اپنے دورےکے دوران وہ جرمن چانسلر انجیلا مرکل اور جرمنی کی پارلیمنٹ کے صدر سے مذاکرات اور پاکستان سرمایہ کاری بورڈ کے زیر اہتمام ایک بزنس فورم سے بھی خطاب کریں گے

وزیراعظم2 روزہ سرکاری دورے پرجرمنی روانہ
10 نومبر 2014 (10:50)
0

وزیراعظم محمد نواز شریف جرمنی کے دو روزہ سرکاری دورے پر برلن روانہ ہوگئے ۔انہیں دورے کی دعوت جرمن چانسلر انجیلا مرکل نے دی ہے۔اپنے دورے کے دوران وہ جرمن چانسلر انجیلا مرکل اور جرمنی کی پارلیمنٹ کے صدر سے مذاکرات کریں گے۔

وزیراعظم پاکستان سرمایہ کاری بورڈ کے زیر اہتمام ایک بزنس فورم سے بھی خطاب کریں گے جس میں بڑی تعداد میں جرمنی کے تاجروں اور سرمایہ کاروں کی شرکت متوقع ہے۔
جرمنی دنیا میں پاکستان کا چوتھا اور یورپی یونین میں سب سے بڑا تجارتی شراکت دار ہے۔


پاکستان اور جرمنی کے درمیان دوطرفہ تجارت کا سالانہ حجم اڑھائی ارب ڈالر ہے۔

  ادھر ایک جرمن ٹیلی ویژن چینل کو دیئے گئے انٹرویو میں وزیراعظم نوازشریف نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ بجلی کی بحران سے ہر قیمت پر چھٹکارہ حاصل کیا جائے گا تاکہ جلد اقتصادی بحالی کو یقینی بنایا جاسکے۔وزیراعظم نے جرمن سرمایہ کاروں کو پاکستان میں خصوصاً توانائی اور زراعت کے شعبوں میں سرمایہ کاری کی دعوت دی۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان میں زراعت، افزائش حیوانات اور جنگلات کے شعبوں میں سرمایہ کاری کے بڑے مواقع ہیں اور جرمنی ان شعبوں میں ایک اہم شراکت دار ثابت ہوسکتا ہے۔ایک سوال پر نواز شریف نے کہا کہ پاکستان خطے میں امن کا خواہاں ہے اور افغانستان میں استحکام کو یقینی بنانے کیلئے زیادہ سے زیادہ تعاون کررہا ہے۔


انہوں نے کہا کہ دہشتگردی کا خاتمہ پاکستان اور افغانستان دونوں کے مفاد میں ہے جس سے ان دونوں ملکوں کی معاشی صورتحال بھی مضبوط بنانے میں مدد ملے گی۔ایک اور سوال پر وزیراعظم نے کہا کہ شمالی وزیرستان میں آپریشن ضرب عضب جاری ہے اور ہم دہشتگردی میں ملوث تمام تنظیموں اور گروہوں کے خاتمے کیلئے پرعزم ہیں۔