ترجمان دفتر خارجہ نے کہا ہے کہ پاکستان نے کسی امتیاز کے بغیر دہشت گردوں کے مکمل خاتمے کیلئے فوجی کارروائیاں کی ہیں۔

دفترخارجہ نے کہا ہے کہ بھارت کی ہٹ دھرمی پرمبنی پالیسیوں سے علاقائی امن وسلامتی کوخطرات لاحق ہیں
10 اگست 2017 (16:31)
0

پاکستان نے خبردار کیا ہے کہ ہمسایہ ملکوں کے حوالے سے بھارت کا مخاصمانہ رویہ نہ صرف علاقائی بلکہ عالمی امن و سلامتی کے لئے بھی خطرے کا باعث ہے۔جمعرات کے روز اسلام آباد میں ہفتہ وار نیوز بریفنگ کے دوران چین اوربھارت کی سرحدی کشیدگی سے متعلق سوال پر دفتر خارجہ کے ترجمان نفیس ذکریا نے کہا کہ بھارت اپنے ہمسایوں کی راہ میں رکاوٹیں ڈال رہاہے جس کے علاقائی اور عالمی امن و سلامتی پر براہ راست اثرات مرتب ہورہے ہیں۔

ایک اور سوال پر ترجمان نے کہاکہ مقبوضہ کشمیر میں بھارت کی طرف سے انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیاں، کنٹرو ل لائن پر بلا اشتعال فائرنگ اور مقبوضہ کشمیر کی آبادی کا تناسب بدلنے کی کوششوں سے بھی علاقائی امن کو خطرہ لاحق ہے اور اس کے اثرات عالمی امن و سلامتی پربھی مرتب ہوںگے۔

بعض شدت پسند گروپوں کی حمایت کی آڑ میں پاکستان کے حوالے سے امریکہ کی ممکنہ سخت پالیسی سے متعلق ذرائع ابلاغ کی رپورٹوں کے بارے میں ترجمان نے کہا کہ ذرائع ابلاغ کے پروپیگنڈے کے ذریعے یہ غلط فہمی پیدا کی گئی ہے۔انہوں نے کہا کہ پاکستان ایسے معاملات کو ذرائع ابلاغ کے بجائے مناسب سطح پر زیربحث لانے کو ترجیح دیتا ہے۔
تاہم ترجمان نے کہا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاکستان کا کردار قربانیاں اور کامیابیاں بے مثال ہیں اور اسے اس سلسلے میں دوسروں سے سند لینے کی کوئی ضرورت نہیں۔انہوں نے کہاکہ پاکستان نے کسی امتیاز کے بغیر دہشت گردوں کے مکمل خاتمے کیلئے فوجی کارروائیاں کی ہیں۔
ایک اور سوال پر نفیس ذکریا نے کہا کہ افغان تنازعے کا کوئی فوجی حل نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ مسئلے کا پائیدار حل مفاہمت اور امن بات چیت کے ذریعے ہی نکالا جاسکتاہے۔ترجمان نے کہاکہ پاکستان افغان پناہ گزینوں کی باوقار واپسی کا خواہاں ہے۔