وہ دورے میں چانسلر اینجلا مرکل اور جرمن پارلیمنٹ کے صدر سے بات چیت کرینگے۔

وزیراعظم جرمنی کے دو روزہ دورے پر برلن پہنچ گئے
10 نومبر 2014 (17:28)
0

وزیراعظم نوازشریف \'جرمنی کے دوروزہ سرکاری دورے پر برلن پہنچ گئے ہیں۔ نوازشریف یہ دورہ جرمنی کی چانسلر اینجلا مرکل کی دعوت پر کررہے ہیں۔


اپنے دورے میں وہ چانسلر مرکل اور جرمن پارلیمنٹ کے صدرNORBERT LAMMERTسے بات چیت کریں گے۔


وزیراعظم \'پاکستان سرمایہ کاری بورڈ کے زیر اہتمام بزنس فورم سے بھی خطاب کریں گے جس میں بڑی تعداد میں جرمنی کے ممتاز تاجروں اور سرمایہ کاروں کی شرکت متوقع ہے۔ جرمنی دنیا میں پاکستان کا چوتھا بڑا تجارتی شراکت دارہے ۔پاکستان کی جرمنی کے ساتھ سالانہ تجارت کا حجم ڈھائی ارب ڈالر ہے۔


اس سے پہلے برلن پہنچنے پر صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے اُنہوں نے کہا کہ اُن کے جرمنی کے دورے کا مقصد دونوں ملکوں کے عوام کے باہمی مفاد کیلئے قریبی اقتصادی تعاون کو فروغ دینا ہے۔


نوازشریف نے کہا کہ جرمنی \'یورپی یونین میں پاکستان کا سب سے بڑا تجارتی شراکت دارہے۔ اُنہوں نے کہا کہ وہ جرمن چانسلر اور صدر سے پاکستان میں جرمنی کی سرمایہ کاری راغب کرنے کے طریقوں پر تبادلہ خیال کریں گے۔


اپنے چین کے دورے کے حوالے سے وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان اور چین کے دیرینہ دوستی پر مبنی تعلقات ہیں تاہم ان تعلقات میں اقتصادی روابط کو حال ہی میں اہمیت حاصل ہوئی ہے ۔اس سلسلے میں اُنہوں نے اپنے بیجنگ کے دورے میں چین کے ساتھ کئی معاہدوں پر دستخط کا ذکر کیا ۔ان معاہدوں کے پاکستان کی معیشت پر دور رس نتائج مرتب ہوں گے۔


اُنہوں نے کہا کہ پاکستان کو دھرنوں کی نہیں ترقی و خوشحالی کی ضرورت ہے۔ وزیراعظم نے کہا کہ سیاستدانوں سمیت پوری قوم کی توجہ اقتصادی ترقی پر مرکوز ہونی چاہیئے۔

وزیراعظم محمد نوازشریف جرمنی کے سرکاری دورے کے بعدبدھ سے برطانیہ کا دوروزہ دورہ کریں گے جہاں وہ پاکستان برطانیہ توانائی بات چیت اور سرمایہ کاری کانفرنس کا افتتاح کریں گے جو جمعرات کو لندن میں ہوگی۔


دفتر خارجہ کی ترجمان کے مطابق سرمایہ کاری کانفرنس 2014میں چیف ایگزیکٹیو افسران اور توانائی کے شعبے کی ممتاز شخصیات شریک ہوں گی۔ وزیراعظم برطانوی وزراء اور توانائی کے شعبے کے اعلیٰ حکام اور ماہرین سے بھی ملاقات کریں گے۔


توانائی کانفرنس میں پاکستان کی توانائی کی ضروریات کوپورا کرنے کیلئے پیشہ ورانہ مہارت کے تبادلے کے ذریعے سرمایہ کاری کے مواقع تلاش کرنے پر غور ہوگا۔