۔

حماد اظہر نے کہاکہ تعلیم' صحت ' غذائیت اور پینے کے صاف پانی کیلئے 93 ارب روپے مختص کئے جارہے ہیں ۔

 وزیرمملکت نے کہاکہ حکومت سٹیٹ بنک سے قرضے نہیں لے گی اور ہم بہتر نظم ونسق اور انسداد بدعنوانی پرتوجہ دیںگے۔

انہوں نے کہا کہ ریل اور سڑکوں کیلئے200 ارب روپے تجویز کئے گئے ہیں جس میں سے 156 ارب روپے نیشنل ہائی وے اتھارٹی کے ذریعے خرچ کئے جائیں گے۔

وزیر مملکت نے کہا کہ توانائی کے لئے 80 ارب روپے تجویز کئے گئے ہیں جس میں سے 55 ارب روپے داسو پن بجلی منصوبے پر خرچ ہوں گے۔

انہوں نے کہا کہ انسانی ترقی کے شعبے کیلئے 60 ارب روپے جبکہ اعلیٰ تعلیم کیلئے39 ارب روپے مختص کئے گئے ہیں۔

خزانے اور اقتصادی امور کے وزیرمملکت مالیاتی بل 2019 ء قومی اسمبلی میں پیش کیا ۔

بل کا مقصد آئندہ مالی سال کیلئے وفاقی حکومت کی مالیاتی تجاویز کومنظور کرنا اور بعض قوانین میں ترمیم کرنا ہے۔

ایوان کا اجلاس اب جمعے کو دن ساڑھے دس بجے ہوگا۔

اس سے پہلے وزیراعظم عمران خان کی صدارت میں وفاقی کابینہ کا اجلاس ہوا جس میں مالی سال 2019-20 کیلئے بجٹ تجاویز کی منظوری دی گئی ۔

کابینہ نے معاشی استحکام ' پائیدار ترقی کفایت شعاری ' محاصل میں اضافے اور پسماندہ طبقات کی بہتری سے متعلق تجاویر پر غور کیا ۔