بنچ نے سکیورٹی اینڈ ایکسچینج کمیشن کے چیئرمین کیخلاف ایف آئی آر در ج کرنے کا بھی حکم دیا

مشترکہ تحقیقاتی ٹیم نےپانامہ پیپرزمقدمے میں اپنی حتمی رپورٹ سپریم کورٹ میں پیش کر دی
10 جولائی 2017 (07:12)
0

پانامہ پیپرز سے متعلق معاملات کی تحقیقات کیلئے سپریم کورٹ کی طرف سے قائم کردہ مشترکہ تحقیقاتی ٹیم نے آج اپنی حتمی رپورٹ عدالت عظمیٰ کے تین رکنی بینچ کو پیش کردی۔
بڑے بنچ کے فیصلے کے بعدقائم کئے گئے عملدرآمد بنچ کی سربراہی جسٹس اعجاز افضل کررہے ہیں بنچ کے دیگر ارکان میں جسٹس اعجاز احسن اور جسٹس عظمت سعید شیخ شامل ہیں۔
وفاقی تحقیقاتی ادارے کے ڈپٹی ڈائریکٹر جنرل واجد ضیاء کی سربراہی میں چھ رکنی تحقیقاتی ٹیم کو کام مکمل کرنے کیلئے ساٹھ دن دئیے گئے تھے۔
تحقیقاتی ٹیم نے فیڈرل جوڈیشل اکیڈمی اسلام آباد میں متعدد اجلاس منعقد کئے اس دوران وزیراعظم کے بڑے صاحبزادے حسین نواز تحقیقاتی ٹیم کے سامنے چھ بار، چھوٹے بیٹے حسن نواز تین بار اور صاحبزادی مریم نوازایک بار پیش ہوئیں۔
وزیراعظم نوازشریف خود گزشتہ ماہ کی15 تاریخ کو جبکہ پنجاب کے وزیراعلیٰ شہباز شریف گزشتہ ماہ کی 17 تاریخ کو مشترکہ تحقیقاتی ٹیم کے سامنے پیش ہوئے۔
اپنے بیانات قلمبند کرانے اور سوالوں کے جواب دینے والے دوسرے افراد میں قومی احتساب بیورو کے چیئرمین قمرزمان چوہدری، وزیراعظم کے داماد ریٹائرڈ کیپٹن محمد صفدر بھی شامل ہیں۔جے آئی ٹی نے حتمی رپورٹ کے علاوہ سپریم کورٹ کے عملدرآمد بنچ میں اپنی15 روزہ رپورٹس بھی جمع کرائیں۔

سماعت کے آغاز پر عملدرآمد بینچ نے مشترکہ تحقیقاتی ٹیم کے روبرو پیشی کے دوران تصویر لیک سے متعلق حسین نواز کی درخواست نمٹا دی۔بنچ نے کہا کہ وہ حکومت کو اختیار ہے کہ اگر ضرورت محسوس کرے تو فوٹو لیکس کرنے کے ذمہ دار شخص کا نام سامنے لائے۔بنچ نے کہا کہ وہ اس معاملے پر کمیشن تشکیل نہیں دے سکتا۔
بنچ نے سکیورٹی اینڈ ایکسچینج کمیشن کے چیئرمین کیخلاف ایف آئی آر در ج کرنے کا بھی حکم دیا بعد میں بنچ نے سماعت آئندہ پیر تک ملتوی کردی۔

یاد رہے کہ وفاقی تحقیقاتی ادارے کے ڈپٹی ڈائریکٹر جنرل واجد ضیاء کی سربراہی میں چھ رکنی تحقیقاتی ٹیم کو کام مکمل کرنے کیلئے ساٹھ دن دئیے گئے تھے۔
تحقیقاتی ٹیم نے فیڈرل جوڈیشل اکیڈمی اسلام آباد میں کئی اجلاس منعقد کئے اس دوران وزیراعظم کے بڑے صاحبزادے حسین نواز تحقیقاتی ٹیم کے سامنے چھ بار، چھوٹے بیٹے حسن نواز تین بار اور صاحبزادی مریم نواز اس ماہ کی پانچ تاریخ کو پیش ہوئیں۔
وزیراعظم نوازشریف خود گزشتہ ماہ کی15 تاریخ کو جبکہ پنجاب کے وزیراعلیٰ شہباز شریف گزشتہ ماہ کی 17 تاریخ کو تحقیقاتی ٹیم کے سامنے پیش ہوئے۔
اپنے بیانات قلمبند کرانے اور سوالوں کے جواب دینے والے دوسرے افراد میں قومی احتساب بیورو کے چیئرمین قمرزمان چوہدری اور وزیراعظم کے داماد ریٹائرڈ کیپٹن محمد صفدر بھی شامل ہیں۔
تحقیقاتی ٹیم نے حتمی رپورٹ کے علاوہ سپریم کورٹ کے عملدرآمد بنچ میں اپنی15 روزہ رپورٹس بھی جمع کرائیں۔