اسحق ڈار نے کہا کہ آئین کے مطابق عدالتی کمیشن صرف ججوں پر مشتمل ہوسکتاہے۔

حکومت خلاف آئین کوئی کام نہیں کرے گی: ڈار
10 نومبر 2014 (15:17)
0

وزیرخزانہ اسحق ڈار نے کہاہے کہ 2013کے عام انتخابات میں مبینہ دھاندلی کی تحقیقات کیلئے عدالتی کمیشن میں سیکیورٹی ایجنسیوں کے نمائندوں کو شامل نہیں کیاجاسکتا۔ اُنہوں نے یہ بات وزیراطلاعات پرویز رشید اور سائنس و ٹیکنالوجی کے وزیر زاہد حامد کے ہمراہ آج اسلام آباد میں ایک نیوز کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔


اسحق ڈار نے کہا کہ آئین کے مطابق عدالتی کمیشن صرف ججوں پر مشتمل ہوسکتاہے اور حکومت خلاف آئین کوئی کام نہیں کرے گی۔ اُنہوں نے کہا کہ وزیراعظم پہلے ہی تین رکنی عدالتی کمیشن کی تشکیل کیلئے سپریم کورٹ کو خط لکھ چکے ہیں جیسا کہ عمران خان نے مطالبہ کیاہے۔


تحریک انصاف کے ساتھ مذاکرات کے بارے میں اُنہوں نے کہا کہ حکومت قانون کے دائرہ کار میں رہتے ہوئے بات چیت اور کسی بھی قابل عمل تجویز پر عملدرآمد کرنے کو تیار ہے۔ اُنہوں نے کہا کہ احتجاجی دھرنوں کی سیاست نے غیر ملکی سرمایہ کاروں اور امداد دینے والے اداروں کے اعتماد کو نقصان پہنچایاہے ۔ اس کے باوجود حکومت نے ملک میں اقتصادی استحکام لانے کا عزم کررکھاہے ۔ اُنہوں نے کہا کہ زرمبادلہ کے ذخائر جلد پندرہ ارب ڈالر تک پہنچ جائیں گے۔


اسحق ڈار نے مستقبل کی انتخابی اصلاحات کے بارے میں کہا کہ اس سلسلے میں کام جاری ہے۔ اُنہوں نے تحریک انصاف کی کمیٹی کے ارکان پر زوردیا کہ وہ اس سلسلے میں اپنا کردار ادا کریں۔

ایک سوال پر اُنہوں نے کہا کہ حکومت کی کوشش ہے کہ چیف الیکشن کمشنر کی تعیناتی مقررہ مدت میں کردی جائے ۔ اُنہوں نے کہا کہ قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف سید خورشید شاہ آج تین نام دے دیں گے۔

اُنہوں نے کہا کہ اگر اس معاملے پر اتفاق رائے نہ ہوسکا تو پارلیمانی کمیٹی ایک اجلاس میں اس معاملے پر غور کرے گی۔ اس موقع پر وزیراطلاعات پرویزر شید نے کہا کہ عمران خان گزشتہ سترہ ماہ سے الزمات لگا رہے ہیں مگر اُنہوں نے اب تک کوئی ایک ثبوت پیش نہیں کیا۔