Thursday, 21 March 2019, 10:20:50 am
وزیرخارجہ کا افغانوں کی سربراہی میں مصالحتی عمل کے ذریعے ملک کے سیاسی تصفیے پر زور
December 10, 2018

وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی نے افغانوں کی سربراہی میں مصالحتی عمل کے ذریعے ملک کے سیاسی تصفیے پر زور دیا ہے۔

پیر کے روز قومی اسمبلی میں ایک نکتہ اعتراض کے جواب میں انہوں نے کہا کہ افغان مسئلے کے سیاسی تصفیے کیلئے آگے بڑھنے کی غرض سے عالمی سطح پر اتفاق رائے پیدا کیا گیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ امریکہ، افغانستان ، پاکستان اور افغان طالبان اس مسئلے کے سیاسی تصفیے کے لئے مل بیٹھ کر بات چیت کرنے پر متفق ہیں۔

انہوں نے کہا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے وزیراعظم عمران خان کے نام ایک خط میں افغان مسئلے کے مذاکراتی تصفیے کیلئے پاکستان سے تعاون طلب کیا ہے۔

وزیر خارجہ نے کہا کہ پاکستان اس سلسلے میں مکمل تعاون کرے گا کیونکہ افغانستان میں امن اور استحکام اس کے اپنے ذاتی مفاد میں ہے۔

وزیر خارجہ نے کہاکہ افغانستان میں امن ایک مشترکہ ذمہ داری ہے اور تمام علاقائی ممالک کو اس مقصد کے حصول کیلئے ایک دوسرے سے تعاون کرنا چاہئے۔

پاکستان کی جانب سے کرتار پور راہداری کھولنے کے حوالے سے شاہ محمود قریشی نے کہا کہ یہ مسئلہ 1988 سے زیر التواء تھا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کی جانب سے بھارت کی سکھ برادری کی سہولت کیلئے راہداری کھولنے کا اقدام عالمی سطح پر جذبہ خیر سگالی کا اظہارہے۔

وزیر خارجہ نے کہا کہ ہم اپنے ہمسایہ ممالک کے ساتھ مذاکرات، تعاون ، امن اور استحکام کے ذریعے تمام تصفیہ طلب مسائل کا حل چاہتے ہیں۔

انہوں نے عزم ظاہر کیا کہ بھارتی حکومت کو کشمیر میں اپنی پالیسی پر نظر ثانی کرنی چاہئے اور کنٹرول لائن کی دونوں جانب رہائش پذیر لوگوں کو ایک دوسرے سے ملنے کیلئے سہولت فراہم کرنی چاہئے۔

ایوان نے متفقہ طور پر ایک قرار داد منظور کی جس میں ہرفرد کے ناقابل تنسیخ حقوق کے حصول کاعزم ظاہر کرتے ہوئے حکومت پر زور دیا گیا کہ وہ آئین پاکستان کے مطابق بنیادی حقوق کو یقینی بنائے۔

انسانی حقوق کی وزیرشیریں مزاری کی طرف سے پیش کی گئی قرار داد میں پریس کی آزادی سمیت اظہار رائے کی آزادی پر بھی زور دیا گیا ۔قرارداد میں کہا گیا کہ ایوان سمجھتا ہے کہ ملک میں غربت اور بھوک کم کرنے کی اشد ضرورت ہے۔

قرار داد میں کہا گیا کہ ریاست کی عوام کو سماجی اور اقتصادی بہتری کے حوالے سے تمام ذمہ داریاں پوری کرنی چاہیے۔

قرارداد میں کہا گیا کہ تمام سیاسی جماعتیں عہد کرتی ہیں کہ وہ خوشحالی، بین المذاہب ہم آہنگی، اقلتیوں کے حقوق، خواتین کو بااختیار بنانے، پائیدار ترقی اور امن کیلئے ملکر کام کریںگی۔

قرارداد میں کہا گیا کہ ایوان کے دو حصے ملک میں جمہوری قدروں کو مستحکم کرنے، قانون کی حکمرانی اور انسانی حقوق جبکہ بدعنوانی، ناانصافی اور انتہا پسندی کے خاتمے کیلئے کام کریںگی۔

ایک اور سوال کے جواب میں خارجہ امور کے بارے میں پارلیمانی سیکرٹری عندلیب عباس نے کہا کہ وزیراعظم عمران خان کے حالیہ دورہ چین کے دوران مختلف شعبوں سے متعلق پندرہ معاہدوں اور مفاہمت کی یادداشتوں پر دستخط کئے گئے۔

انہوں نے کہا کہ مفاہمت کی یادداشتوں میں سماجی واقتصادی ترقی میں تعاون میں اضافے، زرعی تعاون ، غربت کے خاتمے ، تجارتی اور معاشی تعلقات کو مضبوط کرنے اور انہیں فروغ دینے، سائنس اور ٹیکنالوجی میں تعلقات ، ماحولیاتی تبدیلی اور سیکورٹی کے شعبوں پر توجہ مرکوز رکھی گئی۔

انسانی حقوق کی وزیر شیریں مزاری نے کہا ہے کہ حکومت لاپتہ افراد کے مسئلے کے حل کیلئے پرعزم ہے۔

قومی اسمبلی میں ایک نکتہ اعتراض کے جواب میں انہوں نے کہا کہ کوئی جمہوری معاشرہ رات کی تاریکی میں شہریوں کے اغوا کی اجازت نہیں دیتا۔

انہوں نے کہا کہ بلوچ اور پشتون لوگوں ، اقلیتوں اور دوسرے پسے ہوئے طبقات کے تمام جائز مطالبات تسلیم کئے جانے چاہئیں۔

انہوں نے اس سلسلے میں جامع سوچ اپنانے کی ضرورت پر زور دیا۔

قومی اسمبلی کا اجلاس اب کل دن گیارہ بجے پھر ہوگا۔