صدر کاسائنس و ٹیکنالوجی کے ابھرتے ہوئے شعبوں میں اعلیٰ تعلیم اور تحقیق پرتوجہ مرکوز کرنے کی ضرورت پر زور
10 ستمبر 2017 (14:43)
0

صدر ممنون حسین نے مسلم اُمہ پر دور حاضر کے چیلنجوں سے نمٹنے کے لئے سائنس و ٹیکنالوجی کی ترقی کے لئے مشترکہ کوششیں کرنے پر زوردیا ہے۔وہ سائنس و ٹیکنالوجی کے بارے میں اسلامی تعاون تنظیم کے دو روزہ سربراہ اجلاس سے خطاب کررہے تھے جو اتوار کے روز قازقستان کے دارالحکومت آستانہ میں شروع ہوا۔ صدر نے کہا کہ نئی ایجادات پر مبنی سائنس و ٹیکنالوجی کے شعبوں میں تیزی سے تبدیلیاں رونما ہورہی ہیں۔
انہوں نے اس بات پر زوردیا کہ مسلم امہ کو زرعی پیداوار میں بہتری لانے اور زرعی ٹیکنالوجی کے شعبے کی ترقی پر اشد توجہ دینے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہاکہ عصر حاضر کے تقاضوں کے مطابق سائنس و ٹیکنالوجی کی ترقی کو ترجیح دئیے بغیر عوام کی ترقی اور خوشحالی ممکن نہیں۔ صدر نے کہاکہ تعلیم اور صحت مند افرادی قوت کی مضبوط بنیادوں کے ساتھ ہی یہ بات ممکن ہوگی کہ سائنس اور ٹیکنالوجی کے شعبوں میں اعلیٰ تعلیم اور تحقیق پر توجہ دی جائے۔ انہوں نے کہاکہ ترقی، خوشحالی اور نئی نسل کے محفوظ مستقبل کیلئے مسلم امہ میں اتحاد ناگزیر ہے۔
ممنون حسین نے کہا کہ پاکستان نے عالمی اسلام کے اتحاد اور فلاح و بہبود کے لئے قابل تعریف کردار ادا کیا ہے اور اس سلسلے میں اپنی کوششیں جاری رکھے گا۔ انہوں نے اس بات پر افسوس ظاہر کیا کہ بحیثیت مسلمان ہم گزشتہ کئی صدیوں سے تعلیم کے شعبے پر توجہ دینے میں ناکام رہے ہیں، انہوں نے کہا کہ یہ اسلامی دنیا کیلئے انتہائی اہم ہے کہ وہ سیاست اور سماجی واقتصادی شعبوں میں خود انحصاری حاصل کریں تاکہ تعلیم کے شعبے میں ماضی کا سنہری دور بحال کیا جائے۔

سربراہ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے ترکی کے صدر رجب طیب اردوان نے کہاکہ ہم امن کے بغیر ترقی نہیں کرسکتے۔طیب اردوان نے کہاکہ مسلم امہ کو اتحاد اور یکجہتی کی ضرورت ہے مسلمان ملکوں کو میانمار میں تشدد کے خلاف مل کر کام کرنا ہوگا۔
انہوں نے کہاکہ عالمی ادارے کو بھی اس سلسلے میں ہمارے ساتھ تعاون کرنا چاہیے ،ا نہوںنے مزید کہاکہ سائنس اور ٹیکنالوجی کے بارے میں سربراہ اجلاس باقاعدگی سے منعقد کئے جانے چاہئیں۔
اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے قازقستان کے صدر Nursultan Nazarbayev نے کہا کہ دنیا میں اسلام تیزی سے پھیل رہا ہے۔انہوں نے کہاکہ سائنس کی دنیا میں دو شخصیات نے نوبل انعام حاصل کیا ہے جن میں ایک کا تعلق پاکستان اور دوسری کا مصرسے ہے۔