Monday, 16 December 2019, 01:22:59 am
مقبوضہ کشمیر میں لوگوں کوعیدمیلادالنبیﷺ منانے کی اجازت نہیں دی گئی
November 10, 2019

مقبوضہ کشمیر میں تاریخ میں پہلی بار آنحضوررۖ کے یوم ولادت پر درگاہ حضرت بل سرینگر میں عید میلا د نبی ۖ کی تقریبات کا انعقا د نہیںکرنے دیا گیا ۔کشمیر کے دور دراز اضلا ع سے ہر برس ہزاروں لوگ عبادات اور آنحضورۖ کے موئے مقدس کی زیارت کیلئے درگاہ پہنچتے ہیں۔ درگاہ حضرت بل میں کئی صدیوں سے ہر برس بارہ ربیع الاول کو لوگوں کو موئے مقدس کی زیارت کرائی جاتی ہے ۔قا بض انتظامیہ نے اس بار درگاہ پر تقاریب کے انعقاد کی اجازت نہیں دی جس کی وجہ سے کشمیریوں کے مذہبی جذبات کو سخت ٹھیس پہنچی۔ کشمیر یوں نے قابض انتظامیہ کے مذموم اقدام کو مذہبی معاملات میں براہ راست مداخلت قرار دیدیا۔ سرینگر کے علاقے خواجہ بازار میں واقع حضرت نقشبند صاحب کی خانقاہ سمیت مقبوضہ وادی کی تمام بڑی مساجد اور درگاہوں میں بھی کشمیری مسلمانوںکومذہبی تقاریب کے انعقاد کی اجازت نہیں دی گئی ۔ سرینگر کی تاریخ جامع مسجد جو گزشتہ تین ماہ سے بند ہے میں بھی دعائیہ تقاریب کا انعقاد نہیںکرنے دیا گیا۔ لوگوں کو مسجد میں داخل ہونے سے روکنے کیلئے اس کے ارد گرد بڑی تعدادمیں بھارتی سینٹرل ریزرو پولیس فورس کے اہلکار تعینات ہیں۔ ادھر آج مسلسل 98 ویںروز بھی جاری رہنے والے بھارتی فوجی محاصرے کے باعث مقبوضہ وادی کشمیر اور جموںخطے کے لوگوںکو بدستور مشکلات کا سامنا رہا۔ دفعہ 144 کے تحت چاریا چار سے زائد افراد کے اکٹھے ہونے پر پابندی عائد ہے پری پیڈموبائیل فون اور انٹرنیٹ سروسز سمیت مواصلاتی ذرائع معطل ہیں۔ سرینگر میں صحافیوںکی سہولت کیلئے قائم کئے گئے میڈیاسینٹر میں بھی گزشتہ تین دنوں سے انٹرنیٹ معطل ہے جس کی وجہ سے صحافیوں میں شدید تشویش پائی جاتی ہے ۔ کشتواڑ اور جموں ریجن کے ملحقہ علاقوں میں بدستور کرفیو نافذ ہے جبکہ ایودھیا میں بھارتی سپریم کورٹ کے بابری مسجد کے بارے میں فیصلے کے تناظر میں جموں ریجن کے نو دیگر اضلاع میں کرفیو نافذ کردیاگیا ہے ۔جموں شہر میں تمام دکانیں اور کاروباری مراکز بند ہیں اور سڑکوں پر ٹریفک معطل ہے۔